0
Sunday 23 Jan 2022 01:10

قرضوں کا ہمالیہ، 880 ارب روپے کے سکینڈلز، پی ٹی آئی کے قوم کو دیے گئے تحائف ہیں، سراج الحق

قرضوں کا ہمالیہ، 880 ارب روپے کے سکینڈلز، پی ٹی آئی کے قوم کو دیے گئے تحائف ہیں، سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں کرپشن میں بے تحاشا اضافہ ہوا، حکومت نے لٹیروں کو پکڑنے کی بجائے عوام پر ٹیکسز کا بوجھ ڈالا، ہم نہیں بین الاقوامی ادارے رپورٹ کر رہے ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ ناکام ہوگیا۔ سودی معیشت اور ظالم سرمایہ دارانہ نظام سے عوام کراہ رہے ہیں، ملک پر عملا آئی ایم ایف کا قبضہ ہے، معیشت اور معاشرت عالمی مالیاتی اداروں اور این جی اوز کے حوالے کر دی گئی۔ قرضوں کا ہمالیہ، 880 ارب روپے کے سکینڈلز، پی ٹی آئی کے قوم کو دیے گئے تحائف ہیں۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ دو لاکھ 35ہزار کا مقروض، روپے کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو وزیراعظم کہتے ہیں کہ انھیں ٹی وی سے پتا چلا ہے۔ لوگ بجلی، آٹا، چینی کی قیمتوں میں اضافے کی شکایت کرتے تو وزیراعظم کی جانب سے ہدایت آتی ہے گھبرانہ نہیں، کبھی وعظ کیا جاتا ہے کہ سکون قبر میں ملے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ادویات کی قیمتوں میں پانچ سو فیصدتک اضافہ ہوا، غریب کو ہسپتال سے ڈسپرین کی گولی نہیں ملتی۔ پہلے گندم سمگل ہوئی پھر شارٹیج آئی اور بعد میں درآمد کی گئی۔ آٹا، چینی، ادویات، پیٹرول سمیت تمام سکینڈلز میں حکومتی افراد کے نام آئے، آج تک کارروائی نہیں ہوئی۔ نوجوان نسل تباہی اور ڈپریشن کا شکار ہو رہی ہے۔ 70 لاکھ نوجوان نشے کے عادی، حکومتی وزرا خود تسلیم کر رہے ہیں کہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں  55فیصد طالب علم نشہ کرتے ہیں۔ عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا، تربیلا ڈیم کے متاثرین کے حق میں فیصلہ ساٹھ سال بعد آیا، شاید اب متاثرین کی ہڈیاں بھی قبروں میں نہ ملیں۔ یہ کہاں کا نظام ہے جہاں دو سو روپیہ نہ دینے پر بجلی کا میٹر کاٹ لیا جاتا ہے اور کروڑوں کے ڈیفالٹرز کو کوئی نہیں پوچھتا۔

سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم مدینہ کی ریاست کی بات کرتے ہیں، مگر جب انھیں سپریم کورٹ بلاتا ہے تو وہ گھر سے ویڈیو لنک کے ذریعے اعلی عدالت سے خطاب کرتے ہیں۔ انھیں کون بتائے کہ مدینہ کی ریاست میں خلیفہ وقت قاضی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے، مدینہ کی ریاست میں محمود و ایاز میں ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں، مدینہ کی ریاست میں لوگوں کو انصاف گھر کی دہلیز پر ملتا ہے۔ ہمارے ہاں فلاحی اسلامی ریاست کے نام پر سود کے کاروبار کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے اور خاندانی نظام پر حملے ہو رہے ہیں۔ چھوٹی سی غلطی پر غریب کو دھر لیا جاتا ہے اور وڈیرے اور جاگیردار سرعام قانون پاوں تلے روندتے ہیں۔

 
خبر کا کوڈ : 975110
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش