0
Tuesday 27 Oct 2020 11:07

پشاور، مدرسے میں بم دھماکے کی فوٹیج

متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے دارالخلافہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں کوہاٹ روڈ پر واقع مدرسے میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 70 زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت مدرسے میں تدریسی سلسلہ جاری تھا، دھماکے کے نتیجے میں شہید و زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ پولیس، سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں دھماکے کے مقام پر پہنچ چکی ہیں جو امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق زخمی ہونے والے متعدد بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے حکام کے مطابق اسپتال میں 5 لاشیں لائی گئی ہیں، جاں بحق ہونے والے افراد کی عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان ہیں۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے حکام نے 70 زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کی بھی تصدیق کی ہے جن میں سے 40 بچے ہیں۔

پشاور پولیس کے مطابق دھماکا ٹائم بم کے ذریعے کیا گیا جبکہ دھماکا خیز مواد بیگ میں رکھ کر مدرسے لایا گیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں 4 سے 5 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔ آئی جی خیبر پختونخوا ثناء اللّٰہ عباسی نے دھماکے میں 4 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق عمومی تھریٹ الرٹ تھا، دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ابھی تفتیش جاری ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز منصور امان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اب تک 7 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن منصور امان نے بتایا کہ دھماکا پشاور کی دیر کالونی میں واقع ایک مدرسے میں ہوا۔ ریسکیو حکام کے مطابق دھماکا مدرسہ کے مرکزی ہال میں ہوا۔

ادھر ایک اور سینئر پولیس عہدیدار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مدرسے میں دھماکا اس وقت ہوا جب قرآن پاک کی کلاس جاری تھی اور کوئی فرد مدرسے میں بیگ رکھ کر چلا گیا۔ ایک اور سینئر پولیس افسر محمد علی گنڈا پور نے ان معلومات کی تصدیق کی اور کہا کہ زخمی ہونے والوں میں 2 استاد بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ دیر کالونی میں دھماکے کے بعد 7 لاشوں اور 70 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہیں تاہم زیادہ تر زخمی جھلسے ہوئے ہیں جبکہ ہسپتال ڈائریکٹر محمد طارق برکی خود ایمرجنسی ٹیم کے ہمراہ ایمرجنسی میں موجود ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھی خیبرپختونخوا میں دھماکے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

29 ستمبر کو خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹے کے اندر 2 دھماکے ہوئے تھے جس میں مجموعی طور پر 9 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ پہلا دھماکا ضلع نوشہرہ کے علاقے اکبر پورہ میں دریائے کابل کے ساتھ موجود مارکیٹ میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوگئے تھے۔ ڈی پی او نجم الحسن نے بتایا تھا کہ کچھ لوگ دریائے کابل کے کنارے سے پتھروں سے کچھ اسکریپ کا سامان نکال رہے تھے، جس میں کچھ دھماکا خیز مواد بھی تھا جو اس وقت پھٹ گیا جب وہ اس کا وزن کر رہے تھے۔ اسی روز دوسرا دھماکا ضلع مردان میں کاروباری مرکز 'جج بازار' میں سائیکل میں نصب دھماکا خیز مواد پھٹنے سے ہوا تھا، جس میں دو کمسن بیٹیوں اور باپ سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
 
خبر کا کوڈ : 894254
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش