0
Saturday 21 May 2022 10:19

چولستان میں انسانی زندگیاں داو پر لگی ہوئی ہیں، سعد رضوی

چولستان میں انسانی زندگیاں داو پر لگی ہوئی ہیں، سعد رضوی
اسلام ٹائمز۔ امیر تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ چولستان میں سسکتی انسانیت دھرتی پر بسنے والے انسانوں سے مدد کی طلبگار ہے، انسانی زندگیاں داو پر لگی ہوئی ہیں، مویشیوں کی ہلاکتوں کی میڈیا پر نشاندہی پر بھی انتظامیہ نہ جاگی، چولستان پانی کی بوند بوند کو ترس گیا، چولستان میں انسانوں اور جانوروں کیلئے پینے کا پانی نایاب ہے، جس کے باعث چولستان میں جانور مر رہے ہیں بھیڑ، بکریاں اور گائیں ہلاک ہونا شروع ہوئیں توچولستانیوں کی طرف سے نقل مکانی اور احتجاج شروع ہوا تو انتظامیہ خواب خرگوش سے باہر آئی، لیکن اس نے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھانے کی بجائے روایاتی طرز عمل اپناتے ہوئے محض کمیٹیوں کی تشکیل پر ہی اکتفا کیا۔ حکومت کسی بڑے سانحے کا انتظار کر رہی ہے، بروقت درست اقدامات نہ کر کے چولستانیوں پر ظلم کیا جا رہا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کو چولستان کی حالت زار سنوارنا ہوگی، جنوبی پنجاب کے بہت سے پسماندہ اضلاع میں ابھی تک پینے کا صاف پانی مہیا نہیں، چولستان کی عوام چوروں اور وڈیروں کو ووٹ دینا بند کریں، چولستان کے پڑھے لکھے نوجوان وڈیروں کی غلامی سے انکار اور تحریک لبیک کے پیغام کو پھیلائیں، امیر ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی کا مزید کہنا تھا کہ چولستان کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار وفاقی و صوبائی حکومت، آبی وسائل کی وزارت، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پی ٹی آئی، ق لیگ اور پیپلز پارٹی سب ہیں، چولستان میں خشک سالی کوئی ناگہانی آفت نہیں، بلکہ سو فیصد حکومت کی بدانتظامی و نااہلی ہے، حکومت کا یہی حال رہا تو خدشہ ہے کہ حکمران لاہور، کراچی، فیصل آباد کو بھی چولستان بنا دیں گے۔

سعد حسین رضوی کا کہنا تھا کہ جتنا بجٹ خزانے سے نکلتا ہے، اتنے پیسوں سے تو پورے صحرائے چولستان کو شالیمار باغ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس موقع پر ٹی ایل پی شعبہ سوشل ویلفیئر کی ریلیف سرگرمیاں قابل ستائش ہیں، جنہوں نے فوری ریلیف آپریشن شروع کیا تاکہ ہمارے چولستان کے باسیوں کو ان حالات سے نکالا جا سکے۔
خبر کا کوڈ : 995320
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش