?>?> ایران کیساتھ مقابلے کی حکمت عملی ناکام ہو چکی، تل ابيب واشنگٹن کی وارننگ پر کان دھرے، صیہونی جنرل - اسلام ٹائمز
0
Wednesday 24 Nov 2021 21:27

ایران کیساتھ مقابلے کی حکمت عملی ناکام ہو چکی، تل ابيب واشنگٹن کی وارننگ پر کان دھرے، صیہونی جنرل

ایران کیساتھ مقابلے کی حکمت عملی ناکام ہو چکی، تل ابيب واشنگٹن کی وارننگ پر کان دھرے، صیہونی جنرل
اسلام ٹائمز۔ غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کی سابق انٹیلیجنس چیف اور صیہونی پالیسی ساز ادارے (Institute for Policy and Strategy-IPS) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عاموس گلعاد (Maj. Gen. (res.) Amos Gilead) نے ریڈیو اسرائیل کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف اسرائیلی حملوں کو بیہودہ قرار دیا اور اس حوالے سے امریکی وارننگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم (اس وارننگ پر عمل سے) کون راضی نہیں! کیا ہمارے پاس امریکہ جیسے اتحادی سے بڑھ کر اس کا کوئی نعم البدل موجود ہے؟ صیہونی جنرل نے کہا کہ سوچ کا وہ انداز جس کی سفارش کی جا رہی ہے ذرا مختلف ہے.. کیا ہم نے ایران کی جانب سے لاحق خطرات سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لئے کوئی طریقۂ کار اپنا لیا ہے؟.. عاموس گلعاد نے کہا کہ اس حوالے سے بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں چلنے والی سابق حکومت کی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے کیونکہ ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) کی ناکامی میں اسی کا سب سے بڑا ہاتھ تھا جبکہ اس (معاہدے کی ناکامی) کے بعد ایران نے قابل قدر ترقی کی ہے۔

عرب اخبار رأی الیوم کے مطابق صیہونی میجر جنرل عاموس گلعاد نے دعوی کیا کہ حاصل شدہ (ایرانی جوہری) معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کی جانب امریکہ کو دکھیلے جانے کے سیاسی نتائج؛ خطرات کے لاحق کئے جانے کے حوالے سے ایران کی قابل قدر و ڈرامائی ترقی کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں جبکہ آج ایران کی جانب سے لاحق خطرات ایک ایسی حد تک پہنچ چکے ہیں کہ جہاں قبل ازیں کبھی نہ پہنچے تھے.. یہ ایک تزویراتی شکست ہے! عاموس گلعاد نے کہا کہ ہم تاحال سیاسی اعتبار سے کامیاب نہیں ہو پائے کیونکہ ہم نے "معاہدے کی پابندی کے ذریعے ایران کے ساتھ مقابلے" کے نظریئے پر عل نہیں کیا۔ صیہونی جنرل نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف جنرل گادی ائزنکوٹ نے اس حوالے سے کام کیا اور ایک معاہدہ حاصل ہو گیا جبکہ موساد کے چیف نے اس کو توڑنے کے لئے کام کیا جو اس معاہدے کے ٹوٹنے کا سبب بنا اور پھر ایران ترقی کر گیا! اسرائیلی جنرل نے اپنی گفتگو کے آخر میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں توقع رکھنی چاہئے کہ امریکہ ایران کو اس بات پر قائل کر لے گا کہ اگر جوہری ہتھیاروں کی تیاری ممکن ہوئی تو وہ تمام دفاعی توازن جو ہمیں حاصل ہے، مکمل طور پر بگڑ جائے گا اور یہ ایک اہم بات ہے!
خبر کا کوڈ : 965274
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش