?>?> رانا شمیم و دیگر فریقین پر 7 جنوری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ - اسلام ٹائمز
0
Tuesday 28 Dec 2021 11:50
توہین عدالت کیس

رانا شمیم و دیگر فریقین پر 7 جنوری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

رانا شمیم و دیگر فریقین پر 7 جنوری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ
اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد ہائی کورٹ (ٓئی ایچ سی) نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی اور رانا شمیم و دیگر فریقین کے خلاف 7 جنوری کو فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی اس سے قبل 20 دسمبر کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں چیف جج (ر) رانا شمیم نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے اصل حلف نامہ جمع کرایا ہے۔ خیال رہےکہ دی نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بیان حلفی کا ذکر کیے جانے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد دستاویز جمع کرائی گئی۔ آئی ایچ سی نے سابق جج کو گزشتہ تین سماعتوں میں اپنا اصل حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر چیف جسٹس (ر) رانا شمیم، پبلشر اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن، سینئر صحافی انصارعباسی اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر عامر غوری حلف نامہ ظاہر کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف جرم عائد ہو گا۔ آج سماعت کے دوران رانا شمیم نے عدالت کی ہدایت پر اپنا اصل حلف نامہ کھول دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ یہ دستاویز سابق جج کا حلف نامہ ہے اور کیا انہوں نے خود اس پر مہر لگائی ہے جس پر رانا شمیم نے اثبات میں جواب دیا۔

آئی ایچ سی کے چیف جسٹس نے رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی سے استفسار کیا کہ عدالت کو صورتحال کو دیکھتے ہوئے الزامات طے کرنے کے لیے آگے کیوں نہیں جانا چاہیے۔ لطیف آفریدی نے جواب دیا کہ وہ الزامات کے تعین پر بحث کرنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن رانا شمیم نے تسلیم کیا تھا کہ حلف نامہ ان کا ہے۔ کیس میں معاون کار پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے وائس چیئرمین امجد علی شاہ نے کہا کہ حلف نامے میں نامزد افراد اپنے جوابات جمع کرائیں تاکہ کیس کی کارروائی آگے بڑھ سکے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دے کہ "کیا پاکستان بار کونسل پہلی نظر میں کہہ رہی ہے کہ حلف نامے میں جو لکھا گیا ہے وہ درست ہے؟، حلف نامے میں جج نے جو ظاہر کیا وہ اس وقت چھٹی پر تھے بینچ کے دو ججوں پر شک کرنے کی بھی کوشش کی گئی"۔ انہوں نے مزید ریمارکس دے کہ پی بی سی کو اس معاملے پر "انتہائی واضح مؤقف" اختیار کرنا ہو گا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حلف نامے کی کاپیاں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو فراہم کرنے کا بھی حکم دیا۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ رانا شمیم کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں صحافی انصار عباسی پر "سارا الزام عائد کیا گیا" جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ حلف نامہ کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیا۔ انہوں نے مزید ریماکس دے کہ اسی طرح کے حالات میں برطانیہ میں عدالتوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ اپنے ذرائع کا انکشاف کریں لیکن آئی ایچ سی ایسا نہیں کرے گا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیےکہ حلف نامہ میں ذکر کیے گئے جج اس وقت چھٹی پر تھے، بینچ کے دو ججوں پر شک کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جج اس وقت حلف نامہ پر چھٹی پر تھے۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے کہا کہ بیان حلفی کا فونٹ کیلیبری معلوم ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ کیلیبری فونٹ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کی جانب سے پاناما پیپرز لیک کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو جمع کرائی گئی اہم دستاویزات میں استعمال کیا گیا تھا جو "جعلی" ثابت ہوا تھا۔
خبر کا کوڈ : 970713
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش