1
0
Sunday 24 Jun 2018 01:57

امریکہ کی انسانی حقوق کونسل سے دستبرداری کی وجوہات

امریکہ کی انسانی حقوق کونسل سے دستبرداری کی وجوہات
تحریر: احمد صدیقی
تقریباً ڈیڑھ سال پہلے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی سفارتی ٹیم کے برسراقتدار آنے کے بعد ان کی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے زیر نظر کام کرنے والے انسانی حقوق کے اداروں پر شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ کچھ ماہ سے امریکہ نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے فیصلوں کو بھی شدید اعتراضات اور تنقید کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ اس سال 24 مارچ کو اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے نے دعوی کیا کہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے اسرائیل مخالف اقدامات غیر منصفانہ اور امتیازی ہیں۔ نیکی ہیلی نے مزید کہا: "اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق نے پانچ قراردادیں منظور کرتے ہوئے اسرائیل کی مذمت کی جبکہ شمالی کوریا، ایران اور شام کے خلاف ایک قرارداد بھی منظور نہیں کی۔ ہر سال مارچ کے مہینے میں کونسل برائے انسانی حقوق صرف دو اجلاس منعقد کرتی ہے جس میں تمام ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان اجلاس میں صرف ایک مسئلہ اٹھایا جاتا ہے اور وہ اسرائیل ہے۔ جب کونسل برائے انسانی حقوق اسرائیل سے شمالی کوریا، ایران اور شام سے بھی زیادہ برا رویہ اختیار کرتی ہے اور اپنے اس اقدام کے باعث ایک ناقابل قبول اور احمقانہ عمل کی مرتکب ہوتی ہے۔"
 
امریکی حکام نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق سے دستبردار ہونے کے بارے میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل ہونے کے بعد زیادہ زیادہ کام کیا ہے۔ انہوں نے آخری دو مہینوں کے دوران انسانی حقوق کونسل کے موقف اور فیصلیوں کو زیادہ شدید تنقید کا نشانہ بنائے رکھا ہے۔ نیکی ہیلی نے اس بارے میں مارچ 2018ء میں دھمکی دے رکھی تھی کہ ان کا ملک موجودہ صورتحال جاری رہنے کی صورت میں کونسل برائے انسانی حقوق سے باہر نکل جائے گا۔ اقوام متحدہ تشکیل پانے کے بعد امریکی حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں میں امریکی نمائندوں کا طرز عمل کچھ ایسا تھا کہ وہ کم از کم ان اداروں کے مبینہ موقف کی مخالفت نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے خود کو انسانی حقوق کا دعویدار اور مدافع ظاہر کرتے تھے۔ امریکی حکام کا شروع سے یہ دعوی رہا ہے مغربی دنیا میں جمہوریت کا گہوارہ امریکہ ہے۔ وہ خود کو ایسے افراد کا مدافع ظاہر کرتے تھے جو اپنے ممالک میں حکمفرما سیاسی نظام کی مخالفت اور تنقید کے سبب حکومت کے زیر عتاب قرار پاتے تھے۔ اسی طرح امریکی حکام ہمیشہ سے ایسے ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں جو ان کے بقول جمہوریت سے عاری ہیں اور وہاں کی حکومتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ارتکاب کر رہی ہیں۔
 
لیکن موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت میں یہ مسئلہ بہت حد تک تبدیل ہو گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ کے سیاسی نظام میں انسانی حقوق کا مسئلہ حتی "بیان کی حد تک" بھی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے امریکی حکام جو کل تک چوری چھپے اور خفیہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور دنیا والوں کے سامنے خود کو انسانی حقوق کا حامی اور مدافع ظاہر کرتے تھے آج خفیہ طور پر بھی اور اعلانیہ بھی اربوں انسانوں کی نگاہوں کے سامنے سیاسی وجوہات کی بنیاد پر انسانی حقوق کے ادارے کو ترک کر رہے ہیں اور انسانی حقوق کے اداروں سے براہ راست ٹکر لے رہے ہیں۔ البتہ عالمی معاہدوں سے دستبرداری کے سلسلے میں امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کی کونسل سے دستبرداری واحد مثال نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاوس میں قدم رکھنے کے بعد امریکہ نے پیرس کے ماحولیاتی معاہدے کو خیرباد کہنے کے ساتھ ساتھ اب تک اقوام متحدہ کی علمی، تعلیمی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو کو بھی ترک کر دیا ہے۔ اسی طرح امریکہ نے 2018ء میں اقوام متحدہ کو دی جانے والی سالانہ امداد میں بھی گذشتہ دو سال کی نسبت 25 فیصد کمی کر دی ہے۔ یہ امور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ پر شدید اعتراضات کا باعث بنے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق سے امریکہ کی دستبرداری کی وجوہات جاننے کیلئے درج ذیل نکات پر توجہ ضروری ہے:
 
1)۔ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو تاریخی گوشہ نشینی سے باہر نکالنے کی کوششیں
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کونسل برائے انسانی حقوق سے دستبرداری کی اہم ترین وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انسانی حقوق کے مسئلے میں اسرائیل کو ہمیشگی تاریخی گوشہ نشینی سے باہر نکالنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ عالمی رائے عامہ کے سامنے امریکہ اور اسرائیل کے فیصلوں اور اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کر کے اسے عالمی سطح پر تسلیم کروانے کی کوشش میں مصروف ہیں اور یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی امریکہ کا احترام کرنا چاہتا ہے تو اسے حتماً اسی قدر اسرائیل کا احترام بھی کرنا پڑے گا۔ اس ہم آہنگی کی پالیسی کا آغاز "ڈیل آف سینچری"، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو اعلانیہ طور پر تسلیم کئے جانے اور امریکہ کی جانب سے ایران سے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو جانے سے ہوا۔ اس کے بعد امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا گیا اور آخرکار امریکہ نے اسرائیل کے بعد اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق سے دستبردار ہو کر اسرائیل کی حمایت اور اسے عالمی سطح پر مشروعیت بخشنے کی راہ میں اہم ترین اقدام انجام دیا۔
 
2)۔ ڈونلڈ ٹرمپ انسانی حقوق پر یقین نہیں رکھتے
امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے باہر نکل جانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس اقدام کے ذریعے یورپی ممالک، جاپان اور کینیڈا کو یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کا امریکہ انسانی حقوق پر یقین نہیں رکھتا اور عالمی نظام میں دیگر ممالک سے تعلقات کی بنیاد انسانی حقوق کو قرار نہیں دیتا۔ لہذا دیگر ممالک کو بھی امریکہ سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو انسانی حقوق کے معیاروں کے اندر محدود رکھے گا۔ البتہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے بھی مختلف انداز میں اس بات پر تاکید کر چکے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کیم جونگ اون کے درمیان مذاکرات کے دوران بھی جاپان اور یورپی ممالک سمیت بہت سے ممالک نے ٹرمپ کو یاددہانی کروائی تھی کہ ان مذاکرات کا ایک اہم رکن شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی صورتحال ہونا چاہئے لیکن ٹرمپ نے اسے مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے سیکورٹی ایشوز کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے شمالی کوریا سے مذاکرات کے ایجنڈے میں انسانی حقوق کا مسئلہ شامل نہ ہونے پر کسی قسم کے تحفظ کا اظہار نہیں کیا۔
 
البتہ ڈونلڈ ٹرمپ انسانی حقوق کے مسائل کو بنیاد بنا کر امریکہ کی روایتی سیاست بازی کو جاری رکھیں گے اور اس بارے میں امریکہ کے رقیب اور دشمن ممالک پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہیں گے۔ اس ضمن میں ٹرمپ کی کوشش ہو گی کہ خود امریکہ پر انسانی حقوق کے مسائل پر انگلیاں نہ اٹھنے پائیں لیکن ساتھ ہی ساتھ امریکی خارجہ پالیسی میں دیگر ممالک پر دباو ڈالنے کیلئے انسانی حقوق کا مسئلہ ایک ہتھکنڈے کے طور پر باقی رہے۔ مثال کے طور پر اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ نیکی ہیلی نے ایک بار پھر چین اور روس پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگا کر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن اس کا انسانی حقوق کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف انسانی حقوق کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے حصول میں رکاوٹ بھی سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کئی بار عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مجرم قرار پا چکے ہیں۔ سعودی عرب یمن کے عوام کے قتل عام جبکہ اسرائیل مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام میں مصروف ہے۔
 
3)۔ یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزام سے بچنے کی کوشش
حالیہ دنوں میں موضوع بحث بننے والے مسائل میں سے ایک خود امریکہ کے اندر اور باہر امریکی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر انسانی حقوق کے اداروں کی شدید تنقید ہے۔ امریکہ کے اندر بعض مسائل جیسے مہاجرین کو پنجروں میں بند کرنے پر مبنی اقدام امریکہ کے اندر اور باہر سرگرم انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے شدید تنقید سے روبرو ہوا ہے۔ وہ امریکی سکیورٹی اداروں کی جانب سے مہاجرین سے غیر انسانی سلوک پر شدید برہم ہیں۔ اسی طرح حالیہ چند دنوں میں امریکہ کی سربراہی میں یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انجام پائی ہیں اور بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ ان دنوں جب پوری دنیا فٹبال ورلڈ کپ دیکھنے میں مصروف ہے امریکہ اپنے مغربی اور عرب اتحادیوں کے ہمراہ یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ کی 25 لاکھ آبادی پر آگ برسانے میں مصروف ہے۔ اب انسانی حقوق کے عالمی اداروں میں یہ مسئلہ اٹھایا نہیں جا سکتا کیونکہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی رکنیت چھوڑ دی ہے۔ لہذا امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کونسل سے دستبرداری کی ایک بڑی وجہ مستقبل قریب میں امریکہ کے اندر اور یمن میں غیر انسانی اقدامات کی وجہ سے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا خدشہ تھا۔
 
نتیجہ
امریکہ کی جانب سے ملک کی اندرونی سطح پر بھی اور عالمی سطح پر بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی اقدامات اور بین الاقوامی معاہدوں سے دستبرداری کوئی نئی بات نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ممالک اور ادارے جو اب بھی امریکہ کو انسانی حقوق کا اصلی حامی اور مدافع قرار دیتے ہیں کس دلیل کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں؟ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان کے پاس اپنے موقف کی کوئی منطقی دلیل موجود نہیں اور وہ صرف اور صرف سیاسی اور نفسیاتی رجحانات کے باعث ایسا موقف اپنائے ہوئے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 733154
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
بہت عمدہ حقائق پر مبنی تجزیہ
منتخب