0
Friday 14 Jan 2022 18:36

سپریم کورٹ سے ہمیں انصاف ملے گا، مولانا ارشد مدنی

سپریم کورٹ سے ہمیں انصاف ملے گا، مولانا ارشد مدنی
اسلام ٹائمز۔ ہریدوار ’’دھرم سنسد‘‘ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں سپریم کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دس دن کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ دوسری طرف مولانا ارشد مدنی نے اسے بڑی پیشرفت قرار دیتے ہوئے عدالت جلد فیصلے سنانے کی امید ظاہر کی۔ چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ جس میں جسٹس سریکانت ویاس اور جسٹس ہیما کوہلی شامل ہیں نے آج پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جسٹس انجنا پرکاش اور صحافی قربان علی و دیگر کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کی سماعت کی جس پر سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ہری دوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں مسلمانون کے خلاف جو نفرت انگیز تقریر کی گئی اسے زبانی طور پر عدالت کے سامنے دوہرانا نہیں چاہتے بلکہ انہوں نے اس تقریر کو تحریری شکل دی ہے تاکہ عدالت اسے پڑھ سکے۔

سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ 24 جنوری کو علی گڑھ میں دھرم سنسد ہونے جارہی ہے جس پر روک لگانا چاہیئے، انہوں نے کہا کہ اگر دھرم سنسد پر پابندی نہیں لگائی گئی تو اناؤ، ڈاسنا، کروکشیتر اور ملک کے دوسرے مقامات پر منعقد کی جائے گی جس سے ملک کا ماحول خراب ہوگا۔ حالانکہ چیف جسٹس نے کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا لیکن اس معاملے کی سماعت دو دنوں کے بعد کئے جانے کا حکم جاری کیا۔ کپل سبل نے عدالت سے گزارش کی کہ دھرم سنسد پر پابندی لگانے اور نفرت آمیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے خلاف داخل تمام پٹیشن کو یکجا کرکے اس پر سماعت کی جائے۔ اترا کھنڈ دھرم سنسد معاملے میں جمعیۃ علماء ہند نے بھی ایک عرضداشت 4 جنوری کو داخل کی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر عرضداشت جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ دوران سماعت آج جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ نتیا راما کرشنن، ایڈووکیٹ صارم نوید و دیگر موجود تھے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اتراکھنڈ حکومت کو سپریم کورٹ کے ذریعہ جاری نوٹس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس پورے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر عدالت اس پر جلد ایک بہتر فیصلہ سنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے ہمیں انصاف ملا ہے اس لئے پورا یقین ہے دوسرے معاملوں کی طرح اس معاملے میں بھی ملک کی سب سے بڑی عدالت سے ہمیں انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قانونی جدوجہد مثبت نتیجہ آنے تک جاری رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 973418
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش