0
Wednesday 26 Jan 2022 12:32

کراچی، سرکاری اسپتالوں میں سرد خانوں کی سہولت غیر اعلانیہ ختم

کراچی، سرکاری اسپتالوں میں سرد خانوں کی سہولت غیر اعلانیہ ختم
اسلام ٹائمز۔ ملک کا 70 فیصد ٹیکس ادا کرنے والے کراچی کے عوام کیلئے جہاں سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولتیں بتدریج کم کی جا رہی ہیں، وہاں ان اسپتالوں میں لائی جانے والی لاشوں کیلئے بھی کولڈ اسٹوریج (سرد خانوں) کی سہولت غیر اعلانیہ طور پر ختم کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں مختلف واقعات اور حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کیلیے کولڈ اسٹوریج کی سہولتیں ختم کر دی گئی، اسپتالوں میں جاں بحق ہونے والوں کی لاش ان کے ورثا خیراتی اداروں میں رکھنے پر مجبور ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں گھر لے جانے کے بجائے اسپتالوں سے خیراتی اداروں میں رکھواتے ہیں، جہاں نماز جنازہ سے چند گھنٹے قبل تدفین کیلئے باڈی کو لے جاتے ہیں، لاش کو تدفین تک محفوظ رکھنے کیلئے کولڈ اسٹوریج میں منفی 4 سے 15 ڈگری سنٹی گریڈ پر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

مطلوبہ درجہ حرارت نہ ملنے کی صورت میں باڈی خراب ہونا شروع ہونے لگتی ہے، اس لیے ورثا اپنے پیاروں کی باڈی کولڈ اسٹوریج میں دکھوانے کو ترجیحی دیتے ہیں، لیکن سرکاری سطح پر یہ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے باڈیز کو خیراتی اداروں میں امانتاً رکھوانے کے رجحان میں اضافہ ہو گیا۔ جناح، سول اور عباسی شہید اسپتال کے میڈیکو لیگل شعبے اور پوسٹمارٹم میں کام کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ کراچی میں یومیہ 25 سے 30 لاشیں مختلف حادثات و واقعات میں اسپتالوں میں لائی جاتی ہیں، تاہم اسپتالوں میں سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ان لاشوں کو خیراتی اداروں میں رکھوایا جا رہا ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق متعدد سرکاری اسپتالوں میں قائم کیے جانے والے کولڈ اسٹوریج کو عدم توجہی اور انتظامی لاپرواہی کی وجہ سے غیر اعلانیہ طور پر ختم کر دیئے گئے۔

سول، جناح اور عباسی اسپتال کے میڈیکو لیگل شعبے کے مطابق جناح اسپتال، سول اسپتال، عباسی اسپتال سمیت کسی بھی اسپتال میں مطلوبہ درجہ حرارت کی سہولت نہ ہونے اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کوئی کولڈ اسٹوریج کی سہولت میسر نہیں، اس طرح کراچی میں مختلف حادثات و واقعات میں جان بحق ہونے والوں کی لاشیں سرکاری اسپتالوں میں کولڈ اسٹوریج کے بجائے خیراتی اداروں میں رکھوائی جا رہی ہیں، جہاں پر خیراتی ادارے لاشوں کو رکھنے، غسل اور کفن کی مد میں 2 سے 3 ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔ اس حوالے سے محکمہ صحت کے متعلقہ افسرنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت پبلک سیکٹر میں لاشوں کو رکھنے کیلئے کراچی میں کولڈ اسٹوریج (سرد خانے) کی سہولت موجود نہیں، ناگہانی یا کوئی حادثہ رونما ہونے کی صورت میں لاشوں کو مختلف اسپتالوں میں بھیجا جاتا ہے، جہاں پر کوئی فارنسنگ ماہرین کی ٹیم بھی موجود نہیں، لاشوں کی شناخت کیلئے کوئی مؤثر انتظامات بھی نہیں۔
خبر کا کوڈ : 975652
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش