0
Monday 11 Oct 2021 23:55

افغانستان کا پیچیدہ معاملہ اور اسکے اثرات

متعلقہ فائیلیںرپورٹ: صفدر عباس

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں دی انٹلیکچولز فورم کی جانب سے "افغانستان کا پیچیدہ معاملہ اور اس کے اثرات" پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا، سیمینار میں پییلز پارٹی کے رہنماء رضا ربانی، عبدالمالک بلوچ، مصطفیٰ کمال، مہتاب اکبر راشدی، ایاز لطیف پلیجو، محبوب شیخ، اشفاق میمن، ایوب شیخ، عبدالوہاب بلوچ، شاہد مسعود نورانی سمیت شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ سیمینار سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ تقریباً چالیس سال سے افغانستان کو مسائل کا سامنا ہے، بھوک، افلاس، امن و امان جیسے مسائل اس وقت موجود ہیں، افغانستان کی تاریخ جو ہمارے سامنے موجود ہے، وہ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی ہے، حکومت کو چاہیئے کہ انسانی ہمدردی کے طور پر افغانیوں کی مدد کیلئے بارڈرز پر خیمے بنائے، افغانستان کا مسئلہ پیچیدہ ہے، سوال یہ ہے کہ اتنا طویل عرصہ امریکا کا وہاں رہنے کے بعد ایسا کیوں ہوا کہ اڑھائی سال کے عرصے میں ہی اسے وہاں سے جانا پڑا، افغانستان آج وہ نہیں ہے، جو بیس سال پہلے تھا۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ افغانستان کے لوگ پڑوسی ہونے کے ناتے ہمارے بھائی اور بہن ہیں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہماری نظر میں افغانستان کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، جو لوگ جیت اور ہار کے شادیانے بجا رہے ہیں، وہ حالات سے واقف نہیں ہیں، روس کی طرح کوئی ملک ٹوٹا نہیں ہے، سب اپنی جگہ پر موجود ہیں، انچاس ممالک جب اپنا تجزیہ کرینگے تو سوچیں گے کہ انہیں شرمندگی کیوں اٹھانا پڑی ہے۔ مقررین نے سوال اٹھایا کہ کیا افغانستان سے امریکی قوتوں کے جانے کے بعد امن قائم ہوگا؟ رضا ربانی نے کہا کہ آج لگتا تو ہے کہ افغان جنگ ختم ہوگئی، لیکن کیا وہ واقعی ختم ہوچکی ہے؟  انٹلیکچوئلز فورم کے مسعود نورانی کا کہنا تھا کہ افغانستان کا جو مسئلہ ہے، ہم نے ہر پہلو سے آج اس پر بات کی ہے۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.youtube.com/c/IslamtimesurOfficial
خبر کا کوڈ : 958229
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
مربوطہ فائل
ہماری پیشکش