0
Thursday 9 Dec 2021 15:48

امریکا اور چین کے درمیان سرد جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، وزیراعظم

امریکا اور چین کے درمیان سرد جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، وزیراعظم
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میڈیا پروگرامز میں لوگ بغیر معلومات بول کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں، باہر سے  بھی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پاکستان خطرناک ترین ملک ہے، امریکا اور چین کے درمیان سرد جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ اسے روکنے کی کوشش کریں گے۔ اسلام آباد میں پرامن جنوبی ایشیا کے عنوان سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں اس طرح کے تھنک ٹینکس کی بہت ضرورت ہے، ملک بننے کے بعد شروع میں ہمارا منصوبہ بندی کمیشن بہت اچھا تھا، ہمارا زوال اس وقت شروع ہوا جب ہماری اصل سوچ ختم ہوگئی اور باہر سے آنے والے خیالات کو اپنا لیا، آپ اپنی تحقیق سے ہمارے میڈیا کو بھی شعور دیں، ٹی وی پروگرامز میں لوگوں کو چیزوں کا پتہ ہوتا نہیں لیکن بولتے جاتے ہیں، عوام کو بھی گمراہ کررہے ہیں، جس سے ملک کے اندر اتحاد بھی پیدا نہیں ہوتا اور قومی مفاد کا بھی پتہ نہیں چلتا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر افغانستان کی مدد کرنی چاہیے، عالمی برادری کے ممالک افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کریں، مسئلے کو نظرانداز کیاگیا تو خطرناک بحران جنم لے سکتا ہے، افغانستان میں انسانی بحران کا خدشہ ہے اور صورتحال ہمارے لیے پریشان کن ہے، طالبان کو پسند نہ پسند کرنے کی بات نہیں، بات افغانوں کی زندگی کی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو عالمی حدت اور ماحولیاتی آلودگی جیسے چیلنجز کا سامناہے، بلین ٹری سونامی شروع کی تولوگوں کو علم ہوا کہ منصوبے کا مقصد کیا ہے، عالمی حدت کی وجہ سے قدرتی ماحولیاتی نظام متاثر ہوا، لاہور میں آلودگی کی وجہ بہت سے مسائل کا سامنا ہے، پاکستان اور بھارت کو عالمی حدت سے بچاؤ کے لیے کام کرنا ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ باہر بیٹھ کر کہا جاتا ہے کہ پاکستان بہت خطرناک ملک ہے اور ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان دنیا کا سب سے خطرناک ملک ہے، انتہا پسندی کا لیبل پورے ملک پر لگا دیتے ہیں، باہر کے لوگوں کو ہماری تاریخ اور ثقافت کا پتہ نہیں، ہمارے ہاں ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ جو مغرب سے آتا ہے وہ سب ٹھیک ہے، دوسرا طبقہ مغرب سے آئی ہر چیز کو رد کر دیتا ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے انتہا پسندوں کو سامنے رکھ کر پورے ملک کو انتہا پسند قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ ہم خود اپنے بارے میں کچھ نہیں بتاتے کہ ہم کیا ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم خود بتائیں کہ پاکستان کیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے ہوتے ہوئے بھارت کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں، بھارت میں 50 سے 60 کروڑ افراد کو دوسرے درجے کا شہری کا کہا جا رہا ہے، امید ہے بھارت میں ایسی حکومت آئے جس سے ہم مذاکرات کریں، ہماری کوشش ہونی چاہیئے کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوں، پوری کوشش کریں گے بھارت سے مسئلہ کشمیر پر بات کریں، مسئلہ کشمیر نے پورے جنوبی ایشیا کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا دوبارہ کولڈ وار کی طرف جا رہی ہے اور بلاکس بن رہے ہیں، اسے روکنے کے لیے پاکستان کو پوری کوشش کرنی چاہیے کیونکہ ہم امریکا اور چین کے درمیان کولڈ وار اور نہ ہی کسی بلاک کا حصہ بننا چاہتے ہیں، امریکا اور چین کےدرمیان فاصلے کم کرنا چاہتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ اس سرد جنگ میں  پہلے کی طرح پھنس جائیں، پہلی سرد جنگ سے دنیا کو بہت نقصان ہوا، خطے میں تنازعات کے باعث تجارت متاثر ہے۔
خبر کا کوڈ : 967641
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش