0
Monday 24 Jan 2022 00:06

بورجام سے دستبرداری گذشتہ پچاس برس کا احمقانہ ترین فیصلہ تھا، امریکی سینیٹر

بورجام سے دستبرداری گذشتہ پچاس برس کا احمقانہ ترین فیصلہ تھا، امریکی سینیٹر
اسلام ٹائمز۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ کے ڈیموکریٹ سینیٹر کریس مرفی، جو سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے اپنے ٹویٹر پیغام میں امریکہ اور ایران کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: "بورجام سے ڈونلڈ ٹرمپ کی دستبرداری ایسا فیصلہ تھا جس کی اس وقت کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے مخالفت کی تھی اور یہ فیصلہ گذشتہ پچاس برس کے دوران امریکہ کی سیاست خارجہ میں احمقانہ ترین اور خطرناک ترین فیصلہ تھا۔" امریکی کانگریس کے اس اعلی سطحی قانون دان کا یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ویانا میں مغربی ممالک اور ایران میں جوہری مذاکرات جاری ہیں جن میں ایران کے خلاف عائد کردہ ظالمانہ امریکی پالیسیوں کو ختم کرنے کا طریقہ کار طے کیا جا رہا ہے۔ ویانا میں حالیہ مذاکرات کا سلسلہ 29 نومبر 2021ء کو شروع ہوا تھا جو اب تک جاری ہے۔
 
یاد رہے 2015ء میں اسلامی جمہوریہ ایران اور 5 + 1 گروپ نامی مغربی ممالک کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق "بورجام" نامی معاہدہ طے پا گیا تھا۔ اگرچہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے نے ہمیشہ سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے معاہدے کی بھرپور پابندی کی ہے لیکن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی 2018ء کے دن اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔ ان کا یہ فیصلہ اس تناظر میں بھی بہت اہم قرار دیا جا رہا تھا کیونکہ بورجام معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تائید بھی حاصل تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبردار ہونے سے پہلے کئی بار یہ دعوی کیا کہ یہ معاہدہ ایک تباہ کن معاہدہ ہے جسے ختم کر کے ایک نیا اور زیادہ بہتر معاہدہ انجام دینے کی ضرورت ہے۔
 
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورجام معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباو اختیار کرنے کا اعلان کیا اور اسے مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں۔ ان کی یہی شکست صدارتی الیکشن میں ناکامی کا بھی باعث بنی اور وہ گذشتہ امریکی صدور کی طرح دوسری بار صدر بننے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جو بائیڈن ان کے بعد نئے امریکی صدر کے طور پر برسراقتدار آئے اور انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو غلط قرار دیتے ہوئے خارجہ سیاست میں اصلاح کرنے کا اعلان کیا۔ وہ صدر بننے سے پہلے اپنی صدارتی الیکشن مہم کے دوران یہ وعدہ کر چکے تھے کہ بورجام معاہدے میں واپس لوٹ آئیں گے۔ لیکن انہوں نے اس وعدے کے باوجود برسراقتدار آ کر ٹرمپ کی پالیسیوں کو ہی آگے بڑھایا اور ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباو برقرار رکھا۔
خبر کا کوڈ : 975250
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش