1
0
Saturday 12 Oct 2019 16:26

طیب اردوغان، اقوام متحدہ کی تقریر اور عمل

طیب اردوغان، اقوام متحدہ کی تقریر اور عمل
تحریر: سید اسد عباس

اقوام متحدہ کا نام آتے ہی دنیا کے اکثر انسانوں کے ذہنوں میں ایک ایسے مقام کا تصور ابھرتا ہے جہاں عالم انسانیت کے اعلی ترین دماغ انسانی فلاح و بہبود اور بھلائی کے لیے مجتمع ہیں۔ اسے عالمی سطح پر وہی حیثیت حاصل ہے جو ہمارے معاشرے میں جرگے اور بیٹھک کو حاصل ہے۔ دنیا بھر سے اہل اقتدار اس فورم پر جا کر انسانیت کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہیں اور ان کے حل کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بیٹھک نے انسانی حقوق کے حل کے لیے بہت سے ادارے تشکیل دیے ہیں، جن کے قوانین اور قراردادیں ہیں۔ اس جرگے یا بیٹھک میں کچھ سرپنچ بھی ہیں جن کی رائے کو حتمی تصور کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے نظام، طریقہ کار میں بے پناہ خامیوں کے باوجود کوئی بھی اس ادارے کو ختم کرنے کی بات نہیں کرتا، حالات چاہے کیسے بھی ہوں، کسی کی شنوائی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، تاہم اس ادارے کو تبرکا برقرار رکھا جاتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ دنیا کا کوئی بھی انسان یہ کہے کہ اس ادارے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یا اس کا خاتمہ کر دیا جائے، جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ کمزور انسانوں اور اقوام کو یہ ادارہ ایک ایسا مقام نظر آتا ہے، جہاں کم از کم وہ اپنی بات کہنے کے قابل ہیں۔

طاقتور بھی نہیں چاہتے کہ یہ ادارہ ختم ہو، کیونکہ وہ اس ادارے کے ذریعے وہ کام نکال سکتے ہیں، جو وہ براہ راست انداز سے نکالنے سے قاصر ہیں۔ عراق اور افغانستان پر حملے کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ امریکہ تنہا چاہے کہ وہ کسی ملک پر حملہ آور ہو جائے تو شاید اس کے لیے ممکن نہ ہو، تاہم وہ اقوام متحدہ کے فورم سے کچھ ممالک کو ساتھ ملاتا ہے اور اپنے حملے کو اخلاقی جواز فراہم کرتا ہے اور پھر کسی بھی ملک پر چڑھ دوڑتا ہے۔ اب اس ملک کے وسائل تو ظاہر ہے اسی قوت کے پاس آئیں گے، جو حملہ آور ہے یا یہ ممالک ان وسائل کو آپس میں تقسیم کریں گے، باقی دنیا فقط اخلاقی جواز فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے دفاتر، اداروں، سٹاف کے اکثر اخراجات ہمیں طاقتور ممالک ہی برداشت کرتے نظر آتے ہیں۔ ہماری زبان میں کہاوت ہے، جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہوگا، دنیا کے کمزور ممالک اقوام متحدہ میں جا کر اپنے دکھڑے بیان کرتے ہیں اور اس کے اثرات کے حوالے سے امیدیں لگائے پھرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دکھڑے، زخم بن کر ناسور کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

اسکے باجود اقوام متحدہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، جبکہ طاقتور ملکوں کو خراش بھی آ جائے تو دنیا میں آنے والی قیامت دیدنی ہوتی ہے۔ نائن الیون میں کل تین ہزار افراد جاں بحق ہوئے، لیکن اس کا بدلہ لینے کے لیے لاکھوں جانوں کو تلف کیا گیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے۔ اگر انسانی خون ہی مسئلہ ہوتا تو ہزاروں کے بدلے میں لاکھوں قتل نہ کیے جاتے۔ بہرحال یہ ادارہ کمزور انسانوں کی امنگوں اور امیدوں کا مرکز بنا ہوا ہے، اگرچہ انسانیت ابھی اس سطح تک نہیں پہنچی ہے کہ اس ادارے کو اس کی حقیقی روح کے مطابق چلا سکے۔ گذشتہ دنوں اس کی جنرل اسمبلی کا ایک اجلاس ہوا، جس میں دنیا بھر کے قائدین نے خطابات کیے، کشمیر پر ہمارے وزیراعظم عمران خان نے تقریر کی، مہاتیر محمد، حسن روحانی نے امہ کو درپیش چیلنجز پر تقاریر کیں، اسی طرح ایک اہم تقریر ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کی بھی تھی، جنھوں نے فلسطین کے قضیہ اور اس میں اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کا معاملہ اٹھایا۔

وہ اپنے ہمراہ ایک نقشہ لائے تھے، جس میں 1947ء کا فلسطین اور موجودہ فلسطین تصویری شکل میں دکھایا گیا تھا۔ انسانی حقوق، غیر ملکی جارحیت اور غاصبانہ قبضے کا یہ شکوہ تب بھلا لگتا ہے، جب یہ ایک اصول کی حیثیت رکھتا ہو۔ پاکستان کے وزیراعظم کی تقریر سے ایک روز قبل پاکستان نے میں یمن میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہونے والی تحقیقات کے خلاف ووٹ دیا۔ ہم جو وزیراعظم کی مظلومین کشمیر کی داد رسی کے حوالے سے تقریر پر پھولے نہیں سماتے تھے، یمنیوں کے روبرو بے آبرو ہو گئے۔ انسانی حقوق کا اگر ہمیں اتنا ہی درد تھا تو پھر یہ پوری دنیا کے لیے ہونا چاہیے تھا، بھلا یہ کیا ہوا کہ ایک جانب انسانیت کا نوحہ پڑھتے پڑھتے ہم زمین و آسمان ایک کردیں اور دوسری جانب ہم ان انسانی حقوق کی مذمت کرنے کے بجائے فقط تحقیقات کے خلاف ووٹ دے دیں۔ رجب طیب اردغان کی تقریر بھی بہت مزاحیہ تھی ایسا لگا کہ جیسے وہ اپنے ہی حملے کے لیے جواز بنا رہے ہوں، اس وقت تو لگا کہ رجب طیب اردغان مظلوم فلسطینیوں کے غم میں گھل رہے ہیں اور اسرائیل کے غاصبانہ قبضے پر جاں بہ لب ہیں، لیکن جب انھوں نے کرد آبادی اور شام کی سرزمین پر یہ کہہ کر حملہ کیا کہ ہم یہاں سیف زون بنانا چاہتے ہیں، تو ان کی اقوام متحدہ کی تقریر یوں منہ چڑانے لگی، جیسے کوئی شاطر انسان کسی غریب کو چونا لگا کھسیانی ہنسی ہنستا ہے۔

کردوں کی امریکی سرپرستی میں تنظیم، ان کے شام میں کردار کے حوالے سے اگرچہ بہت کچھ لکھا جارہا ہے، تاہم یہ کہہ کر کہ ان کردوں کے (پی کے کے) سے روابط ہو سکتے ہیں اور ہمیں اپنا تحفظ کرنا ہے، حملہ کر دینا کسی صورت درست عمل نہیں ہے۔ اب تک شام کے کردوں نے ترکی میں کوئی کارروائی نہیں کی، کہ اس کو بہانہ بنا کر ترکی خطے میں نئی دھما چوکڑی مچاتا۔ اس حملے کے خطے اور ترکی پر اثرات اور نتائج تو یقینا بعد کے ایام میں ظاہر ہوں گے، اخلاقی طور پر یہ حملہ نہایت قابل مذمت ہے۔ اس حملے نے اسرائیل اور ہندوستان کو یہ جواز دیا ہے کہ وہ بھی سیف زون کی تشکیل کے لیے ہمسایہ ممالک میں فوجی کارروائیوں کا آغاز کریں۔ اگر رجب اردغان کا یہ فیصلہ درست تسلیم کیا جائے تو اسرائیل کی لبنان، شام اور اردن میں جارحیت اور وہاں سیف زونز کا قیام، بھارت کی مقبوضہ کشمیر سے بڑھ کر آزاد کشمیر کی جانب پیشقدمی سب کو جائز سمجھنا ہوگا۔ جب آپ عالمی سرحدوں کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کے تقدس کے قائل ہیں تو پھر کسی دوسرے ملک پر حملے اور اس کے خطے پر قبضے کو کیسے درست قرار دے سکتے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 821618
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

سید شجاعت علی کاظمی
Pakistan
اس سلسلہ میں کشمیر کی مثال دینا کسی طور درست نہیں، کیونکہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر اور آزاد ریاست جموں و کشمیر کے درمیان سرحدی لکیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بین الاقوامی سرحد نہیں بلکہ سیز فائر لائن ہے اور دونوں اطراف کے کشمیری اسے سرحد تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1974ء میں طے پانے والے شملہ معاہدہ کی رو سے بھی یہ لائن آف کنٹرول ہے، نہ کہ مستقل بین الاقوامی سرحد۔
اس وقت بھی لائن آف کنٹرول کو آزاد کشمیر کی عوام ہزاروں کی تعداد میں روندنے کے لیے گھروں سے نکل کر چناری کے مقام پر دھرنا دیئے بیٹھی ہے۔ جسے چکوٹھی جانے سے روکا گیا ہے۔ لہذا اس کو ترکی کے کردوں پر شام کے علاقہ میں حملہ سے جوڑنے کی کوئی جوازیت ہی نہیں۔
منتخب