0
Thursday 20 Jan 2022 12:46

کوئٹہ کے ینگ ڈاکٹرز

کوئٹہ کے ینگ ڈاکٹرز
تحریر: اعجاز علی

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں گذشتہ 3 مہینوں سے سرکاری ہسپتالوں کے دروازے غریب عوام کیلئے بند ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سراپا احتجاج ہے اور انہوں نے احتجاجاً سروسز معطل کر دی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم یہ سب غریب عوام کی بھلائی کیلئے کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ غریب عوام انہیں آج کل بد دعائیں دے رہی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج تقریباً تین مہینے پہلے کوئٹہ میں شروع ہوا اور ڈاکٹرز نے کوئٹہ کے حساس علاقہ ریڈ زون کے قریب دھرنا دینا شروع کیا۔ بعد ازاں حکومت نے ینگ ڈاکٹرز کے دھرنے کو ریڈ زون سے ہٹا دیا اور کوئٹہ پریس کلب کے قریب احتجاجی کیمپ میں ڈاکٹروں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا شروع کیا۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ینگ ڈاکٹرز کو زیادہ توجہ نہیں ملی تو انہوں نے ریلی کی شکل میں ریڈ زون کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ کوئٹہ پولیس نے انہیں ریڈ زون ایریا میں داخل ہونے نہیں دیا۔

اسکے بعد اس معاملے کا نوٹس عدالت عالیہ بلوچستان نے لیا اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکوٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر کو عدالت طلب کیا۔ چیف جسٹس نے وائی ڈی اے کے صدر سے احتجاج کی وجہ پوچھی تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نے عدالت کو اپنے مطالبات سے آگاہ کیا۔ عدالت نے ان کے جائز مطالبات نوٹ کئے اور کہا کہ آپ کو چاہیئے کہ آپ اپنے مطالبات لے کر حکومت سے ملیں نہ کہ سڑکوں پر نعرے بازی شروع کر دیں۔ عدالت نے کہا کہ ڈاکٹرز کا کام لوگوں کی خدمت کرنا ہے، سیاسی جماعتوں کی طرح احتجاج اور نعرے بازی کرنا نہیں ہے۔ عدالت عالیہ نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر سے کہا کہ آئندہ وائی ڈی اے احتجاج نہ کرے اور احتجاجی ریلی بھی نہ نکالے۔ آپ کے مطالبات عدالت عالیہ کے پاس ہیں، ہم حکومت سے یہ مطالبات منظور کروائیں گے۔

اس سماعت کے ٹھیک ایک دن بعد ینگ ڈاکٹرز نے پھر سے احتجاجی ریلی نکالی اور ریڈ زون کی طرف نکل پڑے۔ عدالت عالیہ نے اگلے دن پھر سے ینگ ڈاکٹرز کے صدر کو طلب کیا اور کھری کھری سنا دیں۔ عدالت نے کہا کہ ہماری جانب سے منع کرنے کے باوجود ینگ ڈاکٹرز نے احتجاجی ریلی نکالی۔ کیا ہم آپ پر توہین عدالت کا مقدمہ درج کر دیں؟ اس پر ینگ ڈاکٹرز کے صدر نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریلی ہم نے نہیں نکالی تھی۔ وہ دوسرے ڈاکٹروں نے نکالی تھی۔ جن کا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ جواب سن کر عدالت عالیہ بلوچستان نے حکم دیا کہ اس بار اگر ینگ ڈاکٹرز نے احتجاجی ریلی نکالی تو ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ینگ ڈاکٹرز کے صدر نے بھی عدالت کے اندر چیف جسٹس کے فیصلے سے اتفاق کیا۔

مگر کچھ دنوں بعد ینگ ڈاکٹرز پھر سے ریلی نکال کر ریڈ زون کی طرف جانے لگے۔ اس بار حالات مختلف تھے۔ کوئٹہ پولیس کو عدالت کی طرف سے حکم ملا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کی جائے، اسی لئے جب ینگ ڈاکٹرز ریڈ زون کی طرف گئے تو پولیس نے طاقت کا استعمال کیا اور ڈاکٹرز کو روک لیا۔ اس کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے جارحانہ طور پر ریڈ زون میں دھرنا دینا شروع کیا۔ اس دھرنے پر رات کے تین بجے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور اس وقت وہاں موجود ینگ ڈاکٹرز کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات تبدیل ہوگئے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ گرفتار ینگ ڈاکٹرز تقریباً ایک مہینہ جیل میں رہے۔ جس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے خود واقعہ کا نوٹس لیا اور ینگ ڈاکٹرز کی رہائی کا حکم دیا۔ گرفتار ڈاکٹرز کی رہائی کے بعد بھی ینگ ڈاکٹرز نے اپنا احتجاج ختم نہیں کیا بلکہ اپنے سابقہ مطالبات پر دوبارہ ڈٹے رہے۔

اس دوران متعدد بار حکومتی مذاکراتی ٹیم ینگ ڈاکٹرز کے پاس آئی اور مذاکرات کرنے کی کوشش کی، مگر انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کے باقی تمام مطالبات تسلیم ہوچکے ہیں، فقط تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ تسلیم نہیں ہوا ہے۔ ڈاکٹرز کی رہائی کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کر رکھا۔ جو تاحال قائم ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماء وقتاً فوقتاً وہاں جاتے ہیں اور حکومت وقت کے خلاف چند کلمات کہہ کر اپنی جماعت کی تعرفیں کرتے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے موجود تھا۔ مگر شاید پھر وہی بات آگئی کہ وہاں توجہ نہیں مل رہی تھی۔ اسی لئے ینگ ڈاکٹرز نے ایک بار پھر احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے ریڈ زون ایریا کا رخ کیا۔ ینگ ڈاکٹرز یہ حربہ بار بار استعمال کرچکے ہیں اور نتائج بھی دیکھ چکے ہیں، مگر پھر بھی یہی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس احتجاج کا نتیجہ بھی وہی نکلا۔

کوئٹہ پولیس نے ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج کر دیا۔ متعدد ڈاکٹروں اور پیرامیڈک اسٹاف کے اراکین کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور انہیں خوب پیٹا گیا۔ پولیس نے ایک بار پھر ینگ ڈاکٹرز کو گرفتار کر لیا ہے اور ینگ ڈاکٹرز پھر سے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز اس قدر خود غرض ہوگئے ہیں کہ بیماری کے اس موسم میں انہیں غریبوں کا کچھ خیال ہی نہیں ہے۔ کوئٹہ میں اس سال بیماروں کی تعداد میں دیگر سالوں کی نسبت بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں آج کل ڈاکٹروں کو فرصت ہی نہیں ہے۔ غریب عوام بھی پرائیوٹ ہسپتال کا رخ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس حالت میں ان غریبوں کا کیا حال ہوگا، جو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور سرکاری ہسپتالوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 974637
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش