0
Monday 24 Jan 2022 22:40

پروآ، قتل ہونیوالے اہل تشیع تاجروں کی دکانوں پر بھی حملہ

پروآ، قتل ہونیوالے اہل تشیع تاجروں کی دکانوں پر بھی حملہ
اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروآ میں اہل تشیع پر دامن حیات تنگ کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ دنوں دہشت گردانہ حملے میں تین اہل تشیع مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ جن کی قل خوانی میں اہل تشیع جماعتوں کے صوبائی و مرکزی رہنماؤں نے خصوصی شرکت کی اور قل خوانی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انتظامیہ سے اس جاری بربریت کی روک تھام کا دو ٹوک مطالبہ کیا۔ ان رہنماوں نے اپنی گفتگو میں مختلف محکموں میں کالی بھیڑوں کی موجودگی اور ان کے سدباب کا بھی مطالبہ کیا۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی اور ان کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کیا تھا جبکہ شیعہ علماء کونسل نے علاقہ مکینوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ حملہ آوروں یا سہولتکاروں کی نشاندہی کریں تو ہم انعام بھی دیں گے۔ قل خوانی کے بعد رات گئے مقتولین کی دکانیں بھی توڑ دی گئیں۔

شہداء کے ایک قریبی عزیز نے انکشاف کیا ہے کہ قل خوانی کے بعد رات کو شہداء کی دکانوں کے تالے توڑے گئے اور شٹر کاٹے گئے۔ اگلے دن قریبی دکانداروں نے شہداء کے ورثاء سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ دکانوں کے تالے توڑے گئے ہیں، لہذا آکر سنبھال لیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ پیر کے دن صبح سویرے پروآ کے علاقے بھٹیسر میں تین اہل تشیع تاجروں کو ان کی دکانوں پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا تھا۔ ان کی شہادت کے بعد علاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے انڈس ہائی وے کو بند کر دیا تھا۔ تاہم پولیس کی جانب سے قاتلوں کی گرفتاری اور سکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کرکے شہداء کی تدفین کی گئی تھی جبکہ اگلے ہی دن قل خوانی کے بعد شہداء کی دکانیں بھی توڑ دی گئیں۔
خبر کا کوڈ : 975397
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش