0
Monday 7 Jun 2021 09:53
امام خمینیؒ کو پاکستانی عوام سے کافی امیدیں تھیں

حضرت امام خمینیؒ سے متعلق آیت اللہ غلام عباس رئیسی کا خصوصی انٹرویو

متعلقہ فائیلیںآیت اللہ غلام عباس رئیسی کا شمار پاکستان کے متدین، جید اور بزرگ علمائے کرام میں ہوتا ہے، علماء کے حلقے میں انکی شخصیت کو منفرد مقام حاصل ہے۔ بنیادی طور پر انکا تعلق پاکستان کے شمالی علاقہ بلتستان سے ہے، بقول انکے، والد بزرگوار انکی پیدائش سے پہلے ہی انتقال کرگئے تھے، والدہ محترمہ کے ہمراہ نجف اشرف چلے گئے، تاہم وہاں پہنچے پر والدہ محترمہ کا سایہ بھی زیادہ دیر ساتھ نہ رہا۔ بڑے بھائی کی فیملی کیساتھ نجف میں اسکول کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 1975ء میں نجف سے نکال دیئے گئے اور یوں وطن واپس آکر کراچی میں مدرسہ جعفریہ میں داخلہ لیا۔ چار سال تک وہاں لمعہ تک تعلیم حاصل کی، اسکے ساتھ ساتھ کالج کی بھی تعلیم حاصل کی۔ 1979ء میں انقلاب اسلامی ایران کے بعد اسی سال کے آخر میں قم المقدس چلے گئے اور یوں ایران میں درس و تدریس میں مصروف رہے۔ 1989ء سے 2003ء تک مدرسہ امام خمینی (رہ) جمہوری اسلامی ایران میں پڑھاتے رہے۔ وہ جامعہ عروة الوثقٰی لاہور سے بھی واپستہ رہے۔ آج کل وہ حوزہ علمیہ حضرت امام خمینیؒ، کراچی کے پرنسل کی حیثیت سے ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے آیت اللہ غلام عباس رئیسی کیساتھ حضرت امام خمینیؒ کی 32برسی کی مناسبت سے امام خمینیؒ کی شخصیت کے اہم پہلووں، آپکی نہضت و جدوجہد، پاکستانی عوم سے امید و متعلقہ موضوعات پر حوزہ علمیہ امام خمینیؒ، کراچی میں ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر انکا خصوصی ویڈیو انٹرویو لیا، جو قارئین اور ناظرین کی خدمت میں پیش ہے۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.youtube.com/c/IslamtimesurOfficial/videos


آیت اللہ غلام عباس رئیسی کا ”اسلام ٹائمز“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ حضرت امام خمینیؒ کی شخصیت کے جن اہم پہلوؤں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے، ان میں سے ایک آپکی معنویت ہے، کیونکہ اصل ہدف انسان کو خدائی بنانا ہے، امام خمینیؒ کی تمام کامیابیوں کا راز بھی، آپ کی تمام زخمتوں کے آغاز اور وجہ اور انجام بھی خدائی ہونا ہے، اس پہلو کو زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، یعنی امام خمینیؒ کی کامیابی، حرکات، سکنات، غصہ، خوشی سب کی وجہ خدا کا بندہ ہونا تھا، خدائی ہونا تھا، یہ صفت ہر انسان میں ہونا چاہیئے، لہٰذا یہ پہلو کہ خدا کا بندہ بننا اور بندگی راز عظمت امامؒ ہے، اپنی ذات میں بندہ ہو، اپنے گھر والوں کے ساتھ بھی بندہ خدا ہو، معاشرے میں بھی بندہ خدا ہو، پوری دنیا میں بھی بندہ خدا ہو، ایسا نہ ہو مسجد میں بندہ خدا ہو لیکن پارلیمنٹ میں استعمار کا یا سامراج کا بندہ بند جائے، مارکیٹ میں کسی اور کا بندہ بن جائے، نہیں، بلکہ ہر جگہ خدا کا بندہ ہو، حضرت امام خمینیؒ کی صفت پر جتنا کام کیا جائے، امام خمینیؒ کو سمجھنے کیلئے، امام خمینیؒ کی زندگی سے استفادہ کرنے کیلئے اور ایک مسلمان کا ہدف بھی یہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ امام خمینیؒ اجتہاد و مرجعیت کے مقام پر فائز ہوگئے، اس کے باوجود مسلمانوں کی اجتماعی، معیشتی، سیاسی زندگی سے غافل نہ رہے، بلکہ اس طرف بھی پوری توجہ دی، عموماً ہمارے حوزات کی اکثریت توجہ نہیں دیتی تھی اس طرف، اسلام کے سیاسی، اجتماعی، جہادی پہلو کی طرف، زیادہ تر توجہ علم، عبادت، تبلیغ دین کی طرف ہوتی تھی، یہی وجہ ہے کہ امام خمینیؒ سے پہلے بہت کم مثالیں ملتی ہیں کہ علماء نے قوم کی قیادت کی ہو سیاسی میدان میں، باطل کے مقابلے میں یا کربلا کی یاد کو تازہ کرایا ہو، ہم امام خمینیؒ کا یوم مناتے ہیں تو ہدف یہی ہو کہ وہ خصوصیات جن کو امام خمینیؒ نے زندہ رکھنا چاہیئے، معنویت اور مرجعیت کو عملی زندگی میں اعادہ کرنا، امام خمینیؒ نے صرف نظریہ ولایت فقیہ پیش نہیں کیا بلکہ اس نظریئے کو عملی کرکے ثابت کیا، امام خمینی تاریخ تشیع میں واحد فقیہ ہیں، جنہوں نے فقہ کو لوگوں کے اجتماعی، سیاسی زندگی میں اعادہ کیا۔

آیت اللہ غلام عباس رئیسی نے کہا کہ حضرت امام خمینیؒ کو پاکستانی عوام سے کافی امیدیں تھیں، خصوصاً پاکستان کے عام مسلمانوں سے، یعنی شیعہ سنی سب، ابھی انقلاب اسلامی کامیاب بھی نہیں ہوا تھا، امام خمینیؒ پیرس میں تھے، آپ نے اپنا نمائندہ پاکستان بھیجا، ملک کے سب سے نامور عالم ابو الاعلیٰ مودودی کے پاس اپنے اسلامی انقلاب کے پیغام کے ساتھ بھیجا، شاید وہ اس درد کو سمجھ سکتے تھے، اسی لئے امام خمینیؒ نے ابو الاعلیٰ مودودی کے پاس نمائندہ بھیجا، دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں نظام مصطفیٰ کی تحریک اٹھی تھی، علماء بھی فعال تھے، بھٹو سے مطالبہ کیا کہ ہمیں نظام مصطفیٰ (ص) چاہیئے۔ پاکستانی قوم جذبات کے لحاظ سے دنیا کی بہترین قوموں میں سے ایک ہے، یعنی اسلام کی نسبت بہت اعلیٰ جذبات کی حامل ہے، لیکن معرفت کے لحاظ سے کم ہے، اسی لئے جذبات کو دھوکہ دینا آسان ہوتا ہے، ہر دینی معاملے میں سب سے پہلے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، لیکن انہیں گمراہ اور منحرف کرنا بھی آسان ہوتا ہے، یعنی انہیں پاک جذبات سے جو لوگ میدان میں آتے ہیں، انہیں کو چند سیاست مدار چاہے وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مثبت پہلو یہ ہے کہ اسلام کی نسبت لوگوں میں جذبات اعلیٰ ہیں، تھوڑا شعور اور صداقت کی حامل قابل اعتماد قیادت آجائے تو اسلام کیلئے بہترین قوم بن سکتی ہے۔ اسی لئے امام خمینیؒ پاکستانی قوم سے بہت امیدیں رکھتے تھے، شہید عارف حسین الحسینیؒ جب شہید ہوئے، انہیں اپنا بیٹا کہا، امام خمینیؒ نے صرف دو افراد کو اپنا بیٹا کہا، ایک شہید مطہریؒ اور دوسرے شہید عارف الحسینیؒ، یعنی شہید عارف حسین الحسینیؒ کی صلاحیت اور ان پر اعتماد کا اندازہ ہوتا ہے، پاکستان میں مسئلہ یہی ہے کہ بصیرت کی کمی ہے، عشق کافی ہے، پیغمبر اکرم (ص) کی شان میں گستاخی ہو تو پوری قوم اٹھ کھڑی ہوتی ہے، لیکن پیغمبرؐ کی شریعت نابود کی جائے، وہاں پر تقریباً خاموش ہوتی ہے، لہٰذا قوم میں شعور اور بصیرت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، عوام و خواص دونوں کو اسلام سمجھانے کی ضرورت ہے، چند نعروں سے ہٹ کر حقیقت سمھجانے کی ضرورت ہے کہ اسلام کی حقیقت یہ ہے، اگر اسلامی نظام کی خصوصیت سمجھائی گئی صحیح معنیٰ میں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان سمیت تقریباً تمام مسلم ممالک میں نظام کافر نظاموں سے مختلف نہیں ہے، لہٰذا اگر اسلامی نظام سمجھ میں آجائے تو دھوکہ نہیں کھائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 936679
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش