0
Tuesday 30 Nov 2021 16:27

کوئٹہ، جامعہ بلوچستان کے ملازمین کے وائس چانسلر پر الزامات

کوئٹہ، جامعہ بلوچستان کے ملازمین کے وائس چانسلر پر الزامات
اسلام ٹائمز۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے رہنماؤں پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، پروفیسر عبدالباقی جتک، عنایت اللہ بڑیچ، نجیب اللہ ترین، فرید خان اچکزئی اور سید شاہ بابر نے اپنے مشترکہ بیان میں سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے دو طلباء ابھی تک بازیاب نہیں کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان پر مسلط غیر قانونی وائس چانسلر نے طلبہ سے ہمدردی اور اغواء شدہ طلباء کی بازیابی کیلئے کوششوں کے بجائے سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔ وائس چانسلرکی طرف سے مسلسل یہ کہا جارہا تھا کہ دونوں طلباء جامعہ کے حدود سے باہر اٹھائے گئے ہیں۔ جس سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے نہ صرف مجرمانہ خاموشی اختیار کی، بلکہ دھمکیاں دیں کہ اگر طلباء نے اپنا رویہ تبدیل کرکے دھرنا ختم نہیں کیا، تو ان کو بھی اٹھایا جائے گا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان نے پہلے دن ہی لاپتہ طلباء کی فوری بازیابی اور طلباء، اساتذہ کرام و ملازمین کو تحفظ دینے اور جامعہ بلوچستان و دیگر تعلیمی اداروں سے فورسز کی انخلاء کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان اور دیگر جامعات کو چلانے کے لیے صوبائی اسمبلی سے ایکٹ پاس ہوا ہے۔ جس میں وائس چانسلر کی تعیناتی سے لے کر تمام امور کو چلانے کے لئے پالیسی ساز ادارے جس میں سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل، سینیٹ اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی تشکیل دیئے گئے ہیں۔ جن کے درج شدہ شیڈول کے مطابق اجلاس ہونے چاہیے، تاکہ وائس چانسلر سمیت دیگر اعلیٰ انتظامی آفیسران ان پالیسی ساز اداروں کے منتخب اور دیگر ممبران کو جوابدہ ہوں اور تمام امور کو مشاورت سے چلایا جا سکے۔ لیکن جب سے موجودہ وائس چانسلر کی غیر قانونی تعیناتی ہوئی ہے، انہوں نے کسی بھی پالیسی ساز ادارے کا اجلاس منعقد نہیں کیا ہے۔ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود وہ پالیسی ساز اداروں کا اجلاس بلانے سے انکاری ہیں۔ غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی ہٹ دھرمی اور مسلسل غلط بیانی سے جامعہ تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی لحاظ سے مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔

جامعہ بلوچستان میں اساتذہ، آفیسرز، ملازمین اور طلباء و طالبات آئے روز احتجاجی مظاہروں میں مصروف ہوتے ہیں، کیونکہ انکے چھوٹے چھوٹے مسائل کی بھی شنوائی نہیں ہوتی۔ ایچ ای سی نے بھی اپنی رپورٹ میں موجودہ وائس چانسلر کو یونیورسٹی کے امور کو 1996 کے ایکٹ کے مطابق چلانے میں ناکام قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ کے رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، چیف لائبریرین، ڈی جی اسٹوڈنٹس آفیئرز، خزانہ آفیسر، ڈی جی پلاننگ اور دیگر تمام ریسرچ سینٹرز کے ڈائریکٹرز کو من پسند افراد کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ جس سے میرٹ کی پامالی اور ون مین شو کو تقویت مل رہی ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ جامعہ کے ہاسٹل سے اغواء شدہ دونوں طلباء کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور مستقبل میں طلباء، اساتذہ کرام، آفیسرز اور ملازمین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ جامعہ بلوچستان و دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فورسز کی انخلاء یقینی بنائی جائے اور غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کو فوری طور پر برطرف کرکے کسی علم و صوبہ دوست پروفیسر کو وائس چانسلر متعین کیا جائے تاکہ جامعہ بلوچستان کو 1996 کے ایکٹ کے مطابق چلایا جا سکے۔
خبر کا کوڈ : 966203
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش