0
Saturday 11 May 2024 11:05

اسرائیل فلسطین کشیدگی پر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں بین الاقوامی سیمینار منعقد

اسرائیل فلسطین کشیدگی پر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں بین الاقوامی سیمینار منعقد
رپورٹ: جاوید عباس رضوی

اترپردیش کے علمی شہر علی گڑھ میں فلسطین کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا۔ فلسطین پر اسرائیل کے جارحانہ حملوں، ہزارہا بے قصور افراد کی ہلاکتوں اور ان پر مظالم کے روز بہ روز بڑھتے سلسلوں، اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی اور امریکہ کے ظالمانہ سلوک کے سلسلہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد شعبہ کے کانفرنس ہال میں کیا گیا۔ سیمینار کا آغاز شعبہ کے طالب علم محمد عمران کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا۔ سیمینار کے کنوینر ڈاکٹر بلال احمد کٹی نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالم انسانیت اسرائیل کے اس جارحانہ رویہ پر سخت احتجاج کر رہا ہے لیکن وہ اپنی بربریت سے بالکل پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے، اسی تعلق سے اسرائیل و فلسطین تنازعہ پر دو روہ بین الاقوامی آن لائن و آف لائن سیمینار بعنوان ’’اسرائیل فلسطین تنازعہ: موجودہ بحران اور آئندہ امکانات‘‘ منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں بھارت کے مختلف جامعات کے علاوہ ماریسش، تھائی لینڈ، افغانستان وغیرہ کے دانشوران بھی شرکت کر رہے ہیں اور اس دو روزہ سیمینار میں کل 59 مقالے پیش کئے جائیں گے جو بعد میں کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔

شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے صدر سیمینار پروفیسر عبید الحمید فاضلی نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں بتایا کہ اسرائیل فلسطین تنازعہ دنیا کے سب سے سنگین اور افتراقی مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے جو کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کی تاریخی، سیاسی اور مذہبی پیچیدگیوں کی بنیاد پر، اس تنازعہ کے حل کی تمام تر امن اور باہمی مفاہمت پر مبنی اقدامات ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں آج کا یہ سیمینار اسرائیل فلسطین تنازعہ پر مکالمہ، تجزیہ اور تنقیدی تبادلہ خیال کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش پر مشتمل ہے۔ دائریکٹر سیمینار پروفیسر عبید الحمید فاضلی نے کہا کہ ماہرین، دانشوران، پالیسی ساز حضرات اور دیگر متعلقین کو ایک پلیٹ فارم پر باہمی مذاکرہ کے لئے جمع کر کے متعلقہ خطہ میں خلیج کو پاٹنا اور باہمی مصالحت اور امن کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے اس پروگرام کے تمام شرکاء کا استقبال کیا اور اس سیمینار کے انعقاد کے خوش آئند نتائج کی امید ظاہر کی۔

پروفیسر ابو سفیان اصلاحی نے فلسطین کی عظمت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اُسے مسلمانوں کے مقدس ترین شہروں مکّہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے ہم وزن قرار دیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر جاوید اقبال نے اپنے کلیدی خطبہ میں تاریخ کے حوالے سے بتایا کہ بیت المقدس بہت مبارک مقام ہے اُسے ایک زمانہ تک مسلمانوں کا قبلہ ہونے کا شرف حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ رسول اکرم (ص) کے امام الانبیاء ہونے کا مقام بھی پایا جاتا ہے۔ 1949ء میں اس جگہ پر یہودیوں کی آبادکاری کے بعد اسرائیل کا قیام عمل میں آیا جس نے رفتہ رفتہ مسلم آبادیوں پر زبردستی اپنا تسلّط قائم کر لیا۔ اُس کے غاصبانہ قبضہ کے نتیجے میں حالات بد سے بدتر ہونا شروع ہوئے اور اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ اس پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے جو بہت زیادہ افسوس کا مقام ہے۔

سیمینار میں اسرائیل فلسطین تنازعے پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور اس جنگ سے انسانوں پر اس کے اثرات اور انسانی حقوق، امن بحالی کے عمل اور عرب لیگ کا کردار، اور امن کے امکانات وغیرہ جیسے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے صدر شعبہ اور سیمینار کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالحمید فاضلی نے بتایا کہ سیمینار میں شرکت کے لئے متعدد اسکالرز اور دانشوروں کو مدعو کیا گیا جنہوں نے اس تنازعہ کے تاریخی پس منظر، انسانوں پر اس کے اثرات اور انسانی حقوق، سفارت کاری اور امن بحالی کے عمل، خطہ کی سیاست، تنظیمِ اسلامی تعاون (او آئی سی) اور عرب لیگ کا کردار، علاقائی حرکیات اور امن کے امکانات جیسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ سیمینار میں فلسطین پر اسرائیل کے جارہانہ حملوں، ہزار ہا بے قصور افراد کی ہلاکتوں اور ان پر مظالم کے روز بہ روز بڑھتے سلسلوں، اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی اور امریکہ کے ظالمانہ سلوک کے سلسلہ میں دانشورں نے اپنا اظہار خیال کیا۔

سیمینار کے کنویز ڈاکٹر بلال احمد نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالم انسانیت اسرائیل کے اس جارحانہ رویہ پر سخت احتجاج کر رہا ہے لیکن وہ اپنی بربریت سے بالکل پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے، اسی تعلق سے اسرائیل و فلسطین تنازعہ پر دو روزہ بین الاقوامی آن لائن و آف لائن سیمینار بعنوان ’’اسرائیل فلسطین تنازعہ: موجودہ بحران اور آئندہ امکانات‘‘ منعقد کیا گیا۔ جس میں بھارت کے مختلف جامعات کے علاوہ ماریشس، تھائی لینڈ، افغانستان وغیرہ کے دانشوران نے شرکت کی۔ پروفیسر ابوسفیان اصلاحی نے فلسطین کی عظمت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسے مسلمانوں کے تقدس ترین شہروں جیسے مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے ہم وزن قرار دیا۔ آپ نے کہا کہ اس علاقے کی اہمیت اس لئے زیادہ ہوجاتی ہے کہ دنیا میں جتنے انبیاء تشریف لائے ہیں اُن میں کئی کی بڑی تعداد فلسطین میں آنے والے انبیاء کی ہے۔

پروفیسر محمد اظہر مہمانِ خصوصی نے اپنے صدارتی خطاب میں اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اُس نے مسلمانوں کی نسل کُشی کو اپنی شناخت بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہتے فلسطین معصوموں کو اسرائیل اپنے سیاسی آقا امریکہ کی سرپرستی میں جس طرح سبو تاژ کر رہا ہے وہ لائق مذمت ہے۔ اظہار تشکر سیمینار کے معاون کنوینر ڈاکٹر اعجاز احمد نے پیش کیا جبکہ نظامت کے فرائض شعبہ اور یونیورسٹی کے معروف استاد پروفیسر عبدالمجید خاں نے بحسن و خوبی انجام دئے۔ اس سیمینار میں ملک اور بیرون ملک کے اساتذہ، محققین، دانشوران، ریسرچ اسکالرز، طلباء، سماجی اداروں اور بین الاقوامی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے حضرات و خواتین کی ایک بڑی تعداد آن لائن اور آف لائن شریک تھی۔
خبر کا کوڈ : 1133684
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش