0
Sunday 28 Nov 2021 19:46
عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرکے موذن کا کردار ادا کر رہا ہے

امریکہ بھارت کو نظرانداز کرکے پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے، طاہر اشرفی

دنیا بھر کی نسبت پاکستان میں تمام اقلیتیں محفوظ ہیں، وزیراعظم کے معاون خصوصی
امریکہ بھارت کو نظرانداز کرکے پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے، طاہر اشرفی
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ و چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی سربراہی میں منعقدہ بین المذاہب و علماء مشائخ کے نمائندہ اجلاس میں امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے پاکستان کو مذہبی آزادی کے حوالے سے تشویش والے ممالک میں شامل کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیت دوسرے کسی ملک کی نسبت زیادہ محفوظ اور آزاد ہے، ذاتی نوعیت کے معاشرتی مسائل کو مذہب کیساتھ نہیں جوڑا جا سکتا، پاکستان کا آئین اور قانون غیر مسلموں کو برابری کی بنیاد پر بلاتفریق حقوق فراہم کرتا ہے جبکہ بھارت میں 200 سے زائد چرچ، 150 سے زائد مساجد کو منہدم کیا جا چکا ہے اور 50 سے زائد مسیحی مذہبی رہنماء قتل ہوچکے ہیں، اس کے باوجود امریکہ کی طرف سے بھارت کے اقلیتوں پر مظالم کو نظر انداز کرنا اور پاکستان کیخلاف کسی ثبوت کے بغیر پروپیگنڈہ کرنا دنیا میں پاکستان کیخلاف ایک فضا قائم کرنے کے مترادف ہے، جس میں ان شاء اللہ امریکہ کو ناکامی ہوگی۔

لاہور میں ہونیوالے اجلاس میں عمانویل کھوکھر، سردار سکندر سنگھ، بھگت لال کھوکھر، پیر علامہ محمد زبیر عابد، مفتی محمد علی نقشبندی، سہیل احمد رضا، حافظ نعمان، مولانا اسلم صدیقی، مولانا محمد اسلم قادری سمیت دیگر بھی شریک تھے۔ اجلاس میں تمام مذہبی قائدین کے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان میں مذہبی سطح پر کوئی بھی مسئلہ درپیش نہیں، تاہم بعض مقامات پر معاشرتی مسائل موجود ہیں، جنہیں رواداری کیساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی سربراہی میں 20 رکنی انٹرفیتھ ہارمنی خصوصی کمیٹی قائم کی گئی، جو ہفتہ وار مشاورتی اجلاس میں غیر مسلم کو درپیش معاشرتی مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کرے گی اور مقامی انتظامیہ کی مدد سے ان مسائل کو ختم کیا جائے گا، بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ مسلسل ایک سال سے ان اداروں اور این جی اوز کو دعوت دے رہے ہیں، جو اس قسم کی افواہیں پھیلاتے ہیں کہ وہ حقائق کے مطابق حکومت کیساتھ اور علماء کیساتھ بات کریں، آج تک کوئی ادارہ یا این جی او بھی مکمل طور پر حقائق کیساتھ کوئی چیز سامنے نہیں لا سکی۔

انہوں نے کہا کہ یہ این جی اوز غیر ملکی سفارتخانوں میں پہنچ جاتے ہیں، ہمارے پاس کیوں نہیں آتے، اگر خود نہیں آسکتے، ہمیں دعوت دیں، ہم خود ان کے پاس چلے جائیں گے، لیکن ہمیں کسی مسئلے کا کوئی ثبوت بھی دیں، بلاوجہ پروپیگنڈہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں، ان کے اپنے عزائم اور ایجنڈا ہے، جو ان شاء اللہ ناکام ہوگا، پاکستان میں اقلیتوں کیلئے ان کے مذاہب کے مطابق مکمل آزادی ہے اور کہیں پر کوئی پابندی نہیں، موجودہ حکومت نے نصاب تعلیم میں بھی مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے بہت سارے اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اس الزام کو مکمل مسترد کر دیا کہ توہین مذہب و توہین ناموس رسالتﷺ کے قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے، یا پاکستان میں جبر کی بنیاد پر مذہب کی تبدیلی کروائی جاتی ہے۔ آج بھی وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ دین اسلام جبر کا قائل نہیں اور کسی بھی گروہ یا جتھے کو اسلام کے نام پر خوف پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ذاتی نوعیت کے مسائل کو مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا، پسند کی شادی کیلئے بھی عاقل اور بالغ ہونا ضروری ہے، یہ دین اسلام کا پیغام بھی ہے اور اس پر پاکستان میں موجود اسلامی نظریاتی کونسل اور علماء مشائخ کا فتویٰ بھی ہے۔ حافظ طاہر اشرفی نے واضح کیا کہ ایک سال کے دوران ہمارے پاس جو مذہبی بنیاد کے کیسز آئے، وہ 50 سے بھی کم ہیں، اس میں سے کچھ کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جن کا فیصلہ آزاد عدلیہ نے کرنا ہے، اسی طرح متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے پاس لائے گئے 113 کیسز کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اب فیصلہ کیا ہے کہ 16 رکنی انٹرفیتھ ہارمنی خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو مسیحی قائدین کیساتھ لاہور میں ہوگا، اس کے بعد سکھ اور ہندو مذہبی قائدین کیساتھ بھی نشستیں رکھی جائیں گی اور انہیں درپیش ذاتی نوعیت کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی کوشش ہوگی۔

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرکے موذن کا کردار ادا کر رہا ہے، اب عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ریاست مدینہ کے اصول خود پر نافذ کریں اوپر سے لیکر نیچے تک لوگ بے ایمانی، دھوکہ، ملاوٹ، فراڈ، لوٹ مار کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ کدھر ہے؟ ہمیں خود بھی ریاست مدینہ کے اصولوں پر چلنے کیلئے تیار ہونا ہوگا، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سکھ میرج ایکٹ سمیت بہت سے قانونی معاملات پر وزیر قانون کا مذہبی قائدین کیساتھ مشاورتی عمل جاری ہے۔ ایک سوال پر حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مالیاتی پیکج دے کر سعودی عرب نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کا بہترین دوست ہے۔
خبر کا کوڈ : 965882
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش