0
Friday 8 Oct 2021 16:43

چہلم امام حسین (ع) ڈی آئی خان، ویڈیو رپورٹ

متعلقہ فائیلیںرپورٹ: آئی اے خان

شہداء کی سرزمین، اہل تشیع کی مقتل گاہ سمجھے جانے والے ڈیرہ اسماعیل خان میں چہلم سید الشہداء 12 صفر سے شروع ہوا اور آخری جلوس 22 صفر کو جامع مسجد یاعلی المعروف مسجد لاٹو فقیر میں اختتام پذیر ہوا۔ چہلم امام حسین (ع) کے ان دس دنوں میں شہر کی تقریباً تمام امام بارگاہوں و عزا خانوں میں مختلف اوقات میں مجالس برپا ہوئیں، جلوسہائے عزا برآمد ہوئے۔ کربلا والوں کی یاد میں مقدسات و شبہیات برآمد کیں گئیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جہاں صفائی، بجلی و دیگر مدارج میں خصوصی انتظامات کئے گئے وہاں پولیس و ایف سی کی طرف سے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے۔ چہلم امام حسین (ع) کے اس عشرے میں شیعہ سنی وحدت کی بھی خوبصورت فضا دیکھنے کو ملی۔ ڈی آئی خان کے اہل تشیع نے چہلم امام حسین (ع) نہایت عقیدت و احترام اور روحانی جذبے سے برپا کیا گیا۔

عزاداران امام حسین (ع) نے اپنے اپنے انداز میں امام زمانہ (ع) کی بارگاہ میں پرسہ پیش کیا۔ کہیں عزاداروں نے سینہ کوبی کے ذریعے یزید و یزیدیت کے شکست خوردہ منہ پہ طماچے رسید کئے تو کہیں زنجیر زنی، غنچہ زنی کے ذریعے امام حسین (ع) سے مودت و محبت اپنی جانوں پہ نقش کی گئی۔ علماء کرام نے فضائل محمد و آٓل محمد بیان کئے تو ذاکرین نے نثر میں کربلا کو بیان کیا۔ نوحہ خوانوں نے سانحات کربلا کو نظمیہ رزمیہ پیش کیا تو شعراء نے لافانی الفاظ کے موتیوں کو عقیدت کی لڑیوں میں پرو کر لازوال ذکر حسین (ع) کی تسبیحیاں تقسیم کیں۔ امام عالی مقام کے نام لیواؤں نے تعزیہ داری کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ راہ حسین (ع) میں کیسی ہی مشکلات کیوں نہ ہوں، ان کے کندھوں پہ حالات کا کیسا ہی بار کیوں نہ ہو، حواس کھو دیں گے، خود سے بیخود ہو جائیں گے مگر حالات کے جبر کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ چہلم کے دوران نیاز، لنگر، سبیل کے ذریعے بزرگ، بچوں، مرد و خواتین نے دنیا کو پیغام دیا کہ ذکر حسین (ع) میں سبھی کچھ قربان ہے، حاضر ہے، دان ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 957761
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش