0
Sunday 12 Dec 2021 12:13

گوادر کو حق دو تحریک کے مطالبات

گوادر کو حق دو تحریک کے مطالبات
اسلام ٹائمز۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے احتجاج کی قیادت کرنے والے مولانا ہدایت الرحمٰن کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 19 میں سے کم سے کم دو بنیادی مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا، جس میں ٹرالر مافیا کے خلاف کارروائی اور ایرانی سرحد پر درپیش مسائل کا حل شامل ہے۔ اس سلسلے میں میر ظہور احمد بلیدی کی قیادت میں صوبائی وزرا نے مولانا ہدایت الرحمان اور مظاہرین کے دیگر رہنماؤں سے گوادر کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کیے تھے۔ چند روز قبل حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق مظاہرین کے مطالبات اور ان پر ہونے والی پیش رفت کی تفصیل درج ذیل ہے:
• غیرقانونی ٹرالرز پر پابندی: ڈجی جی فشریز کے مرکزی دفتر کو فوری طور پر کوئٹہ سے گوادر منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ ماہی گیروں کے مسائل ہوں، فشریز اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کا گشت بڑھا دیا گیا ہے، جس کی مدد سے غیرقانونی ٹرالرز کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ٹرالنگ میں نمایاں کمی نظر آئی ہے۔
• ماہی گیروں کو آزادی کے ساتھ سمندر میں جانے دیا جائے: سمندر میں جانے کے لیے خصوصی ٹوکن سسٹم ختم کر دیا گیا ہے، اب ماہی گیر بغیر کسی اجازت کے سمندر میں آ جا سکتے ہیں۔
• گوادر، مکران کوسٹل ہائی وے اور دیگر شاہراؤں پر غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ: گوادر میں تمام غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
• گوادر میں موجود تمام شراب خانے بند: گوادر میں حکومتی احکامات پر تمام شراب خانے بند کر دیے گئے ہیں۔
• ایران سرحد سے تجارت میں ایف سی اور کوسٹ گارڈ کی مداخلت بند کی جائے: کنٹانی کو مکمل طور پر ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، ہر قسم کی مداخلت ختم کر دی گئی ہے اور وفاقی حکومت کے تعاون سے پاک ایران سرحد پر مند کے مقام پر مارکیٹ کے قیام کا آغاز ہو گیا ہے اور جلد ہی گبد اور مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں میں مارکیٹوں کے قیام کا آغاز ہو جائے گا اور تجارت کے حوالے سے مکمل آزادی ہو گی اور اس منصوبے کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت نے 60 کروڑ روپے مختص کر دیے ہیں۔
• گوادر میں یونیورسٹی کا قیام: گوادر یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تعیناتی کر دی گئی ہے اور جلد ہی کلاسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔
• محکمہ تعلیم کا غیر تدریسی عملے کی خالی اسامیوں پر تعیناتی کی جائے: گوادر کے تعلیمی اداروں میں غیر تدریسی عملے کی تعیناتی کے لیے عمل مکمل ہو گیا ہے اور معاملہ اعلیٰ حکام کو بھیج دیا گیا ہے، جس پر جلد ہی احکامات جاری ہوں گے۔
• جعلی ادویات کی روک تھام: گوادر کے تمام میڈیکل اسٹورز کی انسپکشن کر دی گئی ہے۔
• گوادر کو آفت زدہ قرار دے کر یوٹیلٹی بلز کے بقایا جات معاف اور خصوصی سبسڈی: پاور ڈویژن وفاقی حکومت کے ماتحت ہے، اس مطالبے کے حل کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کیسکو حکام کو خط لکھ دیا ہے اور وفاقی حکومت اس معاملے پر جلد پالیسی وضع کرے گی۔
• کوسٹ گارڈ کی طرف سے پکڑی گئیں گاڑیاں اور کشتیاں واپس کی جائیں: کوسٹ گارڈ کے پاس صرف وہ گاڑیاں ہیں، جن پر ایف آئی آر درج ہوئی تھیں اور ان کے کیسز عدالتوں میں زیرالتوا ہیں، اس پر قانونی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
• گوادر کے تمام علاقوں کو پینے کے لیے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائے جائے: گوادر شہر اور دیگر علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی شروع ہو چکی ہے، جیوانی میں صاف پانی کا منصوبہ جلد پایہ تکیمل کو پہنچے گا۔
• گوادر پورٹ اور سی پیک منصوبوں میں ملازمتوں پر مقامی افراد کو ترجیح دی جائے: گوادر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈی سی آفس میں خصوصی ڈیسک قائم کر دیا گیا ہے جبکہ بے روزگار مقامی افراد کی زیادہ سے زیادہ ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
• دربیلہ متاثرین کے ساتھ معاہدے پر ضلعی انتظامیہ عمل کرے: دربیلہ کے تمام متاثرین کو معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کی متبادل زمین کی فراہمی کے لیے الگ جگہ کا تعین کیا جا رہا ہے۔
• ایکسپریس وے متاثرین کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے: ایکسپریس وے متاثرین کو ایک کروڑ 45 لاکھ روپے کی ادائیگی کر دی گئی ہے جبکہ رہ جانے والے متاثرین کے ناموں کا اندراج یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
• حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمٰن اور دیگر شرکا پر درج مقدمات واپس اور فورتھ شیڈول سے نام خارج کیا جائے: مولانا ہدایت الرحمٰن اور دیگر کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کے لیے معاملہ صوبائی کابینہ کو بھیج دیا گیا ہے۔
• سمندری طوفان کے متاثرین اور ٹرالرز کے ہاتھوں ماہی گیروں کے جال وغیرہ کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے: ماہی گیروں کے نقصانات کا سروے کیا گیا ہے، معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
• جی ڈی اے کے ڈی جی، ڈپٹی کمشنر گوادر اور اسسٹنٹ کمشنر پسنی کو فی الفور تبدیل کیا جائے: تمام افسران کا تبادلہ کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ صوبے کے قابل ترین افسران کو ان عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
• وفاقی اور صوبائی محکموں میں معذور افراد کے کوٹے پر عمل درآمد کیا جائے: تمام صوبائی محکموں کو معذور افراد سمیت دیگر کوٹہ سسٹم پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
• اشیائے خورنوش اور تیل کی ترسیل کے لیے کنٹانی پوائنٹ کھول دیا جائے: اشیائے خورونوش اور تیل کی فراہمی کے لیے کنٹانی پوائنٹ مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 968131
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش