1
0
Friday 17 May 2019 10:23
لاپتہ افراد کا سلسلہ بند نہ ہوا تو ریاست کی بنیادیں کمزور ہو جائینگی

امریکہ نے ایران پر حملے کی حماقت کی تو عبرتناک شکست سے دوچار ہوگا، سبطین سبزواری

علامہ ساجد نقوی کہتے ہیں اتحاد کیلئے تنظیم کو قربان کیا جا سکتا ہے
امریکہ نے ایران پر حملے کی حماقت کی تو عبرتناک شکست سے دوچار ہوگا، سبطین سبزواری
علامہ سید سبطین سبزواری شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر ہیں۔ ممتاز عالم دین اور شعلہ بیاں مقرر بھی ہیں۔ گفتگو کا انداز بڑا دبنگ ہے۔ اپنا موقف ٹھوس انداز میں پیش کرنیکا فن جانتے ہیں۔ تنظیمی امور پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں، دوسری بار شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ تنظیمی امور کو اندرونی اختلافات کے باوجود بہتر انداز میں چلا رہے ہیں۔ ملت کے موقف کو بھی مدلل انداز میں ہر پلیٹ فارم پر پیش کرتے ہیں۔ ملکی و بین الاقوامی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وحدت امت اور وحدت ملت کیلئے کوشاں ہیں۔ قوم کے معاملات میں ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے ان کیساتھ لاہور میں ایک نشست کی، جسکا احوال قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: شیعہ علماء کونسل پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، ایک کی مسئولیت آپکے پاس ہے، اسٹرکچر کو تقسیم کرنیکی ضرورت کیوں پیش آئی۔؟؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
اس کا جواب تو علامہ سید ساجد علی نقوی ہی دے سکتے ہیں، کیونکہ یہ ان کا فیصلہ تھا، ہم نے تو قیادت کے حکم پر سرِتسلیم خم کیا ہے۔ جب یہ فیصلہ ہوا، میں اس وقت سسٹم میں نہیں تھا۔ میں چونکہ استعفیٰ دے کر گھر جا چکا تھا، میرے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا، ویسے بہتر انتظامی معاملات کیلئے یہ فیصلہ درست ہے۔ چونکہ پنجاب کے 36 اضلاع ہیں، پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، 10 سے 12 کروڑ آبادی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے کہ آدھا پاکستان پنجاب میں رہتا ہے، تو اس کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس تقسیم سے یہ ہوگا کہ دور دراز علاقوں کے مسائل بھی جلد حل ہوں گے اور یونٹس کے مسائل بھی بہتر انداز میں نمٹ سکیں گے۔ ظاہر ہے قائد ملت کا فیصلہ ہے، تو یہ انتظامی معاملات کیلئے بہتر ہے۔

اسلام ٹائمز: دہشتگردی کی لہر نے دوبارہ سر اُٹھا لیا ہے، یہ کس کی کمزوری سمجھتے ہیں۔؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
جو دعوے کئے جا رہے تھے کہ ہم نے دہشت گردی کا ملک سے خاتمہ کر دیا ہے۔ دہشتگردی کا خاتمہ ہوگیا ہوتا تو یہ بڑے بڑے واقعات نہ ہوتے۔ یہ سکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے، جو دعوے کر رہے تھے کہ دہشتگردی ختم ہوگئی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ ان تمام حالیہ واقعات میں سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن نہیں۔ بس نیک نیتی درکار ہے۔ یہ کیسا عجب مذاق ہے قوم کیساتھ کہ سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا گیا، جی ایچ کیو، مہران ایئر بیس، آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں تک کو نشانہ بنایا گیا، مگر ہم نے اس پر کیا ایکشن لیا؟ بس دعووں کی حد تک آپریشن کئے۔ کیا ہمارے اداروں کو پتہ نہیں دہشت گردوں کے ٹھکانے کہاں ہیں، کیا یہ علم نہیں کہ ان کے سہولت کار کون ہیں؟

کیا یہ ادارے یہ نہیں جانتے کہ ان کو فنڈنگ کون کرتا ہے اور یہ فنڈنگ کون بھیجتا ہے؟ دہشت گرد کس راستے سے آتے ہیں اور کہاں ٹھہرتے ہیں؟ سب باتیں ان کے علم میں ہیں، حتیٰ ہمارے ادارے تو یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کو ٹاسک کون دیتا ہے، مگر نیت ٹھیک نہیں، اس لئے وہ ان کیخلاف فعالیت نہیں دکھاتے۔ ورنہ دنیا کی موثر ترین فوج جس ریاست کے پاس ہو، وہ اس طرح مٹھی بھر دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہو جائے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے، ہمارے ادارے بے بس نہیں ہیں، بلکہ جان بوجھ کر چشم پوشی کی جاتی ہے۔ یہ چیز نقصان دہ ہے، اس پر ریاست کو توجہ دینی چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: امریکہ ایران کشیدگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، جبکہ سعودی عرب نے تو حالیہ حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا ہے جبکہ پاکستان نے اس معاملے میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا ہے۔ ؟؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
ایک بات تو طے ہے کہ ہمسائے نہیں بدلے جا سکتے۔ دوست بدل سکتے ہیں، ہمارے ملک کیساتھ 4 ممالک کی سرحدیں ملتی ہیں۔ مشرق میں بھارت ہے، مغرب میں افغانستان، شمال میں چین اور جنوب مغرب میں ایران کی سرحد ملتی ہیں۔ ان ہمسایہ ممالک میں دو مسلمان ملک ہیں، ایران اور افغانستان۔ مشرق میں بھارت ہے، جو ہمارا ازلی دشمن ہے، اس کیساتھ تو تعلقات کی بہتری ممکن نہیں، دوسرا چین ہے، وہ ہمارا دوست اپنے مفاد کیلئے ہے۔ رہ گیا افغانستان اور ایران تو ان دونوں کیساتھ بھی ہمارے تعلقات دوستانہ نہیں۔ تو ہم کیسے سروائیو کرسکتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ پرائی جنگوں اور دور کے ممالک کی نسبت ہمسایوں کیساتھ تعلقات اچھے رکھیں۔

جہاں تک سعودی عرب کے ایران پر الزام کی بات ہے، تو اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہے نہ دلیل، حملہ یمن سے ہوا ہے، یہ الزام محض اس لئے لگایا گیا ہے کہ امریکہ ان حملوں کی آڑ میں ایران پر چڑھ دوڑے گا۔ لیکن امریکہ اتنا بھی بیوقوف نہیں کہ ایران جیسی قوت پر حملہ کر دے، ایرانی قیادت کے مطابق امریکی بیڑے ان کے ایک میزائل کی مار ہیں۔ ایران نے یہ بات ایسے ہی نہیں کہہ دی، ایران کی دفاعی پوزیشن بہت مضبوط ہوچکی ہے۔ اور اس سے امریکہ بھی آگاہ ہے۔ وہ کبھی بھی حملے کی حماقت نہیں کرے گا۔ ہاں اگر حملہ ہوگیا تو یہ امریکہ کیلئے عبرتناک شکست ہوگی۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس قریب ہے، اس حوالے سے کیا تیاریاں کی جا رہی ہیں۔؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
یوم القدس ہر سال کی طرح امسال بھی جوش و خروش سے منائیں گے۔ اس حوالے سے تمام اضلاع کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اضلاع، تحصیل اور یونٹ کی سطح پر یوم القدس پر ریلیاں ہوں گی اور صوبے کا مرکزی جلوس لاہور میں لاہور پریس کلب سے ایجرٹن روڈ سے ہوتا ہوا پنجاب اسمبلی کے سامنے پہچنے گا، ہم سمجھتے ہیں کہ قدس انسانی معاملہ ہے، یہ ظالم سے نفرت اور مظلوم سے اظہار یکجتہی کو دن ہے۔ یہ عالمی اور انسانی مسئلہ ہے۔ اس لئے ہر غیرتمند کو اس دن باہر نکلنا چاہیئے اور فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرنا چاہیئے۔ سب سے پہلے اس معاملے کو امام خمینی نے اٹھایا تھا، انہوں نے پوری دنیا سے اپیل کی کہ وہ یہ دن منائیں۔ امام خمینی کی ہدایت پر ہی پاکستان میں علامہ سید عارف حسین الحسینی نے اس دن کو منانے کا اعلان کیا۔

ان کے بعد پھر علامہ ساجد علی نقوی نے پوری قوم کو یہ ہدایت کی اور اب ہر سال قائد ملت کی ہدایت پر یہ دن منایا جاتا ہے، پہلے تو صرف شیعہ ہی اس دن کو مناتے تھے، مگر اب دیگر مکاتب فکر کے لوگ بھی اس دن کو منانے لگ گئے ہیں اور ہماری ریلیوں میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ فلسطینی ہمارے بھائی ہیں۔ اسرائیل سے برسر پیکار فلسطینی شیعہ نہیں، اس کے باوجود شیعیان جہاں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ واحد ایران ہے، جس نے اس معاملہ کو عالمی سطح پر اٹھایا اور اسے عالمی مسئلہ بنایا۔ ایران اگر مظلومون کیلئے آواز نہ اٹھاتا تو یہ مسئلہ کب کا دب چکا ہوتا۔ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ اہلسنت بھی بیدار ہوچکے ہیں اور وہ بھی اس معاملے میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ فلسطین بہت جلد آزاد ہوگا۔

اسلام ٹائمز: لاہور میں یوم القدس پر 3 مختلف ریلیاں نکلتی ہیں، کیا استعمار سے اظہار نفرت کیلئے یہ تینوں متحد نہیں ہوسکتیں۔؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
اتحاد ہونا چاہیئے، وحدت وقت کی ضرورت ہے، وحدت کی جتنی ضرورت اب ہے، ماضی میں کبھی نہیں تھی، اس لئے میرے خیال میں وحدت کا مظاہرہ ہونا چاہیئے۔ اس اتحاد کی نفی کون کرتا ہے۔ سب سے پہلے یہ ریلی تحریک جعفریہ کے پلیٹ فارم سے نکالی گئی۔ پاکستان میں اس ریلی کی ابتداء ہم نے کی۔ تو باقی تو بعد میں آئے تو بعد میں آنیوالوں کو ہمارے ساتھ شامل ہو جانا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: نہیں سب سے پہلے تو یوم القدس ریلی آئی ایس او پاکستان کیجانب سے نکالی گئی تھی۔؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
بھئی اس وقت آئی ایس او ہمارے ساتھ تھی، ہمارا مشترکہ ایونٹ تھا، پھر آئی ایس او نے راہیں جدا کر لیں، لیکن ہم تو وہیں موجود ہیں۔ اور اسی تسلسل کیساتھ یہ دن منا رہے ہیں۔ ہاں جو الگ ہوگئے تھے، وہ واپس آسکتے ہیں۔ ہم انہیں اپنے ساتھ لیکر چلیں گے، ظاہر ہے کہ اتحاد کی اہمیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو الگ الگ ریلیاں بھی فائدہ مند ہیں۔ ظاہر ہے جتنی زیادہ ریلیاں ہوں گی، اتنی موثر آواز اُٹھے گی۔ ہدف مشترک ہو، یہ بھی اتحاد کی علامت ہے۔ تو جتنے بھی جلوس ہوں، اتنا اچھا ہے، سب اظہار یکجہتی تو فلسطینی بھائیوں کیساتھ کر رہے ہیں۔ ویسے بھی ہم سب مسلمان بھائی ہیں، جب بھی کوئی اسلام کا مسئلہ ہوتا ہے، ہم متحد ہو جاتے ہیں۔ خواہ شیعہ ہوں یا سنی، پھر ہم ان حصاروں سے باہر آجاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ضرورت ہے کہ ہمیں ان حصاروں سے باہر ہی رہنا چاہیئے، ہمیں مل کر ایک موقف اختیار کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: لاپتہ افراد کا معاملہ بڑی اہمیت اختیار کرچکا ہے، لیکن اس پر شیعہ جماعتوں نے وہ ٹھوس موقف نہیں اپنایا، جسکی ضرورت تھی۔؟؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
میرے خیال میں ٹھوس موقف آیا ہے، کراچی والا دھرنا لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے تھا۔ کسی تنظیم کی جانب سے نہیں۔ لیکن اس پر تمام شیعہ جماعتوں نے ٹھوس موقف اپنایا، ہمارے صوبائی صدر مسلسل دھرنے میں موجود رہے، باقی جماعتوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ شیعہ علماء کونسل تو اس ایشوء کو پہلے دن سے لیکر چل رہی ہے۔ اگر شیعہ علماء کونسل اس دھرنے کا اعلان کرتی یا اس کی منتظم ہوتی تو یہ اور زیادہ موثر ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افراد کو لاپتہ کرنے کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیئے۔ یہ لاپتہ افراد شیعہ ہوں یا بلوچ، سندھی ہوں یا پٹھان، کسی کو بھی اس طرح ماورائے آئین لاپتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے۔ افراد کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو یہ ریاست کی بنیادیں کمزور کر دے گا۔

اس سے بدامنی پھیلے گی، ہاں اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کیلئے عدالتیں موجود ہیں۔ یہ کیسی بھونڈی حرکت ہے کہ تین تین سال سے لوگ لاپتہ تھے، دھرنے کے بعد جن 19 آدمیوں کو سامنے لایا گیا اور ان کیخلاف مقدمات بنا دیئے گئے۔ مقدمات میں بھی دفعات بھی عجیب و غریب لگائی گئیں، یعنی وہ دفعات بھی اتنی سنگین نہیں، تو پھر بتایا جائے کہ انہوں نے اگر یہی جرائم کئے تھے، جن کی ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے، تو انہیں چار چار سال قید میں کیوں رکھا گیا، جہاں انہیں مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ حتیٰ ان کی شکلیں تک تبدیل ہوگئی ہیں۔ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ اداروں کے اس اقدام سے لگتا ہے ملک پر حکمرانوں کی نہیں ایجنسیوں کی حکومت ہے۔ جو خود کو قانون سے بالا تر سمجھتی ہیں۔

صدر اور وزیراعظم کو سوچنا چاہیئے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے، ریاستی ادارے ہی ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ عمران خان کا موقف کل کیا تھا اور اب اقتدار میں آکر ان کا کیا بیانیہ ہوگیا ہے۔ ہم صرف شیعوں کیلئے بات نہیں کرتے، ہم تمام انسانوں کی بات کر رہے ہیں، خواہ وہ کسی بھی نسل یا مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، ایسے ہی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرکے گھر سے بچوں کے سامنے ان کے باپ کو اغواء کر لینا، کیا پیغام دیتا ہے، یقیناً اس سے بغاوت پھوٹے گی، ملکی سلامتی خطرے میں پڑے گی، اس لئے اداروں کو بھی سوچنا چاہیئے۔یہ اقدام ملک کو کمزور کر رہا ہے۔ حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: علامہ ساجد نقوی صاحب دیگر مکاتب فکر کے علماء کیساتھ بیٹھ جاتے ہیں جبکہ اپنے ہم مسلک علماء کیساتھ نہیں بیٹھتے، کیا اپنوں کیساتھ اتحاد نہیں ہوسکتا۔؟؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
ہم نے اتحاد سے کب انکار کیا ہے، ملی یکجہتی کونسل کے اجلاسوں میں تمام رہنماء شامل ہیں، وہاں علامہ ساجد علی نقوی تمام رہنماوں کیساتھ بیٹھتے ہیں۔ ہم نے تو یہ نعرہ لگایا تھا کہ تکفیریوں کیساتھ نہیں بیٹھنا، ہم ان کو تکفیری نہیں سمجھتے۔ ہم نے کبھی کسی کو منع نہیں کیا، متعدد تقریبات میں تمام شیعہ رہنماء اکٹھے ہوئے تو علامہ ساجد نقوی صاحب نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔ کئی بار علامہ راجہ ناصر عباس ساتھ بیٹھے ہیں، ہمارے دروازے تو سب کیلئے کھلے ہیں، قائد محترم نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ’’اجتماعیت اور اتحاد کیلئے تنظیم قربان کی جا سکتی ہے۔‘‘ جو بلاوجہ ناراض ہوگئے تھے، واپس آجائیں تو سینے سے لگا لیں گے۔ ظاہر ہے وحدت اور اتفاق کی برکت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ ہم نے تنظیم کو کبھی بت نہیں بنایا، معاملات تب بگڑتے ہیں، جب تنظیموں کی بت بنا کر پوجا شروع کر دی جائے۔ تو ہمیں مقصد پر آنا ہوگا، بت پرستی سے نکلنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: آپ نے بت پرستی کی بات کی تو آج کل ’’ساجد نقوی لورز کونسل‘‘ فعال ہے، کیا مذہبی تنظیموں میں ایسی کونسلوں کی گنجائش ہے، کیا یہ بت پرستی کے زمرے میں نہیں آتا اور کیا شیعہ علماء کونسل اسے اون کرتی ہے۔؟؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
محبت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ جس کو محبت ہے، وہ اظہار کرے۔ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے تو یہ علامہ ساجد نقوی صاحب کی محبت میں اگر کچھ دوستوں نے پلیٹ فارم بنا لیا ہے تو یہ ان کی محبت ہے۔ محبت بانٹنے دیں۔ محبت  کے چشمے سے بہنے والے پانی کو نہیں روکا جا سکتا، وہ اپنا راستہ خود بناتا ہے۔

اسلام ٹائمز: نصیریت، غالیت اور صوفیت کا فتنہ سر اُٹھا رہا ہے، اس سے قوم مزید تقسیم نہیں ہوگی، جو کہ نقصان دہ ہے۔؟؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
یہ تشیع اور عزاداری کیخلاف بہت بڑی سازش ہے۔ اس پر مومنین کو توجہ دینی چاہیئے اور اس فتنے کو الگ مسلک کے طور پر لیا جانا چاہیئے، یہ لوگ شیعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ شیعت کے روپ میں شیعت کے عقائد بگاڑنے کیلئے میدان میں اُترے ہوئے ہیں۔ یہ تشیع کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ نصیریت اور غالیت اپنی جگہ خطرناک لیکن صوفیت اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ان تینوں کا تشیع سے کوئی تعلق نہیں، یہ عزاداری پر حملہ آور ہیں۔ رہبانیت اور تصوف کی تشیع میں کوئی جگہ نہیں، منصور حلاج ہو یا ابن عربی، تشیع میں صوفی ازم کی گنجائش نہیں، یہ بڑے سلیقے سے صوفی ازم کو تشیع میں داخل کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ صوفیت کے بانیوں کا بھی تشیع سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے عقائد اور عبادات کو بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اصول دین اور فروغ دین بدلے جا رہے ہیں۔ یہ صوفی حلول کے قائل ہیں اور تشیع حلول کی نفی کرتی ہے۔ یہ رویت خدا کے قائل ہیں، جبکہ ہم اللہ کو نہیں دیکھ سکتے، صوفی کہتے ہیں کہ ہم خدا کو دیکھ سکتے ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہلکی سی جھلک دیکھی تو بے ہوش ہوگئے تو ہم کیسے یہ ملکہ حاصل کرسکتے ہیں کہ خدا کو دیکھ سکیں، تو یہ فتنے ہیں، ہمیں ان سے محفوظ رہنا ہوگا، ہمیں اپنے مسلک اور قوم کو اس فتنے سے بچانا ہوگا، قوم خود سوچے کہ یہ جن عقائد کا پرچار کر رہے ہیں، وہ تو پہلے ہمارے نہیں تھے، واضح ہے یہ اب نئے عقائد گھڑ کر لائے ہیں۔ اس لئے ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

اسلام ٹائمز: ایک غالی ذاکر کو ایوارڈ دینے پر شیعہ علماء کونسل لاہور کے صدر سے استعفیٰ لے لیا گیا، اصل معاملہ کیا ہے۔؟؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
یہ ایوارڈ دینے کا معاملہ فرد واحد کا فعل تھا، جماعت کا نہیں، ایس یو سی لاہور کے صدر نے حالانکہ ان الزامات کی نفی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک تقریب میں دعوت دی گئی تھی، میں چلا گیا، انہوں نے جماعت کو بچانے کیلئے استعفیٰ دیا ہے۔ ہم اس عمل کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے تنظیم کو اختلافات سے بچا لیا۔ یہ اقدام ہماری تنظیم کے قواعد کے برعکس تھا، اس لئے استعفیٰ منظور کر لیا گیا۔

اسلام ٹائمز: یہ بڑی عجیب بات ہے کہ مذہبی اور الہیٰ تنظیموں میں بھی وہ سیاسی طرز کے رویئے فروغ پا چکے ہیں۔ جنکو ہم گندے اور بازاری رویئے بھی کہہ سکتے ہیں، کیا یہ صورتحال تشویشناک نہیں۔؟؟
علامہ سید سبطین سبزواری:
جی بالکل، سیاست تو خدمت ہے لیکن ہمارے ہاں سیاست منافقت کو کہا جاتا ہے، یہاں کی سیاست بہت گندی ہوچکی ہے، جبکہ اب مذہبی جماعتوں میں ایسے پراگندہ ذہن لوگ بھی موجود ہیں، جو الہیٰ امور میں بھی ایسی حرکتیں کرتے ہیں، جو افسوسناک ہے، یہ میرے خیال میں کمینگی ہے، مذہبی تنظیموں میں ایسے رویئے نہیں ہونے چاہیئں، یہ قابل مذمت ہیں، ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیئے اور ان لوگوں کو بھی سوچنا چاہیئے کہ آپ کو ووٹ نہیں ملے تو منتخب باڈی کیساتھ تعاون کریں، یہ تعاون منتخب عہدیداروں کیساتھ نہیں بلکہ تنظیم کیساتھ ہے۔ بس اپنے دلوں کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 794700
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Syed Khizar Abbas Kazmi
Pakistan
Masha Allah Qibla e mohtaram ny khoob apna moaqaf bayan kia Qaid e mohtaram k mukhlis or motamid hony ki vajah sy intahai qadar ki nigah sy dekhy taty hain
منتخب