0
Tuesday 18 Jan 2022 19:42

حکومت ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو منہدم کرنے کے درپے ہے، ابوالخیر محمد زبیر

حکومت ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو منہدم کرنے کے درپے ہے، ابوالخیر محمد زبیر
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے جے یو پی کی مرکزی مجلس شوریٰ و عاملہ کے اجلاس سے صدراتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خان حکومت ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو منہدم کرنے کے درپے ہے، وقت آگیا ہے پاکستان بنانے والے اکابرین کی اولادیں ملک بچانے کیلئے میدان عمل میں نکلیں اور ملک کے اسلامی تشخص کو بچانے کیلئے کردار ادا کریں، ریاست مدینہ کا نام لیکر سیکولر قوانین نافذ کئے جا رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے عدلیہ کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو اسلامی قوانین ہمارے اکابرین نے بنائے تھے، انہیں تبدیل کرکے حکومت ملک کو سیکولر اسٹیٹ بنانے کے درپے ہے اوقاف ایکٹ، گھریلو تشدد بل، عدت کے دوران نکاح، 18 سال سے کم عمر افراد کے قبول اسلام پر پابندی جیسے اقدامات کرکے ملک کی نظریاتی سرحدوں کو تباہ کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کشمیر کا سودا کر چکی ہے، بھارت کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیلی کرنے کیلئے ہندوؤں کو آباد کر رہا ہے تاکہ استصواب رائے کرانے پر وہ اپنی اکثریت ثابت کر سکے او آئی سی کشمیر کیلئے اجلاس بلانے کیلئے تیار نہیں، ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر حملے کئے جا رہے ہیں، اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے راہ ہموار کی جاری ہے، ملک کو آئی ایم ایف کی کالونی بنا دیا گیا ہے، اس کے اشارے پر ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے، ملک کی آزادی اور خود مختاری کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے خود وزیر اعظم اعلان کر رہے ہیں کہ قرض لینے والوں کی سالمیت خطرے میں ہوتی ہے، پھر کیوں خان صاحب آئی ایم ایف سے قرض لیکر ملک کی سالمیت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی ایماء پر سی پیک کو رول بیک کر دیا گیا، جس سے چین جیسے عظیم دوست کو ناراض کر دیا گیا ہے، جس سی پیک پر ملک کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار تھا اور نوکریوں کا دعویٰ کیا جا رہا تھا اسے بند ملک کی معیشت کو تباہ کیا جا رہا ہے، جس سے ملک میں ترقی کا دروازہ بند ہو گیا ہے افغانستان میں اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے، اتنی بڑی کامیابی حاصل کرنے کے باوجود حکومت پڑوسی ملک افغانستان سے تعلقات بہتر نہیں کر سکی ہے، خطے کے دوست ممالک کو ناراض کرکے اغیار کے اشاروں پر ملک کی سالمیت پر ضرب لگائی جا رہی ہے، حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے، مہنگائی کے سونامی نے ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچا دی ہے، بیروزگاری غربت اور افلاس نے ملک میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں، اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کی ذیلی ادارہ بنانے کیلئے منی بجٹ فنانس بل لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قومی مفاد میں کوٹ لکھپت جیل جا کر  ٹی ایل پی کی قیادت سے مذکرات کئے اور آپریشن رکوایا۔

اجلاس سے جمعیت علماء پاکستان کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر جاوید اعوان، سیکرٹری جنرل پیر سید صفدر شاہ گیلانی، سید عقیل انجم قادری، پیر عاشق حسین شاہ، ڈاکٹر محمد یونس دانش، رشید احمد رضوی، محمد ایوب مغل، نصر احمد نورانی، محمد تجمل بیگ، پیر غلام مصطفےٰ سلطانی، میاں منیر احمد جامی، پیر سعید احمد شاہ چشتی، نور رحیم جیلانی، پیر سعید احمد نقشبندی، دانش علی حیدر، محمد شفیع بھٹی، ملک ذکر حسین ایڈووکیٹ، نعیم جاوید نورانی، حافظ محمد عمر فاروق، عبدالسلام قریشی، سید محمد نسیم اختر گیلانی، محمد ارشاد حسین، قاری ارتضی نورانی، قاری کامران، قاری طارق ہاشمی، محمد ابو بکر نورانی، محمد مدثر حسین وٹو، محمد منصور الحق، چودھری محمد رشید، حافظ جمشید نورانی نے خطاب کرتے ہوئے ملکی و بین الاقوانی حالات، بلدیاتی انتخابات، تنظیمی صورتحال پر روشنی ڈالی۔

جمعیت علماء پاکستان کی شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ 5 فروری کو کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم یکجہتی کشمیر بنایا جائے گا، ملک بھر میں یکجہتی کشمیر ریلیاں نکالی جائیں گی، 16 مارچ کو شہدائے تحریک نظام مصطفےٰ، 23 مارچ کو یوم پاکستان اور 28 مارچ کو ایوان اقبال لاہور میں یوم تاسیس جمعیت علماء پاکستان کے موقع پر نظام مصطفےٰ ﷺ کنونشن منعقد ہو گا، جمعیت علماء پاکستان بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی، صالح دیانت دار قیادت کو میدان میں لانے کیلئے محب وطن اور مذہبی قوتوں کو متحد کریں گے ملک کی سالمیت کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 974205
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش