0
Friday 9 Sep 2011 00:52

کالعدم جہادی جماعت جیش محمد نے دوبارہ سرگرمیوں کا آغاز کر دیا، نئی بھرتی شروع

کالعدم جہادی جماعت جیش محمد نے دوبارہ سرگرمیوں کا آغاز کر دیا، نئی بھرتی شروع
لاہور:اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور بھارت کے مابین امن مذاکرات میں پیش رفت کے عین موقع پر جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر نمودار ہوئے ہیں اور چندہ جمع کرنے سے لے کر نئی بھرتیوں کے کام کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ دسمبر 2008ء میں مولانا مسعود اظہر کی نقل وحرکت کو محدود کرتے ہوئے انہیں بہاولپور کے ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ان کے کثیر المنزلہ کمپاؤنڈ جس میں سینکڑوں مسلح افراد پناہ گزیں ہیں میں نظر بند کر دیا گیا تھا، حکومت پاکستان کو یہ اقدام اس لئے کرنا پڑا کہ بھارت نے مطالبہ کیا تھا کہ مسعود اظہر، داؤد ابراہیم اور حافظ محمد سعید کو حوالے کیا جائے۔ اپریل 2009ء میں وزیر داخلہ رحمان ملک نے اعلان کیا کہ مولانا مسعود اظہر لاپتہ ہیں اور اسلام آباد کسی مجرم کو پناہ نہیں دے گا۔ بھارت کے سابق وزیر خارجہ پرتاب مکھر جی نے پاکستانی دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ہمیشہ پاکستان سے متضاد اطلاعات موصول ہوتی ہیں اور جن سے بھارتی حکومت متفق نہیں ۔’’اسلام ٹائمز‘‘ کے باخبر عسکری ذرائع کے مطابق مولانا مسعود اظہر وزیرستان سے واپس اپنے بہاولپور ہیڈ کوارٹر پہنچ کر اپنی سرگرمیاں شروع کر چکے ہیں، جیش محمد کے سربراہ کھلے عام اپنے مدارس میں سینکڑوں بچوں کو اسلام کی نئی تشریحات کا درس دیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جیش محمد کے ہیڈ کوارٹر اور مدرسہ میں ایسے بنکرز اور سرنگیں تیار کی گئی ہیں جیسے بنکرز اور سرنگیں اسلام آباد کی لال مسجد کے مدرسہ فریدیا اور جامعہ حفضہ میں موجود تھیں اور جنہیں جولائی2007ء میں ایک بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے تباہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی اسٹیبلشمنٹ مسعود اظہر کو بہاولپور واپسی اور جہادی سرگرمیوں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مولانا مسعود اظہر کے قریبی عزیز رشید رؤف کو بھول گئی جو عدالت سے ٹرائل کے دوران فرار ہو گیا تھا اور اس نے اگست 2006ء میں لندن ائیر پورٹ سے پرواز کے بعد ٹرانس ایٹلانٹک طیارہ کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، رشید رؤف 22 نومبر 2008ء کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔
پاکستان کے سینئر سیکورٹی اہلکار تسلیم کرتے ہیں جیش محمد کے تعلقات القاعدہ، طالبان اور شمالی وزیرستان کے حقانی نیٹ ورک سے ہیں اور ان جہادی قوتوں کیساتھ مل کر جیش محمد کی جنگ افغانستان سرحد کے آر پار ’’کافروں‘‘ کے خلاف جاری ہے۔ مولانا اظہر مسعود نے 2000ء میں بھارتی جیل سے رہائی کے بعد جیش محمد قائم کی تھی اور ان کی یہ رہائی کشمیری مجاہدین کی جانب سے ایک بھارتی طیارے کے اغواء کے بعد ہونے والے سودے باز ی کے نتیجہ میں عمل میں آئی تھی، اس طیارے کو ہائی جیک کرنے والوں کی قیادت مولانا مسود اظہر کے چھوٹے بھائی نے کی تھی، رہائی کے بعد مولانا مسعود اظہر نے کراچی میں دس ہزار افراد کا جلسہ کیا اور بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ مسعود اظہر نے کہا کہ مسلمانوں کو اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک وہ بھارت اور امریکہ کو تباہ وبرباد نہ کر دیں۔ مولانا مسعود ایک اور تنظیم دیوبند حرکت انصار کا بھی مقلد تھا، جس پر 1999ء میں امریکہ نے القاعدہ سے تعلق ہونے کے باعث پابندی عائد کر دی تھی، بعد ازاں اس تنظیم نے اپنا نام تبدیل کرکے حرکت المجاہدین کر لیا۔
جیش محمد کو پاکستان میں بڑے بڑے دیوبندی عالموں کی حمایت حاصل رہی ہے، خاص طور پر کراچی کے جامعہ بنوری کے مفتی نظام الدین شاستری اور سپاہ صحابہ کے چیف کمانڈر یوسف لدھیانوی جیش کے مدد گار ہیں۔ 2005ء میں لندن میں ہونے والے خود کش حملوں کی تحقیقات کرنے والے برطانوی خفیہ اداروں نے حکومت پاکستان کو بتایا کہ چار خودکش بمباروں میں سے دو شہزاد تنویر اور صدیق خان نے فیصل آباد میں جیش محمد کے خود کش ٹرینر اسامہ نذیر سے ملاقات کی تھی، 2007ء میں جب پاک بھارت بات چیت کا عمل سست پڑ گیا تو مسعود اظہر کے چھوٹے بھائی مفتی عبدالرؤف کی قیادت میں جیش محمد کے ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں بہت سے کامیاب حملے کیے اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کو تربیت دینے کیلئے راولپنڈی میں مفتی عبدالرؤف کو سہولتیں فراہم کی گئیں۔
خبر کا کوڈ : 97379
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب