0
Tuesday 26 Apr 2016 22:57

سپاہ صحابہ کیلئے کام کرنیوالے لوگ آج اہلسنت والجماعت میں کام کر رہے ہیں، علامہ نعیم قادری

علامہ محمد نعیم حیدر قادری  کا بنیادی تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ حویلیاں ضلع ایبٹ آباد سے ہے، وہ اہلسنت کے حقوق اور فلاح و بہبود کیلئے سرگرم ادارہ الحیدر اسلامک مشن انٹرنیشنل کے مرکزی چیئرمین ہیں، اس ادارہ کے سرپرست اعلٰی ان کے والد گرامی حیدر  رضوان حیدر ہیں۔ جناب علامہ نعیم حیدر قادری صاحب ایک خوش مزاج طبعیت کی مالک شخصیت ہیں، وہ اتحاد بین المسلمین پر یقین رکھتے ہیں، اور بالخصوص اہلسنت تنظیمات کے مابین اتحاد کیلئے ہمیشہ کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان کیساتھ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: سب سے پہلے ہمارے قارئین کو اپنے ادارہ الحیدر اسلامک مشن کے حوالے سے بتایئے گا۔؟
علامہ نعیم حیدر قادری:
ہم نے یہ ادارہ مسلک اہلسنت و الجماعت کی اشاعت و ترویج کیلئے الحیدر اسلامک مشن انٹرنیشنل کے نام سے بنایا ہے، 2011ء میں جامعہ حیدریہ لاہور سے اس کا آغاز کیا گیا۔ ہمارا دستور اور منشور پرنٹیڈ موجود ہے، دو الفاظ میں اسے یوں ہی بیان کیا جاسکتا ہے کہ مسلک اہلسنت و الجماعت کی نشر و اشاعت اور حقوق اہلسنت کا تحفظ۔ مساجد، مدارس، مزارات اولیاء کا تحفظ، اس کے علاوہ درس قرآن، درس حدیث، محافل مجالس، محافل میلاد، فلاح و بہبود کے اداروں کا قیام۔ یہ سب ہمارے مشن میں شامل ہے۔ ہمارے پاس 40 علماء و مشائخ کی ایک سپریم کونسل ہے، جو اس ادارے کی سرپرستی کر رہی ہے، جس میں پورے پاکستان سے علماء و مشائخ کی نمائندگی ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں اہلسنت والجماعت مسلک کے پیروکاروں کی اکثریت ہے، تاہم اہلسنت اکابرین نہ مذہبی لحاظ سے اور نہ ہی سیاسی لحاظ سے متحد دکھائی دیتے ہیں، کیا انکو کسی ایک پلیٹ فارم پر لانے کیلئے آپکے ادارے نے کوئی کوششیں کی ہیں۔؟
علامہ نعیم حیدر قادری:
ہمارے ادارے اور تحریک کا مقصد یہ ہے کہ اہلسنت کے اندر موجود چھوٹے چھوٹے اختلافات کو اگنور کیا جائے اور علمائے کرام ایک پلیٹ فارم پر بیٹھ کر مسلک اہلسنت کی اشاعت و ترویج کیلئے کام کریں، عقیدہ توحید، عقیدہ ختم نبوت (ص)، صحابہ کرام (رض)  اور بزرگان دین کی عزت و توقیر کے حوالے سے ترویج کی جائے اور چھوٹے چھوٹے فروعی اختلافات کو اگنور کیا جائے۔ تاکہ بہت بڑے بڑے جھگڑے پیدا نہ ہوں۔ ہمارا یہ مقصد ہے کہ ہم اہلسنت علماء کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں اور چھوٹے چھوٹے مسائل کو چھوڑ کر حقیقی اور اصولی مسائل پر کام کریں۔

اسلام ٹائمز: اہلسنت تنظیمات کی آپکے سسٹم میں شمولیت ہے یا آپکا ادارہ خود مختار ہے۔؟
علامہ نعیم حیدر قادری:
بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی جتنی بھی جماعتیں ہیں، ہمارا ان سے تعلق ہے، وہ ہمارے پروگراموں میں آتے ہیں، تقاریر بھی کرتے ہیں، تنظیمی سیٹ اپ ہمارا اپنا ہے اور دیگر تنظمیات کا اپنا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا دیگر مکاتب فکر کے علمائے کرام سے بھی آپ دینی معاملات میں رابطہ رکھتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے آپکا ادارہ کوئی کردار ادا کر رہا ہے۔؟
علامہ نعیم حیدر قادری:
جی۔ دیگر مسالک کے لوگ، جن میں دیوبندی اور اہلحدیث شامل ہیں، وہ مسائل جن پر ہمارا اور ان کا اتفاق ہے، مثلاً عقیدہ توحید، عقیدہ ختم نبوت (ص)، تحفظ ناموس رسالت (ص) پر ایک ساتھ چلتے ہیں اور اگر وہ ہمیں کبھی مدعو کرتے ہیں تو ہم بھی جاتے ہیں۔ باقی اختلافی مسائل میں ہم ایک دوسرے کیساتھ نہیں چل سکتے۔

اسلام ٹائمز: کیا اہل تشیع مکتب فکر کیساتھ بھی روابط ہیں۔؟
علامہ نعیم حیدر قادری:
تنظیمی سطح پر تو نہیں، البتہ دعا، سلام کی حد تک، یا پھر مسائل کے حوالے سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں، بات چیت کرتے ہیں، بلکہ ایک دوسرے کے مسلک کے حوالے سے جو بدگمانیاں ہوں، وہ دور کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اسلام آباد میں گذشتہ دنوں اہلسنت جماعتوں کیجانب سے دھرنا دیا گیا، اس دھرنے میں کیا مطالبات منظور ہوئے اور یہ دھرنا کس حد تک کامیاب رہا۔؟
علامہ نعیم حیدر قادری:
ہم ممتاز قادری صاحب کے جنازے میں بھی گئے تھے اور دھرنے میں بھی۔ دھرنا ماشاء اللہ کامیاب ہوا، کیونکہ ناموس رسالت (ص) کیلئے اتنی کثیر تعداد میں عوام اور علماء کا اکٹھا ہونا بڑی بات تھی۔ پھر جو حکومت کیساتھ مذاکرات ہوئے ان میں ہمارے علماء کی جانب سے کئے گئے تمام مطالبات جائز تھے۔ اس میں ایک مطالبہ یہ تھا کہ 295 سی میں کسی قسم کی ترمیم کرنے کی کوشش نہ کی جائے، اس کو تسلیم بھی کیا گیا، دوسرا یہ کہ ٹی وی پر فحاشی و عریانی کو کنٹرول کیا جائے، یہ مطالبہ بھی حکومت نے تسلیم تو کیا کہ پیمرا کو ہم نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔ حکومت اپنی باتوں پر عمل نہ کرے تو یہ الگ بات ہے، لیکن حکومت نے اس بات کو تسلیم کیا۔ ہم نے پرامن مظاہرہ کیا، اگر کسی نے توڑ پھوڑ کی تو ہمارے علماء نے ان سے بائیکاٹ کیا۔ ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ گرفتار علمائے کرام کو چھوڑا جائے، یہ بھی حکومت نے تسلیم کیا۔ دھرنا اس حوالے سے تو کامیاب رہا، لیکن اس حوالے سے ناکام رہا کہ انتظامات ٹھیک نہیں تھے۔

اسلام ٹائمز: صوبہ خیبر پختونخوا اب بھی دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، اس لعنت سے چھٹکارے کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ نعیم حیدر قادری:
حکومت کی اپنی پالیسیاں ہیں، تاہم پاک فوج دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جو اقدامات کر رہی ہے، وہ قابل ستائش ہیں۔ دہشتگردی کے کچھ ایسے اسباب ہیں، کہ جن کو جب تک ختم نہیں کیا جاتا، دہشتگردی کو ختم نہیں کیا جاسکے گا۔ ان اسباب کو ختم کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ ظاہر ہے جو شخص اپنے حالات سے تنگ ہوگا تو وہ دہشتگردی پر اترے گا۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسی پالیسیاں اپنائے کہ عوام خوشحال ہوں۔

اسلام ٹائمز: دیکھا گیا ہے کہ ہزارہ ڈویژن میں کالعدم جماعتیں خاصی فعال ہیں، اس حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ نعیم حیدر قادری:
ہزارہ ڈویژن میں کالعدم تنظیموں کے لوگ کام کر رہے ہیں، جب ان تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا تو یہ نئے ناموں سے آگئیں۔ مثلاً سپاہ صحابہ پر جب پابندی لگی تو اس نے ملت اسلامیہ کا نام رکھا، ملت اسلامیہ پر پابندی لگی تو اہلسنت والجماعت نام رکھ لیا، جو ورکر وہاں کام کرتے تھے، اہلسنت والجماعت کے نام سے کام کرنے لگے۔ یہ وہی لوگ ہیں، احمد لدھیانوی اور اورنگزیب فاروقی کل سپاہ صحابہ کیلئے کام کرتے تھے، آج اہلسنت والجماعت کیلئے کام کر رہے ہیں۔ نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا، جب تک کردار نہیں بدلیں گے۔

اسلام ٹائمز: کیا یہ کالعدم جماعتیں ہزارہ ڈویژن میں آپکے مسلک کے پیروکاروں کیلئے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔؟
علامہ نعیم حیدر قادری:
جب تک پرویز مشرف نے ان جماعتوں کو بین نہیں کیا تھا، اس وقت تک تو انہوں نے یہاں بہت دہشتگردی کی۔ یہ نمازیوں کو تنگ کرتے تھے، اسلحہ لیکر نماز پڑھتے تھے، جو ان کے مسلک سے ہٹ کر بندہ ہوتا تھا، اس کو یہ ذلیل کرتے تھے، راتوں کو علمائے کرام کے گھروں میں گھس کر انہیں ٹارگٹ کرتے تھے، جب سے ان پر پابندی لگی ہے، اس وقت سے انہوں نے کھل کر ایسے کوئی اقدامات نہیں کئے، پابندی لگنے کے بعد ان علاقوں میں کافی امن ہوا ہے۔  
خبر کا کوڈ : 535419
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے