0
Wednesday 30 Sep 2020 19:35

تکفیری رہنماء معاویہ اعظم کا ولایت فقیہ اور امامت کا نظریہ رکھنے والوں سے علیحدہ ہونیکا مشورہ

متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کے زیراہتمام جماعت کے مرکز منصورہ لاہور میں ختم نبوت و عظمت صحابہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنماوں سراج الحق، امیر العظیم، ذکر اللہ مجاہد، جے آئی یوتھ کے صدر زبیر احمد گوندل، مولانا ابتسام الہیٰ ظہیر، صدر مجلس تحفظ ختم نبوت مفتی امتیاز مروت اور پنجاب اسمبلی کے تکفیری رکن معاویہ اعظم نے خطاب کیا۔ تکفیری رہنماء نے کہا کہ سراج الحق صاحب عظمت صحابہ کا جھنڈا آپ نے اٹھایا ہے، آپ کے جوتوں کو ہم اپنے سر پر رکھنا سعادت سمجھتے ہیں، ہم صحابہ کے غلاموں کے غلام ہیں، آخر میں یہ کہوں گا کہ مولانا فضل الرحمان ہوں، سراج الحق صاحب ہوں یا مولانا شاہ احمد نورانی کے صاحبزادگان ہوں، قاری زوار بہادر ہوں، ابتسام الہٰی ظہیر ہوں، مفتی منیب الرحمان ہوں یا مفتی تقی عثمانی ہوں، وہ اس ملک میں اسلامی نظام لانا چاہتے ہیں، حضور اکرم (ص) کے بعد صدیق کے دور میں تھا، فاروق کے دور میں چلا، وہ تو مل کر وہ نظام لا سکتے ہیں، جو صدیق کو امام سمجھتے ہوں، جو ان صدیق اور فاروق کو مسلمان ہی نہ سمجھتا ہو، وہ ہمارا ساتھی نہیں ہو سکتا۔

ہمارا ساتھی وہی ہوسکتا ہے، جو فاروق اعظم کو امام مانے، جو خلافت پر ایمان رکھتا ہو، جو ولایت فقیہ اور امامت کا ڈنکا بجا کر ایک نئے نظام کی طرف اپنی پینگیں بڑھانے کی کوشش کرے، وہ ہمارا ساتھی نہیں ہوسکتا، ذمہ دار اسٹیج پر کھڑا ہو کر کہہ رہا ہوں، جس طرح سراج الحق صاحب نے جمعیت علمائے اسلام کے تاریخی جلسے میں کہا تھا کہ ہم مکمل طور پر اپنا سیاسی اور مذہبی اثر و رسوخ مولانا فضل الرحمان کی گود میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں، میں کہتا ہوں آیئے ابوبکر، عمر، عثمان اور علیؑ کے نظام کیلئے جدوجہد کریں، ہم اپنے چاہنے والوں کی ساری محبتیں، سارا سیاسی اثر و رسوخ، حضرت علامہ سراج الحق کی جھولی میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں، آئیں آگے چلیں، ہم آپ کے قدم بہ قدم ہونگے، آپ کا پسینہ گرے گا تو ہم خون بہا دینگے۔

آج کے جوان سے کہتا ہوں:
اٹھ شیر مجاہد ہوش میں آ، تعمیر خلافت پیدا کر، کیوں فرقے فرقے ہوتا ہے، اب ایک جماعت کو پیدا کر
کر تو بھی ترقی دنیا میں، اسباب تجارت پیدا کر، قارون کی دولت ٹھکرا دے، عثمان کی دولت پیدا کر
اسلام کے رستے پہ چلتا ہے، کفار سے پھر کیوں ڈرتا ہے یا تو اسلام کا نام نہ لے یا شوق شہادت پیدا کر
دل سے یہ کہہ کر آ گھبرائے نہ، حالات بدلنے والے ہیں، جو کانٹے بن کر آئے تھے، وہ لمحے ٹلنے والے ہیں
مظلوموں کی آہوں نے، شعلوں کی الئیں بھرنی ہیں، ہمت نہیں طوفانوں میں، جذبوں کو ہمارے چھین سکیں، جتنا ہم سے سلجھو گے، ہم اور نکلنے والے ہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ابتسام الہیٰ ظہیر نے کہا کہ ہم مر تو سکتے ہیں، لیکن صحابہ کی توہین گوارہ نہیں کرسکتے۔ جماعت اسلامی یوتھ کے مرکزی صدر زبیر احمد گوندل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پڑھے لکھے، مزدور پیشہ، تجارت پیشہ، وکلاء، سب نوجوانوں کو ملک بھر میں منظم کر رہے ہیں، ہم دو حوالوں سے پیغام دے رہے ہیں کہ دین، اسلام اور صحابہ کے تحفظ کیلئے آپ کو اکٹھا کرنا ہے، دوسرا یہ کہ مظلوم کا ساتھ دینا ہے اور ظلم کیخلاف کھڑا ہونا ہے، جوان ووٹ کی طاقت بندوق کی گولی سے زیادہ طاقت کی حامل ہے، آپ ووٹ کی طاقت سے ان لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیج سکتے ہیں، جو دین کا بھی تحفظ کریں اور جغرافیے کا بھی تحفظ کریں، ان شاء اللہ فرقہ واریت ختم ہوگی اسلام اور پاکستان کا تحفظ ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 888941
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش