0
Saturday 16 Jun 2018 11:09

عیدالفطر، محبتیں اور خوشیاں بانٹنے کا دن

عیدالفطر، محبتیں اور خوشیاں بانٹنے کا دن
تحریر: محمد اشرف ملک
malikashraf110@gmail.com

سب مومنین کو عید مبارک
یکم شوال کا چاند نظر آنے سے ہی دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے مسلمانوں کے دلوں میں خوشی، سکون اور مسرت کا سماں شروع ہو جاتا ہے۔ چھوٹے بڑے، مرد عورت، والدین اولاد، بہن بھائی، دوست احباب، رشتہ دار، ہمسائے سب ایک دوسرے کو عید مبارک دے رہے ہوتے ہیں۔ عیدالفطر کے دن غسل کرنا، نیا یا صاف ستھرا لباس زیب تن کرنا، خوشبو لگانا، ہمسایوں، رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنا جلنا، بڑے شوق کے ساتھ عید کی نماز کا پڑھنا، عالم دین کی کم یا زیادہ خدمت کرنا، فطرہ ادا کرنا اور سویاں کھانا عام طور پر اس دن کا معمول ہوا کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے سب مومنین کی خدمت میں ہماری طرف سے بھی عید مبارک ہو۔

دلوں سے کینے اور نفرتیں نکالنے کا دن
آج کا دن شفقت، محبت، پیار، احترام، خوشی، سلامتی اور مبارک و برکت کے پیغامات وصول کرنے اور بھیجنے کا دن ہے۔ یہ دن گلے لگنے اور لگا لینے کی بہترین فرصت عطا کرتا ہے، دلوں کی پاکیزگی اور نرمی کا دن ہے، اس دن وہ بھی گھر لوٹ آتے ہیں جو کئی ماہ اور سال گھر سے باہر رہتے ہیں۔ اس دن لوگ آپس میں ملتے ہیں، رشتے دار ایک دوسرے کے ہاں جاتے ہیں، چھوٹے بڑوں سے دعائیں لیتے ہیں اور بڑے چھوٹوں کے سر پر دست شفقت پھیرتے ہیں، سال بھر کی ناراضگیاں ختم ہوتی ہیں، بیماروں کو حوصلہ ملتا ہے، بزرگوں کو بڑھاپے کی مایوسی میں ایک قوت، آس اور ایک نشاط تازہ حاصل ہوتی ہے، مسافر گھروں کو آتے ہیں اور گھروں کی اداسیاں، رونقوں میں بدل جاتی ہیں، والدین کا اپنی اولاد کے ساتھ، بہنوں کا بھائیوں کے ساتھ اور رشتہ داروں کا ایک دوسرے کے ساتھ قربتوں کا احساس تازہ ہو جاتا ہے۔ خاندان آپس میں جڑ جاتا ہے اور خاندانی رشتوں میں قدرت نے جو شیرینی اور مٹھاس رکھی ہے، اسے پانے اور بڑھانے کا ایک موقع میسر آجاتا ہے۔ خاندان سے نکل کر عام معاشرے کی سطح پر جان پہچان، رکھنے والے مسلمان بھی اس دن ایک دوسرے سے ملتے ہیں، خوشیاں تقسیم کرتے ہیں اور زندگی کے دکھ درد کو کم کرتے ہیں۔

یہ دن انسانیت کا دن ہے، اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنے کا دن ہے، درگزر، دریا دلی اور سخاوت کرنے کا دن ہے۔ یہی وہ دن ہے کہ جس میں دلوں سے کینہ، نفرت اور بغض کو نکال دیا جاتا ہے۔ گلہ، شکوہ اور شکایات کو مٹا دینے کا دن ہے۔ یہ دن نیکیوں میں اضافہ کرنے کا دن ہے، یہ دن ناراض لوگوں کو منانے کا دن ہے، اس حوالے سے پہل کرنا اگر کوئی آپ کی کمزوری سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے، اس کی پرواہ کئے بغیر "فاستبقوا بالخیرات" کے حکم پر عمل کرتے ہوئے پہل کریں اور خود اخلاق حسنہ کی مثال بن کر خوشیاں بانٹنے اور تقسیم کرنے کا سبب بن جائیں۔ اگر ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو صرف یہی نہیں کہ نیا اور صاف ستھرا لباس آپ نے زیب تن کیا ہے بلکہ اپنی روح کو اور اپنے باطن کو بھی اسلامی اخلاق سے مزین کر دیا ہے۔ البتہ یہ کام مشکل ضرور ہے، اس کے لئے ہمت، شجاعت اور خصوصاً خدا کی طرف سے توفیقات کی ضرورت ہے، لیکن عید یہی ہے کہ انسان کمالات کی منزلیں طے کرتے ہوئے کمزور اور ضعیف بندہ ہو کر دوسروں کو معاف کر دے تو یقیناً اللہ قادر مطلق ہو کر اسے بھی معاف کر دے گا اور اپنی رحمتیں، برکتیں اور توفیقات اس کے شامل حال فرمائے گا۔ جو لوگ دوسروں کو خوش کرتے ہیں، دوسروں کے غم ختم کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں اطمینان، سکون اور خوشی ڈالتے ہیں، ان کا بہت بڑا درجہ ہے اور اللہ اپنی توفیقات خاص سے ان کو نوازتا ہے۔

سہارا لینے کی بجائے سہارا دینے کا دن
آج عید کا دن اپنی خواہشات پر قابو پانے پر کامیابی اور خوشی منانے کا دن ہے، کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ، کتنے خوش نصیب ہیں وہ افراد، جو ایک ماہ کا کورس کرنے کے بعد آج اللہ، اللہ کے رسول اور اپنے وقت کے امام کی بارگاہ میں سرخرو اور کامیاب ہوچکے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ جو  "قد افلح من زکیٰھا" کی سند اپنے پروردگار سے لے چکے ہیں۔ اس کامیابی پر دین اسلام ان کو ایک اور اہم کام کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ تم بڑے ہو، تم عظیم ہو، جیسے تم نے ایک ماہ کے روزے رکھے ہیں اور  کمالات کی منزلیں طے کی ہیں، تم تو یہ راہ دیکھ چکے ہو، اس کی لذت اور خوشی کو بھی لمس اور محسوس کرچکے ہو، دوسروں کو بھی اس سے آشنا کرو، دوسروں کو بھی اس معنوی اور حقیقی لذت کی مٹھاس اور شیرینی سے آگاہ کرو۔ دوسروں کے لئے سہارا بنو، جو لوگ دینی معلومات میں ضعیف اور کمزور ہیں، ان کی اس کمزوری کو ختم کرنے کی کوشش کرو۔ جو لوگ عقیدہ کے حوالے سے، عمل کے لحاظ سے، اخلاق کے حوالے سے کمزور اور ضعیف ہیں، صحیح عقیدہ، صحیح عمل اور درست اخلاق میں کمزور ہیں یا محروم ہیں، ان کی اس محرومیت کو ختم کرنے کے لئے ان سے محبت کریں، ان سے پیار کریں اور حق و حقیقت کی راہ پر ان کو گامزن کرنے کی اپنی طرف سے کامل کوشش کریں۔

اس کام کی ابتداء غریب اور مسکین لوگوں سے کریں، ان کے شکستہ دلوں کے لئے مرہم کا سبب بنیں۔ ان کی محبت کو اپنے دل میں بٹھائیں۔ اللہ تعالٰی نے عید الفطر کی خوشی اور کامیابی کے موقع پر گھر کے سرپرست پر لوگوں کی مالی مشکلات کو ختم کرنے کی طرف ایک چھوٹا سا قدم اٹھانے کے لئے گھر کے ہر فرد کی طرف سے فطرہ کو واجب قرار دیا ہے۔ یہ کوئی بڑی مقدار نہیں ہے، لیکن شاید ہدف یہ ہے کہ انسان جس طرح اللہ کے حقوق کو ادا کرنے کی تمرین اور مشق کرتا ہے، اسی طریقہ سے، اسے بندوں کے حقوق کو بھی ادا کرنے کی عادت ڈالی جائے۔ یہ صرف لینے کے چکر میں ہی نہ رہے بلکہ دینے کا ڈھنگ بھی سیکھے۔ ساری زندگی سہارا لینے میں ہی نہ گزارے بلکہ مرنے سے پہلے معاشرہ کے کچھ افراد کے لئے سہارا بھی بنے۔ عید کے دن جہاں پر ہم لوگ نئے اور صاف ستھرے کپڑتے دیکھتے ہیں اور پہنتے ہیں، اللہ کرے  اپنے غلط خیالات کو بھی ترک کرکے اسلامی اصولوں کے مطابق نئے خیالات اپنا لیں تو کیا ہی بات ہے اور ایسا کرنا کا ارادہ عید کے دن سے ہو تو کمال ہے۔

حقیقی خوشی اور عید، اللہ کی اطاعت میں مضمر
ہمیں اپنی خوشی کے معیارات کو ائمہ معصومینؑ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہے اور وقتی و جلد ختم ہونے والی خوشیوں سے نکل کر حقیقی اور دائمی حتٰی اخروی سعادت اور خوشی کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہئے۔ امیرالمومنین حضرت علیؑ  فرماتے ہیں:"سرور المومن بطاعۃ ربه و حزنه علی ذنبہ[1]۔"ایک مومن کی خوشی اپنے پروردگار کی اطاعت میں ہے اور اس کا حزن و غم بھی اپنے پروردگار کی نافرمانی میں ہے۔" پیغمبر اکرم (ص) سے سوال ہوا کہ اللہ کے بہترین بندے کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: وہ افراد کہ جب نیکی کریں تو خوشحال ہوں اور جب بدی کریں تو ناراحت اور پریشان ہوں اور گناہوں سے مغفرت کی دعا کریں۔[2]حقیقی خوشی اور سکون کا بہترین عامل قوت ایمانی ہے، جس شخص کا خدا کی ذات پر پختہ ایمان ہوتا ہے، وہ بات بات پر غمگین اور پریشان نہیں ہوتا، چھوٹی چھوٹی چیزوں سے غصہ میں نہیں آتا، بہت سارے امور میں صبر کرتا ہے۔ اپنے آپ کو مضبوط کرتا ہے، اللہ کی ذات پر توکل کرتا ہے اور اسی کے حکیمانہ نظام کو سمجھ کر اس پر راضی رہتا ہے۔ ایسے افراد حق کے قیام اور حق کی راہ میں ہر قربانی اور ہر تکلیف کو برداشت کرنے میں اپنی خوشی سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے سامنے علماء اعلام، اولیاء خدا، معصومینؑ اور انبیاء ؑکی زندگیاں قابل نمونہ ہیں۔

شب ہجرت جب حضرت علیؑ پیغمبر اکرم (ص) کے بستر پر سوتے ہیں تو ارادہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، علیؑ کی خوشی اس بات میں ہے کہ رسول اللہ محفوظ رہیں، اسی وجہ سے پوچھتے ہیں کہ کیا میرے سونے سے آپ کیا صحیح و سالم رہیں گے تو آنحضرت جب مثبت جواب دیتے ہیں تو امیرالمومنینؑ اس بات پر سجدہ شکر ادا کرتے ہیں۔ لذت، سکون اور خوشی صرف کاموں کے انجام دینے میں ہی نہیں ہے بلکہ بعض جگہوں پر اپنی خواہشات کو روکنے میں بھی انسان کو خوشی اور لذت محسوس ہوتی ہے، مثلاً ایک شخص غلط نگاہ سے کسی غیر محرم کو دیکھ کر لذت محسوس کرتا ہے تو یہ بھی ایک لذت، خوشی اور سکون ہے، لیکن یہ وقتی اور زود گزر ہے۔ اس کے برعکس غلط نگاہ کو ترک کرنے میں بھی ایک خوشی، سکون، اطمینان اور لذت ہے کہ جس کے مقابلے میں پہلے والی لذت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ سے منقول ہے کہ اللہ تعالٰی حدیث قدسی میں فرماتا ہے کہ نامحرم پر نگاہ کرنا شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے، جب  کوئی شخص میرے خوف کی وجہ سے اپنی غلط اور بری نگاہ کو ترک کر دیتا ہے تو میں اس کے دل میں ایسا ایمان داخل کرتا ہوں کہ جس کی لذت کو  وہی شخص محسوس اور لمس کرسکتا ہے۔ ایک مومن شخص جو لذت اور خوشی اللہ کی اطاعت سے اور اپنے مالک حقیقی کے ساتھ ارتباط سے محسوس کرتا ہے، اس کے مقابل میں کوئی مادی لذت نہیں ہے۔

عید کے دن کی خاص دعائیں
آج کے دن کے خاص اعمال اور دعائیں ہیں، جو دعا کی کتابوں اور مفاتیح الجنان میں ذکر ہیں۔ ان میں سے ایک دعا عید کی نماز میں پڑھی جانے والی وہ دعا بھی ہے کہ جس کا مطلب ہے کہ پروردگار ہمیں معصومین کی سیرت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔ پروردگار! ہمیں ہر اس نیکی اور خیر میں داخل کر کہ جس میں تو نے آل محمد کو داخل کیا، ہمیں ہر اس برائی سے خارج اور دور رکھ کہ جس سے تو نے آل محمد کو دور رکھا۔ اے پروردگار ہمیں اپنے صالح اور مخلصین بندوں میں سے قرار دے۔ ہماری یہ بھی دعا ہے کہ اے پروردگار ملت تشیع بلکہ پوری امت مسلمہ کے درمیان اتحاد اور وحدت ایجاد کرنے کی ہمت عطا فرما، پاکستان اور تمام مسلمان ممالک میں دشمن کی سازشوں کو ختم کرنے کا حوصلہ عطا فرما، کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کو دشمن کے خونی پنجہ سے نجات دلا۔ آئندہ انتخابات میں اچھے لوگوں کو لانے میں اور ملک پاکستان جس مقصد کے لئے وجود میں لایا گیا، اسے پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ جو لوگ پریشان حال ہیں، مریض ہیں، ان کی پریشانیوں کو ختم کرتے ہوئے صحت و سلامت عطا فرما اور مومنین مخصوصین کو بھی جلد از جلد آج کے دن کے صدقہ میں شفا عطا فرما۔ علماء کرام پر اپنی خاص نگاہ لطف فرماتے ہوئے انہیں ملت کی صحیح سمت میں راہنمائی اور قیادت کرنے اور ملت کوبھی ان کی حمایت کا حوصلہ عطا فرما۔ امام زمانہ ؑ کی رضایت اور آپؑ کے ظہور کے لئے ہم سب کو ملکر زمینہ فراہم کرنے کی طاقت عطا  فرما۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] میزان الحکمه، ج4، ص437
[2] میزان الحکمه، ج۲ ص43۹
خبر کا کوڈ : 731893
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب