0
Wednesday 23 Nov 2022 20:13

پاراچنار بارڈر تنازعے کے حوالے سے ایم ڈبلیو ایم KP کی پریس کانفرنس

متعلقہ فائیلیںرپورٹ: ایس این حسینی

مجلس وحدت مسلمین KP کے صدر علامہ جہانزیب علی، جنرل سیکرٹری شبیر ساجدی، مدرسین جامعۃ الشہید، علامہ عابد حسین شاکری، علامہ سید جمیل حسن شیرازی، مولانا سید عالم شاہ الحسینی، مولانا تقی زیدی اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پشاور ڈویژن کے نمائندے محمد جان نے ضلع کرم خرلاچی کے مقام پر پاک افغان تنازعے کے حوالے سے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2670 کلومیٹر لمبی ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کا آغاز کرم سے ہوا۔ جہاں حکومت کو مقامی قبائل کی بھرپور حمایت حاصل تھی، تاہم باڑ بچھاتے وقت مقامی قبائل سے مشورہ نہیں کیا گیا اور اس عدم مشورے اور غلط فیصلے کے باعث مقامی قبائل کی سینکڑوں جریب زمین باڑ کے اس طرف رہ کر افغانستان کا حصہ بن گئی۔ جس کی وجہ سے مقامی قبائل کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پورے 2670 کلومیٹر ڈیورنڈ لائن میں سب سے واضح نشاندھی کرم کے ساتھ سرحد پر موجود ہے۔ 1846ء میں جب یہاں افغان امیر دوست محمد خان نے کرم کو ایک الگ ولایت (صوبے) کی حیثیت دی اور اپنے چہیتے بیٹے کو یہاں کا والی بنایا تو اس ولایت کا حدود اربعہ متعین تھا۔

اس خطے میں سرکاری بارڈر سے ہٹ کر بھی قوموں کی اپنی حدود جانی پہچانی ہیں۔ اس علاقے میں طوری قوم کا حد ملکیت ہزار سال سے متعین ہے۔ انگریزوں نے دوسری اینگلو افغان جنگ 1878ء میں کرم کو اپنی تاریخی حدود اربعہ کے ساتھ معاہدہ گندمک کے تحت افغانستان سے آزاد کرایا تو اس وقت افغان امیر شیر علی خان اور اس کے بعد سردار یعقوب خان اور اس کے بعد امیر عبدالرحمن سے یہ معاہدہ کروایا کہ کرم کی حدود کا احترام کرینگے اور کسی قسم کی مداخلت نہیں کرینگے۔ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ڈیورنڈ لاین کا آغاز 1893ء میں ہوا تو کرم کی حدود خاص طور پر خرلاچی اور میدان کے علاقے میں بڑی واضح نشاندھی ہوگئی۔ خرلاچی کے قریب سوختہ چھاؤنی اور میدان میں لاکہ تیگہ تاریخی لینڈ مارک بنے۔ اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ خرلاچی کی زمینوں کو سیراب کرنے والی نہر کا بند افغان حدود میں آیا تو اس مشکل کو حل کرانے کے لیے وائسرائے ہند اور امیر عبدالرحمان کے مابین خطوط کا تبادلہ ہوا، جس کا ریکارڈ سرکاری اسناد میں موجود ہے۔

اس کے تحت افغان امیر نے ضمانت دی کہ ندی کے بند میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ ایک بار پھر 1919ء میں تیسری اینگلو افغان جنگ کے بعد امیر امان اللہ خان سے اس بارڈر کو تسلیم کرایا گیا۔ حالیہ متنازعہ اور لایعنی بارڈر فینسنگ کے دوران پاکستانی فوجی حکام کی نااہلی یہ تھی کہ ڈیورنڈ لاین کی واضح نشاندھی کو نظر انداز کرکے باڑ لگوائی اور اس سلسلے میں مقامی قبائل کے احتجاج کو بھی نظر انداز کر دیا۔ مقامی قبائل نے مجبور ہو کر افغانستان پر مسلط شدہ خونخوار طالبان کے تجاوز کے خلاف گذشتہ روز اقدام کیا، جو درحقیقت پاکستانی فوج کا فرض تھا۔ ہم ملکی سلامتی اور سرحدوں کی نگران فوج اور انتظامی حکام سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ اگر وہ واقعی سرحدوں کے رکھوالے ہیں تو گیارہ سو جریب تسلیم شدہ اور کاغذات مال میں متعین شدہ سرزمین پاکستان پر سودے بازی نہ کرے اور اس کو آزاد کرانے میں مقامی قبائل کی حمایت اور مدد کرے۔ ورنہ ان کا یہ دعویٰ کہ ہم ایک ایک  انچ سرزمین کے رکھوالے ہیں، بے معنی رہ جائیگا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.youtube.com/c/IslamtimesurOfficial
خبر کا کوڈ : 1026408
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش