0
Thursday 25 Nov 2021 11:36

دفعہ 370 کی تنسیخ سے کشمیری عوام ناراض ہیں، سیف الدین سوز

دفعہ 370 کی تنسیخ سے کشمیری عوام ناراض ہیں، سیف الدین سوز
اسلام ٹائمز۔ کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے اُس بیان جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد جموں کشمیر انتظامیہ میں شفافیت میں اضافہ ہوا ہے، پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر موصوف اس کی کوئی مثال پیش کرنے میں ناکام ہوئی ہیں۔ پروفیسر سیف الدین سوز نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنی سطحی عالمانہ رائے میں فتویٰ دیا ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر یونین ٹریٹری انتظامیہ میں شفافیت اور افادیت بڑھ گئی ہے اور انتظامی عمل میں بہتری آئی ہے لیکن وہ اس سلسلے میں کوئی مثال پیش نہیں کر پائی۔

سیف الدین سوز نے کہا کہ سیتا رمن نے جو کچھ کہا ہے، وہ مخض سیاسی پروپگنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل نریندر مودی اور سیتا رمن جیسے لوگ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد حالات پر اپنے آپ کو تسلی دے رہے ہیں، ورنہ اُن کو معلوم ہیں کہ 5 اگست 2019ء کو آئین کی دفعہ 370 کو یکطرفہ طور منسوخ کرنے کے بعد جموں و کشمیر کے لوگ زبردست ناراض ہیں اور ریاست کے سیاسی اور سماجی حالات ابتر ہوگئے ہیں، جو جموں و کشمیر اور ہند یونین کے درمیان تعلقات کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔

سیف الدین سوز نے کہا کہ اس پس منظر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ نریندر مودی اور اس کے ساتھیوں کو سوچنا چاہیئے کہ جموں و کشمیر کے لوگ یہ بہتر جانتے ہیں کہ اُن کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔ پروفیسر سوز نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ اس راہ عمل پر ثابت قدم رہیں گے کہ وہ دفعہ 370 یعنی اندرونی داخلی مختاری کی بحالی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل موجودہ حکمران طبقہ آئین ہند میں حقوق کی پاسداری کے سلسلے میں دی گئی ضمانتوں سے بے خبر ہیں اور اُن کو یہ بھی اچھی طرح معلوم نہیں ہے کہ قوموں کی زندگی میں حقوق کے لئے جدوجہد سب سے اہم چیز ہوتی ہے اور جموں و کشمیر کے لوگ حقوق کی بحالی کے لئے جمہوری طریقے سے سرگرم عمل رہیں گے۔
خبر کا کوڈ : 965322
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش