0
Monday 29 Nov 2021 17:45

آباد کا کراچی میں تعمیرات کی منظوری کیلئے ایک ادارہ بنانے کا مطالبہ

آباد کا کراچی میں تعمیرات کی منظوری کیلئے ایک ادارہ بنانے کا مطالبہ
اسلام ٹائمز۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے چیئرمین محسن شیخانی کا کہنا ہے کہ کراچی والوں کو احساس محرومی ہے کہ بنی گالہ اور بحریہ ٹاؤن جیسے منصوبوں کو منظوری دے دی جاتی ہے لیکن کراچی میں تعمیرات کو گرادیا جاتا ہے، تجاوزات سے بچنے کے لئے ایک ادارہ تشکیل دیا جائے جو منصوبے منظور کرے۔ نسلہ ٹاور گرانے کے فیصلے کے حوالے سے چیئرمین آباد نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب اور حکومت سندھ کے عہدیداران سے ملاقات کی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبائی حکومت کے سامنے اپنے کچھ مطالبات پیش کئے ہیں، جس پر وزیراعلیٰ کی منظوری درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلا مطالبہ یہ ہے تعمیرات کے حوالے سے یکساں پالیسی ہونی چاہیئے اور زمین منظور کرنے کے لئے ایک ادارہ ہونا چاہیئے جو تمام تر منصوبوں کی منظوری دے اور منصوبہ بننے کے بعد زمین پر جو بھی مسائل ہوں گے اسکے ذمہ دار بلڈرز یا مکینوں کے بجائے ادارے ہوں گے۔

چیئرمین آباد کا کہنا تھا کہ ان کا دوسرا مطالبہ ہے کہ ان کے پُرامن احتجاج لاٹھی چارج کرنے اور تشدد کرنے کی انکوائری کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل سے بچنے کے لئے ایک ایسا ماسٹر پلان بنایا جائے جس میں تمام ادارے، اسٹیک ہولڈرز، سیاست دان، شہری انتظامیہ، انجینئرز، آباد سمیت دیگر شامل ہوں تاکہ کراچی میں تجاوزات سے بچا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات میں تمام مطالبات کے حوالے سے بات چیت کی جائے۔ نسلہ ٹاور کے حوالے سے ان کا کہنا تھا نسلہ ٹاور کا مسئلہ عدالت میں چل رہا ہے اور اس کے حوالے سے عدالت نے ہی فیصلہ کیا ہے، اس مسئلے میں ہم ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ کر رہے ہیں، کسی بھی غیر قانونی منصوبے کو منظور کرنے کے ذمہ دار حکومت اور ادارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی اس کے گھر اسے نہیں نکال سکتے، اس کے لئے ایک جامع پالیسی ہونی چاہیئے اور متاثرین کو معاوضہ دینا چاہیئے۔

ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ منصوبے کی منظوری دینے والے ادارے ذمہ داری قبول کریں، جو منصوبے منظوری کے بغیر تعمیر کئے جارہے ہیں آباد خود ان کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست کر رہا ہے، چاہے بحریہ ہو یا کوئی اور آباد غیر قانونی منصوبوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو احساس محرومی ہے، بعض جگہوں پر ریگولائزیشن ہورہی ہے، بنی گالہ کو ریگولائز کیا جارہا ہے کونسٹیٹیوشن ایونیو اور بحریہ ٹاؤن کو ریگولائز کیا جارہا ہے اور کراچی میں منصوبے مسمار کئے جارہے ہیں، قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کراچی ایک ماسٹر پلان کے ذریعے بنایا جائے، کراچی میں پانی کا نظام ہے نہ سڑکوں نظام ہے کوئی رینگ روڈ ہے نہ ہی بہتر سڑک، کراچی میں پانی کی کھپت زیادہ ہے اور پانی پرانے حساب کے تحت فراہم کیا جارہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آباد شہر میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرے گا، چاہے وہ بحریہ ٹاؤن ہو یا کوئی اور بلڈر ہو، آباد ان کے خلاف کھڑا ہے اور ایسے افراد کو آباد سے بے دخل کردیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 966028
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش