0
Monday 3 May 2021 02:33

عزاداری ہماری عبادت ہے اس پر پابندی قبول نہیں, علامہ ناصر عباس جعفری

متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عزاداری ہماری عبادت ہے۔ کوئی بھی مذہب و مسلک کسی کو اپنی عبادت پر پابندی کی اجازت نہیں دے سکتا۔ حکومت کو ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کا اختیار حاصل ہے لیکن کسی کے مذہبی معاملات میں خلل ڈالنے کا قطعاََ حق حاصل نہیں۔ ماضی میں دہشت گردی کے ذریعے ہمارے جلوس و مجالس کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ ملت تشیع کے ہزاروں افراد کو شہید کرنے کے باوجود عزاداری میں کمی نہیں آئی۔ جو ریاستی ادارے اپنے احکامات کے ذریعے عزاداری پر پابندی لگانا چاہتے ہیں، وہ حقائق سے بے خبر ہیں۔ اگر حکومت اپنے ضمنی الیکشن کی مہم چلا سکتی ہے، انتخابات ہوسکتے ہیں، بازاروں میں بے ہنگم ہجوم ہوسکتا ہے تو جلوس کیوں نہیں ہوسکتے۔ حکومت یہ بات ذہن نشیں کر لے کہ عزاداری کے حوالے سے شیعہ قوم اپنے اصولی موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

تحریک پاکستان ایک ایسی ریاست کے لیے جدوجہد تھی، جہاں مسلمان اپنی عبادات آزادی کے ساتھ ادا کرسکیں۔ ہمارے اجداد نے ارض پاک کے قیام کے لیے ایک طویل جدوجہد کی اور ان گنت قربانیاں دیں ہیں۔ حکومت کے غیر دانشمندانہ فیصلوں سے لگتا ہے کہ ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ ملت تشیع ایک مہذب قوم ہے۔ ہم نے کبھی بھی شائستگی او تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ملک کے آئین و قانون کی بالادستی کو ہم مقدم سمجھتے ہیں۔ مجالس و جلوس میں بھی ایس او پیز پر عمل درآمد ہماری قانونی، اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والے حکمرانوں نے عوام کو سخت مایوس کیا ہے۔ شیعہ جبری گمشدہ افراد کے بازیابی کے لیے اٹھائیس دن تک کراچی میں ہماری مائوں، بہنوں، بزرگوں، بیٹوں نے دھرنا دیا، لیکن وزیراعظم یا کسی حکومتی وزیر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ گمشدہ افراد کے اہل خانہ گورنر ہائوس گئے تو گورنر ٹس سے مس نہیں ہوا۔ حکومت کے اس متکبرانہ انداز اور نان پولیٹیکل ایجنڈے نے اسے عوام سے دور کر دیا ہے۔ عوام نے حالیہ ضمنی انتخابات میں اپنے ووٹ کے ذریعے حکومت سے انتقام لے لیا۔ جو حکومت اپنے عوام کو نظر انداز کرنے لگتی ہے، اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ عوام کو دیوار کے ساتھ لگانے کی بجائے سیاسی رویہ اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہ یوم القدس قریب آرہا ہے۔ اس موقعہ پر دنیا بھر کے باشعور افراد فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ انہوں نے کہا میڈیا پر بھی قدغن لگائی جا رہی ہے۔ الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا پر پابندی لگائی جاتی ہے تو لوگ سوشل میڈیا کو متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ میڈیا کو اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے حکومتی کے غیر جمہوری اقدامات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حکومت کا ساتھ جی بی کو صوبہ بنانے کے وعدے سے مشروط تھا۔ کسی بھی حکومت کے ساتھ ہمارے تعاون کا واحد نکتہ عوامی مشکلات کا ازالہ ہے۔ انہوں نے عزاداران سے کہا کہ وہ جلوس و مجالس کے پروگرام میں مکمل ایس او پیز کے ساتھ شرکت کو یقینی بنائیں۔ پریس کانفرنس میں ملک اقرار، علامہ علی اکبر کاظمی، مولانا ظہیر کربلائی، انجمن جانثاران اہلبیت کے رہنماء شباہت رضوی، تنظیم دعائے زہراء کے اصغر عابدی اور مرکزی رہنماء ایم ڈبلیو ایم اسد نقوی بھی شریک تھے۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.youtube.com/c/IslamtimesurOfficial
خبر کا کوڈ : 930407
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
مربوطہ فائل
ہماری پیشکش