0
Saturday 8 Jun 2024 21:12

فلسطینیوں کی مزاحمت اور اس کے اثرات، دنیا حیران

فلسطینیوں کی مزاحمت اور اس کے اثرات، دنیا حیران
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

انسان ظاہری وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے حکمت عملی ترتیب دیتا ہے۔ جس قدر وسائل ہیں اسی قدر اقدامات کیے جاتے ہیں۔دنیا میں بہت بار ایسا ہوا کہ ظاہری اسباب و وسائل ہار گئے اور جنہیں دنیا مجنون کہہ رہی تھی وہ جیت گئے۔ اللہ تعالی کا خوبصورت ارشاد ہے:
كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ۔ سورہ البقرہ (۲۴۹)
ترجمہ: بسا اوقات ایک قلیل جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

چشم تصور میں خود کو غزہ میں فرض کریں، جہاں پچھلی ایک دہائی سے زیادہ عرصےسے ناکہ بندی جاری ہے۔ یہ ناکہ بندی صرف زمینی نہیں ہے بلکہ سمندر اور ہوا بھی اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ زمینی راستے سے نام نہاد مسلمان ممالک وہی چیز یں غزہ میں داخل ہونے دیتے ہیں جس کی اجازت اسرائیل اور امریکہ سے آتی ہے۔ ایسے میں کچھ دیوانے آزادی کا خواب دیکھتے ہیں، مزاحمت کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے وطن کو آزاد کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ دنیا بھر کی قوتیں ان کے خلاف جمع ہو چکی ہیں، محض چالیس کلومیٹر کی اوپن جیل  پچھلے آٹھ ماہ سے کلیئر نہیں ہو رہی۔ صیہونی غلط فہمی کا شکار ہوکر شیروں کی کچار میں گھستے ہیں کہ اب ہم نے انہیں آگ و بارود سے جلا دیا ہے۔ اب  آگے بڑھ کر اپنے قیدی چھڑا لیتے ہیں۔ جاتے اپنی مرضی سے ہیں کچھ گرفتار کر لیے جاتے ہیں اور باقی کی لاشیں اہل قدس کے قبضے میں ہیں۔ اتنے عرصے بعد بھی چنگاری بجھی نہیں بلکہ پوری قوت سے  شعلہ بننے کو بے تاب ہے۔

امریکی صدر بائیڈن کو امریکہ کے انسانیت دوستوں نے مجبور کر دیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری مظالم کو بند کرائے۔ وہ  اسرائیل کا ترجمان بن کر اسرائیلی عوام سے خطاب کرتے ہوئے ایک جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے۔ جس دن اس جنگ بندی کا اعلان ہوا اس دن بھی اسرائیلی ٹینکر رفح میں داخل ہوئے اور اسرائیلی طیاروں نے تباہی مچائی۔ یہ جنگ بندی کی باتیں اسرائیل کو بچانے اور امریکی امن پسندوں کے ووٹ لینے کی چال ہے جسے ہر جگہ درست سمجھا جا رہا ہے۔ اس جنگ نے دنیا کو تبدیل کر دیا ہے، مشرق و مغرب اہل فلسطین کے ساتھ  کھڑا ہے۔ طاقت و اقتدار کے لالچ میں دنیا کے طاقتور حلقے اسرائیل کے ساتھ ہیں اور انہی کی عوام فلسطین کے ساتھ ہیں۔ آج امریکی صدر، وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ میں اس کے نمائندے جہاں بھی جاتے ہیں وہاں غزہ کے قصاب کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ اس جنگ نے معاشرے پر بڑے اثرات مترتب کیے ہیں۔

آپ میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کو دیکھیں نوجوانوں کی بڑی تعداد اسلام کی طرف مائل ہوئی ہے۔ مغرب میں مسلمانوں کی تیسری نسل نے اہل فلسطین کے لیے اپنا مستقبل اور کاروبار داؤ پر لگا کر مسلمان ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ ان نوجوانوں کے ساتھ غیر مسلم نوجوان بھی اسلام کے قریب ہوئے ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی یونیورسٹیز کے انہی باضمیر طلباء کے نام خط لکھا، آپ فرماتے ہیں: "یہ خط ان جوانوں کے نام لکھ رہا ہوں جن کو ان کے بیدار ضمیر نے غزہ کے بچوں اور خواتین کے دفاع پر مجبور کیا ہے۔ امریکی عزیز طلباء! یہ ہمارا آپ کے ساتھ ہمدلی اور ہمبستگی کا پیغام ہے۔ آپ اس وقت تاریخ کی صحیح سمت کھڑے ہیں جس کا ورق پلٹنے والا ہے۔ آپ اس وقت مقاومتی بلاک کا ایک حصہ ہیں اور غاصب اور بے رحم صہیونی حکومت کی حمایت کرنے والی امریکی حکومت کے دباؤ کے باوجود باوقار طریقے سے مبارزہ کررہے ہیں۔"

تمام سروے بتا رہے کہ یورپ اور امریکہ میں لوگ صیہونیت کے اصل چہرے سے آشنا ہوئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر لوگ اب صیہونی نظریے سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ ہولو کاسٹ یا یہودیوں پر بیان کیے جانے والے کسی بھی ظلم کے پیچھے اب صیہونیت کے لیے چھپنا ممکن نہیں رہا۔ حماس کو ختم کرنے کا دعوی تھا، حماس آج بھی غزہ میں پہلے سے زیادہ مقبول ہے، اب اس میں پہلے سے زیادہ بھرتیاں ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر کی عام مسلمان تنظیموں نے بڑے پیمانے پر اہل فلسطین کی مدد کی کوشش کی ہے۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے صیہونی حکومت راستہ کھولتی ہے بڑی مقدار میں سامان غزہ بھجوانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اہل غزہ کی اس مزاحمت نے بین الاقوامی سیاست کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ جنوبی افریقہ  غیر مسلم ملک اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں گھسیٹ رہا ہے، اسی طرح یورپی ممالک یک طرفہ طور پر فلسطین کو تسلیم کر رہے ہیں۔

اس مزاحمت نے مشرق وسطی کے امریکی ورلڈ آڈر کو برباد کردیا ہے۔ اب ایک نیا اور زمین زادوں کا خطہ ابھرے گا۔ اس جنگ نے دنیا کی سیاسی اور سماجی اقدار کو بھی بے نقاب کیا ہے، اس سے پتہ چلا ہے کہ عام آدمی ظلم و جبر کو برداشت نہیں کرتا وہ اس کے خلاف ہوتا ہے، یہ حکمران ہوتے ہیں جو مفادات کے اسیر بن کر بے گناہوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ اس جنگ نے خود فلسطینی اور اسرائیلی معاشروں پر بھی گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ہر دو معاشرے ان واقعات کے حصار بلکے ٹرامے میں ہیں۔ اس سے مسلم طاقت کو فائدہ پہنچا ہے اور مغربی قوت کی طاقت و اختیار کو چیلنج کیا  گیا ہے۔ اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا متھ بھی ٹوٹا ہے۔

حماس کے رہنما یحییٰ سنوار نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ  ان کی تنظیم اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور ایسے کسی بھی منصوبے کو قبول نہیں کرے گی، اگر حماس ہتھیار نہیں ڈالتی جو کہ وہ نہیں ڈالے گی اور ایسے ہی جنگ بندی کو نافذ کیا جاتا ہے تو یہ اسرائیل کی عملی شکست ہوگی جس کے اثرات اسرائیلی معاشرے اور خطے کے مستقبل پر ہوں گے۔ ڈاکٹر حبیب لبنانی پروفیسر ہیں انہوں نے ٹویٹر پر کمال لکھا ہے: میں لبنانی یونیورسٹی میں اپنے طلباء سے معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوام متحدہ کے کورسز پڑھانے میں سخت تھا، غزہ میں صہیونی جرائم کے بعد اب ان کورسز کو پڑھانے کی ضرورت نہیں رہی۔ طاقت اور زور کا قانون  دنیا کا سردار ہے۔
خبر کا کوڈ : 1140492
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش