0
Saturday 3 Apr 2021 10:30

کراچی، شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے مزار قائدؒ پر دھرنا، ویڈیو رپورٹ

متعلقہ فائیلیںویڈیو رپورٹ: سید ظفر حیدر

جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز نے جبری گمشدہ شیعہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف 2 اپریل سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا، جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز اور جبری گمشدہ شیعہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے مرکزی احتجاجی دھرنا کراچی میں دیا گیا ہے، کراچی میں احتجاجی دھرنا دینے کیلئے شہر بھر سے خواتین، بچوں، بزرگوں، نوجوانوں سمیت شیعہ علمائے کرام و اکابرین 2 اپریل بروز جمعہ شام پانچ بجے محفل شاہ خراسان، سولجر بازار کے سامنے جمع ہوئے، اس موقع پر علماء کرام نے مظاہرین سے خطاب بھی کیا۔ شرکاء کی جانب سے لبیک یاحسینؑ و دیگر شعار سے فضاء گونج اٹھی۔

بعد ازاں علماء کرام و جبری گمشدہ افراد کے اہلخانہ کی قیادت میں مظاہرین نے احتجاجی مارچ کا آغاز کیا۔ مظاہرین مارچ کرتے ہوئے نمائش چورنگی ایم اے جناح روڈ پہنچے، جہاں مارچ احتجاجی دھرنے میں تبدیل ہوگیا۔ نمائش چورنگی پر احتجاجی دھرنے میں مظاہرین نے اپنے جبری گمشدہ پیاروں کی تصویریں اور ان کی بازیابی کیلئے مطالباتی پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ نمائش چورنگی پر کچھ دیر بیٹھنے کے بعد مظاہرین احتجاجی مارچ کرتے ہوئے مزار قائدؒ پہنچے اور مرکزی دروازے پر دھرنا دے دیا۔ مزار قائدؒ پر احتجاجی دھرنے میں علامہ احمد اقبال رضوی، مولانا حیدر عباس عابدی، مولانا ڈاکٹر عقیل موسیٰ، علامہ مختار امامی، علامہ صادق جعفری، علامہ مبشر حسن سمیت جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے دیگر رہنماء بھی موجود ہیں۔

دھرنے کے شرکاء نے مولانا حیدر عباس عابدی کی اقتداء میں باجماعت نماز مغربین مزار قائدؒ کے سامنے ادا کی، جس میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ مزار قائدؒ پر احتجاجی دھرنے کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ بعد ازاں دھرنے کے شرکاء سے علامہ احمد اقبال رضوی نے افتتاحی خطاب کیا۔ بعد ازاں آغا مبشر زیدی نے مناجات شعبانیہ کی تلاوت کی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاجی دھرنے میں شرکت کیلئے شہر بھر سے نوحہ خواں، انجمنوں سمیت مظاہرین کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام کا کہنا ہے کہ اسیری ملت تشیع کیلئے کوئی نئی بات نہیں، لیکن ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا سنت معصومینؑ ہے، شیعہ نسل کشی کے بعد اس ملک میں دوسرا بڑا ظلم عزاداروں کو لاپتہ کرنا ہے، ملک بھر سے تاحال 33 شیعہ افراد کو جبری گمشدہ کر رکھا گیا ہے، جن میں کچھ افراد کو گزشتہ دس سالوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاپتہ کر رکھا ہے، اس کے خلاف یہاں جمع ہوئے ہیں۔ علما کرام نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے ارباب اقتدار نے بارہا یقین دھانی کرائی، حد تو یہ ہے کہ صدر مملکت نے بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کا وعدہ کیا، لیکن کسی نے بھی اپنا وعدہ وفا نہیں کیا اور نہ یقین دھانی پوری کی، اگر لاپتہ افراد کسی جرم میں ملوث ہیں، تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ ان کے پیارے زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ بہت سے لاپتہ افراد کی ماں، باپ اپنے پیاروں کی واپسی کی آس لئے دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔

علماء کرام نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کب تک بیٹھتے ہیں، احتجاجی دھرنا کب تک دینا ہے قیادت طے کرے گی، لیکن لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے طے کر لیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی تک دھرنا جاری رہے گا۔ علامہ ناظر عباس تقوی، علامہ اصغر حسین شہیدی، علامہ صادق رضا تقوی سمیت مختلف علماء کرام نے بھی جبری گمشدہ شیعہ افراد کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاجی دھرنے میں شرکت کی اور شرکاء سے خطاب بھی کیا۔ علمائے کرام، اکابرین ملت، جبری گمشدہ افراد کے اہلخانہ، معصوم بچوں، بزرگوں، شیعہ تنظیمات کے عہدیداران سمیت بڑی تعداد میں شیعہ مسلمان مزار قائدؒ پر احتجاجی دھرنے میں موجود ہیں۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.youtube.com/c/IslamtimesurOfficial/videos
خبر کا کوڈ : 924911
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش