0
Saturday 28 Jul 2012 16:23

شام کا بحران، اب تک کے کھیل میں کون جیتا کون ہارا؟

شام کا بحران، اب تک کے کھیل میں کون جیتا کون ہارا؟

اسلام ٹائمز- شام کے دو بڑے اور اہم شہروں دمشق اور حلب میں بدامنی کی نئی لہر وجود میں آنے اور شامی فوج کی جانب سے کچھ حد تک ان دو شہروں کا کنٹرول واپس لینے کے بعد اب یہ سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ اب تک کے اس کھیل میں کون جیتا ہے؟۔ اس سوال کے جواب کیلئے درج ذیل نکات کی جانب توجہ ضروری ہے۔
 
اب تک یہ واضح ہو چکا ہے کہ شام کے حکومت مخالف گروہ اور انکے حامی ممالک میدان جنگ میں شام کی فوج اور سکیورٹی فورسز کو شکست دینے پر قادر نہیں۔ اب تک جتنی بار بھی فوج اور حکومت مخالف مسلح گروپس میں جھڑپ ہوئی ہے، فوج کو فتح نصیب ہوئی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک شام کے حکومت مخالف گروہ عوام کی حمایت حاصل کرنے اور اپنی تحریک کو عوامی رنگ دینے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ اگر انتہائی بدبینی سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ شام کے عوام خاموشی سے اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ دیکھیں آخرکار کون فاتح میدان کے طور پر سامنے آتا ہے؟۔ دمشق اس وقت مکمل طور پر پرامن ہے اور حلب جس کے بارے میں حکومت مخالف مسلح گروپس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کی صورتحال بھی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔
 
شام کی فوج نت نئے طریقے آزما رہی ہے۔ شام کے حکومت مخالف گروہوں کی جانب سے مسلح کارروائیاں شروع ہو جانے اور انکی دہشت گردانہ نوعیت کے واضح ہو جانے کے بعد شامی فوج کو بھی جوابی کارروائی کرنے میں زیادہ آزادی مل گئی ہے۔ شام کی حکومت نے بھی اپنی تمام تر توجہ اندرونی مسائل پر مرکوز کرنے کی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے مسلح گروہوں کے حامی ممالک کی سرحدیں ناامن کرنے کے منصوبے پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شام کی جانب سے اپنے کیمیائی ہتھیار اور میزائل سسٹم کی پوزیشن کو تبدیل کرنا اور جولان میں مقبوضہ فلسطین کے ساتھ شام کے سرحدی علاقوں میں راکٹس کا فائر ہونا، اس اسٹریٹجک تبدیلی کی ابتدائی علامات تصور کی جاتی ہیں۔
 
اس وقت مغربی ممالک کیلئے یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ شام کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کئے بغیر صرف اور صرف فوجی طریقے سے اسے حل کرنے کی کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اگر حتی صدر بشار الاسد بھی حکومت سے علیحدہ ہو جائیں، جس کا امکان روز بروز کمزور ہوتا جا رہا ہے، پھر بھی زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن کی جگہ تبدیل ہو جائے گی اور اس بار علویون جو شام میں انتہائی منظم اور طاقتور گروہ سمجھا جاتا ہے، سنی حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں گے۔ لہذا اب یہ بات سب پر واضح ہوچکی ہے کہ شام کے مسئلے کا ایسا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے، جس پر تمام گروپس متفق ہوں۔ ایسے وقت جب اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل جناب کوفی عنان کی جانب سے پیش کردہ منصوبہ بھی شکست سے دوچار ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ یقیناً شام کے بارے میں ایک کامیاب سیاسی حل مغرب کی جانب سے سامنے آنا ناممکن نظر آ رہا ہے۔
 
ابھی سے شام کے حکومت مخالف گروپس کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کی علامات قابل مشاہدہ ہیں۔ حتی شام کی دہشت گرد تنظیم لبریشن آرمی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کے نائب کی سربراہی میں موجودہ حکومت کے تسلسل کو قبول کرنے پر راضی ہیں۔ بعض رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ امریکی حکام نے صدر بشار الاسد کے انتہائی قریبی افراد سے رابطہ بھی کیا ہے، جس میں یمن جیسے ماڈل کو شام میں اجراء کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے، جسکے مطابق صدر اپنے عہدے سے دستبردار ہو جاتا ہے اور اسکی کابینہ جوں کی توں رہتی ہے۔ اگرچہ امریکی حکام کی جانب سے کئے گئے یہ تمام رابطے بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں اور صدر بشار الاسد کے قریبی ساتھیوں نے انتہائی دوٹوک انداز میں انکی قانونی حکومت کے تسلسل پر زور دیا ہے، لیکن خود امریکہ اور شام کے حکومت مخالف دھڑوں کی جانب سے مذاکراتی رویہ اپنانے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں جنگ کی میدان میں بہت محدود پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔
 
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تمام تر گیدڑ بھبکیوں اور شور شرابے کے باوجود شام کے مسائل سے آگاہ تجزیہ نگاروں کی نظر میں مغرب کی جانب سے شام کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکی حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ صدارتی انتخابات کے نزدیک کوئی نئی فوجی مہم شروع کرنے سے صدر اوباما کی محبوبیت میں شدید کمی آ سکتی ہے، کیونکہ امریکی عوام اس وقت حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ دوسرے ممالک میں مداخلت کو ختم کر کے ملک کے اندرونی مسائل کی جانب توجہ دے۔ صہیونیستی حکام بھی اگرچہ اس بات کا کھلم کھلا اظہار نہیں کرتے، لیکن اپنی انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں وہ اس قطعی نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ شام کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی انکی سرحدوں پر موجود کشمکش کو مکمل بدامنی میں تبدیل کرکے جولان کو دوسرے سینا میں تبدیل کر سکتی ہے۔

خبر کا کوڈ : 182292
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے