0
Monday 29 Nov 2021 21:19

مکران، سرحدی علاقوں میں تجارتی امور سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد

مکران، سرحدی علاقوں میں تجارتی امور سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت مکران کے سرحدی علاقوں میں تجارتی امور سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، صوبائی وزراء سید احسان شاہ، ظہور احمد بلیدی، اکبر آسکانی، لالہ رشید بلوچ اور ماہ جبین شیران، چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا، آئی جی پولیس محمد طاہر رائے، آئی جی ایف سی ساؤتھ، کمانڈر نیوی اور دیگر متعلقہ وفاقی و صوبائی اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ اجلاس میں سرحدی علاقوں کے عوام کے ذریعہ معاش اور سہولت کے پیش نظر تیل اور اشیاء کی ایران سے تجارت کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی گئی۔

اجلاس میں علاقے کے لوگوں کی سرحد پر آمدورفت اور تیل لانے کے لئے ٹوکن کے حصول کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گاڑی ڈرائیور اور اسکے ساتھی کی شناختی کارڈ کی بنیاد پر مقامی انتظامیہ رجسٹریشن کرے گی اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مزید آسان بنایا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مافیا کو اس تجارتی سہولت سے کسی صورت فائدہ اٹھانے نہیں دیا جائے گا۔ جس کے لئے متعلقہ ادارے موثر اقدامات یقینی بنائیں گے۔ مکران کے علاوہ واشک، آواران اور خاران کے عوام بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت مکران میں 10 کراسنگ پوائنٹس ہیں، جن میں سے 9 خشکی پر اور ایک سمندر سے منسلک ہے۔ اجلاس میں کراسنگ پوائنٹس میں اضافے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تجارتی امور کی مانیٹرنگ اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لئے صوبائی سطح پر اپیکس کمیٹی جبکہ ڈی سی کی زیر نگرانی ضلعی کمیٹی قائم ہوگی۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ سرحدی تجارت ہی علاقے کے لوگوں کا واحد ذریعہ معاش ہے۔ جسے بند نہیں کیا جاسکتا اور بارڈر مارکیٹوں کے قیام و مزید تجارتی سہولتوں کی فراہمی تک روایتی طریقہ تجارت جاری رہے گا۔ زمینی حقائق کو سامنے ر کھتے ہوئے عوام کے مفاد کے مطابق فیصلے اور اقدامات کئے جائیں گے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہمیں اپنے لوگوں کو سہولتیں دینی ہیں اور انکے روزگار اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ بے روزگاری سے پیدا صورتحال سے ملک دشمن فائدہ اٹھائیں۔ جسکے تدارک کے لئے حکومت سرحدی علاقوں کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف اور انکے ذریعہ معاش کو تحفظ دے گی۔
خبر کا کوڈ : 966058
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش