0
Saturday 27 Sep 2014 17:41

عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی گونج

عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی گونج
تحریر: ثاقب اکبر

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے 26 ستمبر 2014ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کو جس طرح سے اٹھایا ہے اس سے عالمی سطح پر ایک مرتبہ پر مسئلہ کشمیر اجاگر ہوا ہے۔ اس فورم پر اس مسئلہ کے اٹھائے جانے پر دنیا کے مختلف ملکوں میں موافق اور مخالف تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے اندر بھی اس سلسلے میں مختلف طرح کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و برابری کی بنیاد پر ہمسایہ ممالک سے تعلقات چاہتا ہے لیکن بھارت کی جانب سے سیکرٹری خارجہ کی سطح پر طے شدہ مذاکرات کی منسوخی پر افسوس ہوا اور بھارت نے مذاکرات کا موقع گنوا دیا جسے پوری دنیا نے دیکھا۔ یاد رہے کہ ہندوستان نے یہ طے شدہ مذاکرات منسوخ کرنے کے لیے دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سربراہ کی حریت کانفرنس کے راہنماؤں سے ملاقات کو بہانہ بنایا حالانکہ یہ پہلا موقع نہ تھا کہ کشمیری قیادت سے پاکستانی سفارت کاروں کی ملاقات ہوئی ہو بلکہ عام طور پر تو یہ ہوتا رہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے اگر کوئی اعلٰی سطحی وفد ہندوستان کا دورہ کرتا ہے تو کشمیری قائدین اس سے روایتی طور پر ملاقات کرتے ہیں۔ اگرچہ وزیراعظم نواز شریف کے گذشتہ دورۂ بھارت کے موقع پر اس ملاقات کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا جب وہ بھارتی وزیراعظم کی دعوت پر ان کی حلف وفاداری کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ اس پر پاکستان میں خاصی لے دے بھی ہوئی تھی۔ کشمیری قائدین میں سے بھی بعض نے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ اس کی وضاحت حکومت کی ترجمانوں کی طرف سے میڈیا میں بھی کی جاتی رہی کہ یہ دورہ بھارتی وزیراعظم کی حلف وفاداری کی تقریب میں شرکت کے لیے کیا گیا تھا لہٰذا کشمیری راہنماؤں سے ملاقات کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے اس کی تلافی جنرل اسمبلی میں ان کے حالیہ خطاب میں کی گئی ہے۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ 6دہائیاں قبل اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے قرارداد منظور کی تھی اور آج تک مقبوضہ کشمیر کے عوام ان قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں جب کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں پر عمل کروائے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہیں اور پاکستان بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تیار ہے۔ اس موقع پر انھوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کشمیر کے مسئلے پر پردہ نہیں ڈال سکتے جب تک اسے جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے اور ہماری طرف سے کشمیری عوام کے حق خود ارادی کی حمایت اور ان کی مدد جاری رہے گی۔ کشمیر کے مسئلے میں فریق ہونے کے ناتے یہ ہمارا تاریخی وعدہ اور ذمہ داری ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل پاکستانی سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے نیویارک میں پاکستانی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان بھارت کے دباؤ میں آئے اور اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ نہ اٹھائے۔ ان کے اس بیان سے مبصرین نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف جنرل اسمبلی میں اس مرتبہ زیادہ واضح طور پر مسئلہ کشمیر اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
میاں نواز شریف کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستانی حکمرانوں کی گذشتہ روایات کے مطابق داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کشمیر کے مسئلے کا سہارا لیا ہے۔ پاکستان میں ان کے خلاف جس طرح سے دھرنوں کا سلسلے جاری ہے اور ان کی حکومت کو سہارا دینے کے لیے اپوزیشن کی ساری جماعتیں اکٹھی ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے گرد سیاسی گرداب زیادہ تند اور گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے، انھوں نے اس میں سے اپنے آپ کو نکالنے کے لیے کشمیر کے مسئلے کو عالمی پلیٹ فارم پر بیان کیا ہے۔ حالانکہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے زیادہ بھارت سے تجارت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا خاندان بہت سرگرم دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گذشتہ دورہ بھارت میں اپنے تجارتی مقاصد کو فراموش نہ کر سکے لیکن کشمیری قیادت سے ملاقات کی ضرورت کو نظرانداز کرگئے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ لندن کے بعد نیویارک میں پاکستانیوں نے بڑے پیمانے پر ان کے خلاف آواز بلند کی اور جب وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے تو باہر پاکستانی بڑی تعداد میں گو نواز گو کے نعرے بلند کررہے تھے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ناقدانہ تبصروں کے باوجود وزیراعظم نواز شریف کا کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حمایت میں جنرل اسمبلی میں آواز بلند کرنا اپنے مقام پر لائق تحسین ہے۔ دونوں طرف کی کشمیری قیادت نے بھی اس سلسلے میں انھیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ حریت کانفرنس کے راہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک اور شبیر احمد شاہ نے اپنے بیانات میں وزیراعظم نواز شریف کی تقریر کو حقائق پر مبنی قرار دیا ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے بھی اپنے بیان میں وزیراعظم پاکستان کے جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے پر انھیں سراہا ہے۔

بھارتی حکومت اور ذرائع ابلاغ نے وزیراعظم نواز شریف کی تقریر کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اگرچہ بھارتی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم مودی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نواز شریف کو اہمیت نہیں دیں گے۔ دوسری طرف کانگریس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی حکومت چونکہ اسلام آباد میں دباؤ میں ہے اس لیے ان کی تقریر پر پاکستان کی فوج کے شدت پسندوں کے اثرات ہیں۔ کانگریس کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کے لیے یہ بات غیر مناسب تھی کہ وہ دو طرفہ معاملات کو بین الاقوامی فورم پر اٹھاتے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہنا مناسب سمجھا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے، اس پر بات نہیں ہو سکتی۔ یہ امر حیران کن ہے کہ ایک طرف بھارتی راہنماؤں کو پسند نہیں کہ پاکستان کشمیر کا مسئلہ عالمی فورم پر اٹھائے کیونکہ ان کے نزدیک یہ دو طرفہ معاملہ ہے۔ دوسری طرف وہ بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ اس پر بات نہیں ہو سکتی۔ بھارتی قیادت سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ عالمی فورم پر خود بھارتی حکومت لے کر گئی تھی۔

بعض تجزیہ کار اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کررہے ہیں کہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے راہنماؤں نے یکے بعد دیگرے کشمیر کے مسئلے کو اپنا موضوع سخن بنایا ہے۔ ابھی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری کے کشمیر پر بیان پر لے دے ہو رہی تھی کہ وزیراعظم پاکستان نے بھی اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھا دیا۔ گذشتہ دنوں جنوبی پنجاب میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے نوجوان بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’’لواں گے لواں گے پورا کشمیر لواں گے‘‘( لیں گے لیں گے ہم پورا کشمیر لیں گے) گویا ان کے نزدیک پورے کشمیر پر پاکستان کا حق ہے اور پاکستان اسے لے کر رہے گا۔

ہماری آرزو ہے کہ ہمارے سیاسی راہنما کشمیر کا ذکر فقط سیاسی ضرورت اور داخلی دباؤ سے نکلنے کے لیے نہ کریں ،اس لیے کہ یہ سب سے بڑا قومی مسئلہ ہے۔ یہ ڈیڑھ کروڑ انسانوں کی زندگی اور موت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ کشمیر کو بانی پاکستان، پاکستان کی شہ رگ قرار دے چکے ہیں۔ اسے سیاسی کھیل تماشے کا موضوع بنانا اعلیٰ قومی مقاصد سے بے وفائی ہی نہیں بلکہ انسانیت کی توہین اور تذلیل بھی ہے۔ پاکستانی عوام اور قوم جن چند مسائل میں ہم سو اور ہم فکر ہے ان میں سرفہرست مسئلہ کشمیر ہے۔ اس مسئلے کو گاہے گاہے عنوان سخن بنانے کے بجائے اسے سنجیدگی، متانت اور قومی جذبے کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 411955
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب