0
Saturday 22 Jan 2022 10:51

قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نظر رکھنے کیلئے نئی انسداد دہشت گردی پالیسی تیار

قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نظر رکھنے کیلئے نئی انسداد دہشت گردی پالیسی تیار
اسلام ٹائمز۔ معاشرے میں دیگر معاملات کے ساتھ بڑھتے ہوئے شدت پسندانہ رجحانات کو روکنے کے اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر نظر رکھنے اور ان کی صفوں میں موجود مسائل کا باعث بننے والے عناصر کی بیخ کنی کے مقصد کے تحت نئی پالیسی تیار کر لی گئی۔ ذرائع کے مطابق ٹھوس اقدامات پر زور دینے والی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت نے قومی سطح کی ایک اور اہم پالیسی کی منظوری دی ہے جس کا اہم مقصد لوگوں کے دلوں کو جیتنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے نئی قومی انسداد پرتشدد انتہا پسندی (این سی وی ای) پالیسی 2021ء کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، وکلا اور اقلیتی نمائندوں سے مشاورت کے بعد منظور کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم سیکریٹریٹ میں جمع کرانے سے قبل وفاقی حکومت نے این سی وی ای کا تازہ ترین مسودہ صوبائی حکومتوں کو ارسال کیا ہے۔

وزارت داخلہ اور تمام دستاویزات کو ایک جگہ جمع کرنے والی قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) کے حکام کے مطابق "این سی وی ای" پالیسی گزشتہ سال اگست میں نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان کی سفارشات کی روشنی میں بنائی گئی ہے۔ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے بعد پہلی دفعہ جاری کیے گئے نیشنل ایکشن پلان کے نظرثانی شدہ مسودے کا 13واں نکتہ حکومت سے انسداد پرتشدد انتہا پسندی (سی وی ای) پالیسی سے متعلق ادارہ بنانے اور اس کے اطلاق کا مطالبہ کرتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 سالوں کے دوران غیر فعال رہنے والے شہری محکمے کی جانب سے یہ ایک اہم کام ہے جو مکمل کیا گیا ہے۔

سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری کی ہلاکت اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے پرتشدد دھرنوں جن کے دوران کم از کم 9 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی، ان واقعات کے بعد جارحانہ شدت پسندی کے معاملات واضح طور پر سامنے آئے تھے۔ اس طرح کے پر تشدد اقدامات کے باوجود ٹی ایل پی کارکنان اور قیادت کے خلاف تمام مقدمات حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد ختم کر دیے گئے تھے جبکہ معاہدے کو منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا۔ وزرا نے عزم ظاہر کیا تھا کہ حکومت اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے پالیسی پر کام کر رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 974962
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش