1
0
Thursday 21 May 2020 00:35

غرب اردن کا اسرائیل سے الحاق اور دنیا

غرب اردن کا اسرائیل سے الحاق اور دنیا
تحریر: سید اسد عباس

گذشتہ ستر سے زائد برس سے اسرائیل کو فوجی حمایت مہیا کرنے، سفارتی سطح پر اسرائیل کے وجود کو عالمی برادری سے تسلیم کروانے کی کاوشیں کرنے، اقوام متحدہ میں اسرائیلی ظلم اور بربریت کے خلاف آنے والی ہر قرارداد کو ویٹو کرنے، عملی طور پر اسرائیل کے لیے دنیا بھر میں بالعموم اور اسلامی ممالک میں بالخصوص سفارت کاری کرنے، اسرائیل کے وجود کے مخالفین پر اقتصادی پابندیاں لگوانے، ان کو مختلف سطح پر دہشت گرد قرار دلوانے کے بعد امریکا نے اپنے سب نقاب الٹ دیئے اور واضح طور اس جارح اور ناجائز اکائی کی پشت پر آن کھڑا ہوا ہے۔ ٹرمپ کے دور اقتدار مین بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کیا گیا، امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کیا گیا۔ صدی کی ڈیل جیسا شرمناک منصوبہ پیش کیا گیا اور فلسطین کے دو ریاستی حل کو عملی طور پر ختم کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر امریکا کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی۔ مگر اس عالمی سامراج اور اقتصادی غنڈے کو ذرہ برابر فرق نہ پڑا۔

کرونا کی وبا سے دوچار امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو گذشتہ دنوں اسرائیل کا دورہ کرتا ہے اور علی الاعلان عالمی قوانین نیز فلسطین کے حوالے سے قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ غرب اردن کے علاقوں پر اسرائیل کی خود مختاری کا اعلان اسرائیل کا حق ہے۔ پومپیو نے کہا کہ امریکہ اس سلسلے میں اسرائیل کی مکمل حمایت کرے گا۔ اس سے قبل گولان کی پہاڑیوں پر بھی امریکا نے اسرائیلی قبضے کو درست تسلیم کرتے ہوئے اسے اسرائیل میں شامل کرنے کی حمایت کی تھی۔ امریکا کے اس اعلان پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اب نہیں معلوم کہ مذمت کرنے والوں کی یہ چیخ و پکار اور آنسو مگرمچھ کے آنسو ہیں یا حقیقی شور و غوغا۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلسطین کے غرب اردن کے علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے اعلان پر امریکہ کی طرف سے حمایت کی شدید مذمت کی ہے۔ جمعہ کے روز ایمنیسٹی انٹرنیشل کے ٹویٹر اکاونٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ غرب اردن کے وسیع و عریض علاقے پر اسرائیلی خود مختاری کے اعلان پر امریکی حکومت کی طرف سے حمایت بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور سلامتی کونسل کی مسلمہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حمایت صیہونی ریاست کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے لیے حوصلہ مہیا کرے گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ غرب اردن کے بعض علاقوں کو مقبوضہ علاقوں میں ضم کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو تسلیم نہ کریں اور مقبوضہ سرزمین میں صیہونی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل خود کو عالمی قوانین سے بالا تر سمجھتے ہیں۔

جنوبی افریقا نے فلسطین کے علاقوں غرب اردن، وادی اردن اور بحر مردار پر اسرائیلی ریاست کی دست درازی کی شدید مذمت کی ہے۔ جنوبی افریقا کا کہنا ہے کہ غرب اردن اور دوسرے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی ریاست کی خود مختاری کا اعلان فلسطینی قوم کے وجود کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں ‌کہا گیا ہے کہ فلسطینی اراضی اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان اشتعال انگیز، قابل مذمت اور تشویش کا باعث ہے۔ ایسے کسی بھی اقدام کے نتیجے میں فلسطینی قوم کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ غرب اردن پر اسرائیلی ریاست کی دست درازی اور قبضے کی توسیع 1979ء میں منظور کردہ سلامتی کونسل کی قرارداد 446 اور 2016ء کی 2334 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان دونوں قراردادوں سمیت عالمی اداروں کی طرف سے کئی ایسی قراردادیں منظور کی گئی ہیں، جن میں اسرائیل سے 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے تمام علاقوں کو خالی کرنے اور فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جنوبی افریقا نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست کرونا وبا کی وجہ سے عالمی برادری کی توجہ ہٹنے کو اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غرب اردن پر قبضے میں توسیع، وادی اردن پر قبضہ اور دوسرے علاقوں کو تحویل میں لینا خطے میں امن کے لیے کی جانے والی مساعی کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک ریپ نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اگر اسرائیل یک طرفہ طور پر غرب اردن کے علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرتا ہے تو اس سے امن کے لیے مذاکرات کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ مسٹر ریپ نے مزید کہا کہ برطانیہ کو ان خبروں پر تشویش ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے کے بعض مقامات اپنی باقاعدہ خود مختاری میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک یک طرفہ اقدام ہوگا، جس کے نتیجے میں امن کی کوششیں بری طرح متاثر ہوں گی۔ برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے وزیراعظم بورس جانس کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کرونا کی صورت حال میں فلسطین کے متنازع علاقوں کا الحاق چاہتا ہے۔ برطانوی ممبران پارلیمنٹ کا خط میں کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کا منصوبہ غیر قانونی ہے، متنازع علاقوں کا الحاق کیا گیا تو اسرائیل کا اقدام جارحیت ہوگا۔ یوروپی یونین میں سلامتی اور خارجہ پالیسی کے سینیئر مندوب جوزف بوریل نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی ریاست کی خود مختاری کے اعلان پر عمل درآمد روکنے لئے عالمی برادری کو اسرائیل پر دباﺅ ڈالنا چاہیئے۔

فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے رکن حسام بدران نے حماس کی آفیشل ویب سائٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی جماعت غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی سازشوں کا پوری قوت اور تمام وسائل کے ساتھ مقابلہ کرے گی۔ حسام بدران کا کہنا تھا کہ غرب اردن اس وقت سنگین خطرات میں گھر چکا ہے۔ پوری قوم کو غرب اردن کو اسرائیل کا حصہ بنانے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حسام کا کہنا تھا کہ غرب اردن کا الحاق روکنے کے لیے مسلح مزاحمت سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غرب اردن کے علاقوں کو اسرائیل کا حصہ بنانے کے لیے امریکا سے حمایت حاصل کرنا اسرائیلی ریاست کی شکست کا ثبوت ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی انتہاء پسند حکمران جماعت "لیکوڈ" کی لیڈر اور رکن پارلیمنٹ مائی گولان نے مقبوضہ وادی اردن، بحر مردار اور مغربی کنارے کے علاقوں پر اسرائیلی ریاست کی براہ راست خود مختاری کے قیام کے لیے مسودہ قانون کنیسٹ میں پیش کر دیا ہے۔ عبرانی ٹی وی چینل 7 کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اقتصادیات ایلی کوھین اور دیگر ارکان کنیسٹ نے بھی مائی گولان کے تیار کردہ مسودہ قانون کی حمایت کی ہے۔ جلد ہی اس مسودے پر بحث ہوگی اور رائے شماری کے بعد اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ کنیسٹ میں مسودہ قانون پیش کرنے والی خاتون رکن پارلیمنٹ مائی گولان کا کہنا ہے کہ غرب اردن، وادی اردن اور بحر مردار کے علاقے اسرائیل کے لیے سیاسی، سکیورٹی اور معاشی اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں اسرائیلی آباد ہیں۔ اس لیے یہ علاقے اسرائیل کا اٹوٹ انگ ہیں۔ ہمیں موجودہ اسٹیٹس کو تبدیل کرکے تاریخ اور جغرافیائی مسائل کو درست کرنا ہوگا۔

کرونا وبا کی صورتحال میں اسرائیل کی جارحیت اور غیر قانونی طور پر فلسطینی علاقوں پر قبضہ دنیا کو ایک نئی جنگ کی جانب دھکیل رہا ہے۔ امریکا اس جارحیت میں اسرائیل کا حامی ہے۔ اب بھی اس نے کرونا سے کوئی سبق نہیں سیکھا، اگر اسرائیل غرب اردن کے الحاق کے لیے اقدام کرتا ہے تو یہ فلسطینیوں اور مسلم اقوام کو کھلا چیلنج ہوگا۔ یہی صورتحال مودی سرکار کی بھی ہے، کرونا کی وبا کے دوران بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جاچکا ہے، کشمیری مسلمان جو پہلے ہی کرفیو کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، ان کے خلاف بھی جارحیت کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ کنڑول لائن پر بھی بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، اقوام عالم کو فلسطین کی مانند بھارت اور کشمیر کے مسلمانوں کی حالت زار پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ دونوں مسائل اور ان میں جارحین کی کھلی بدمعاشی دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ ہمیں مسلم ممالک کے حکمران طبقہ سے تو کسی خیر کی توقع نہیں، تاہم عوام میدان عمل میں اتر کر اسرائیل اور بھارت کی جارحیت کے خلاف اقدام کرسکتے ہیں۔ یوم القدس قریب ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق ان مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرے اور احتجاج ریکارڈ کروائے، تاکہ مسلم حکمران بھی خواب غفلت سے بیدار ہوں۔
خبر کا کوڈ : 863925
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

نورسید
Pakistan
غرب اردن کا اسرائیل سے غیر قانونی الحاق
اگر سلامتی کونسل عراق کے کویت پر حملے کے خلاف فوج کشی کرسکتی ہے تو اسرائیل کی غنڈہ گردی کے خلاف بھی فوج کشی کی جائے، جو اعلانیہ غیر قانونی طور پر ظلم سے فلسطین پر قبضہ جما رہا اور ساری اقوام کی توہین کر رہا ہے۔
منتخب
ہماری پیشکش