0
Saturday 20 Feb 2010 12:38

نہلے پہ دھلا

نہلے پہ دھلا
مشرق وسطی کے دو ممالک میں گزشتہ روز دو ایسے واقعات ہوئے ہیں،جنہوں نے امریکہ کی علاقے میں گرتی ہوئی ساکھ کو مزيد خراب کر دیا ہے۔امریکی اور صیہونی عہدیدار آجکل ایران کے خلاف پابندیوں میں اضافے کے لئے روز و شب مختلف ممالک کے دوروں پر ہیں۔امریکی وزير خارجہ ہلیری کلنٹن نے قطر اور سعودی عرب کا تفصیلی دورہ کیا ہے جبکہ صیہونی وزير اعظم نتین یاہو نے روسی حکام کو ایران کے خلاف بھڑکانے کی بھرپور کوشش کی۔
قطر اور سعودی عرب میں دو واقعات نے امریکی وزیر خارجہ کے مشرق وسطی کے دورے کے مزے کو کرکرا کر دیا،وہ ہمیشہ چکنی چپڑی باتوں اور پلاسٹک سرجری ذرہ خوبصورت چہرے سے عربوں کا دل لبھا کر اپنے اہداف حاصل کر لیتی ہیں لیکن اس مرتبہ ان کی نسوانیت کا جادو بھی سرچڑھ کر نہیں بول سکا اور سفارتی محاذ پر بھی انہیں پے در پے ناکامیاں ہوئیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے قطر کے دورے میں ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان سے بھی تفصیلی ملاقات کی ہے۔رجب طیب اردوغان اور انکے ملک نے جب سے اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے امریکی حکام ترک رہنماؤں کی دلجوئی میں مصروف ہیں البتہ امریکہ کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جو انہیں آنکھیں دکھاتا ہے وہ انکے سامنے بچھ جاتے ہیں اور جو سرتسلیم خم ہو جاتا ہے اس سے ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ترک وزيراعظم اور امریکی وزير خارجہ کی ملاقات بیس منٹ کے لئے طے پائی تھی لیکن دونوں رہنماؤں کے درمیان بعض مسائل پر بات پیچیدہ ہو گئی تو یہ ملاقات مقررہ وقت سے زيادہ طول کھینچ گئی۔قطر میں امریکی سفیر اس ملاقات میں موجود نہ تھے دونوں رہنماؤں کی بند کمرے کی ملاقات جب مقررہ وقت سے تجاوز کر گئی تو کمرے سے باہر موجود امریکی سفیر کو فکر لاحق ہو گئی کہ یہ ملاقات اتنی لمبی کیوں ہو رہی ہے۔بند کمرے کی مسنرکلنٹن،طیب ملاقات پر امریکی سفیر کی تشویش کئی حوالے سے بجا ہے لیکن امریکی سفیر نے کمرے سے باہر یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ وزير خارجہ کی ایک اور اہم ملاقات ہے اور میٹنگ کا مقررہ وقت ختم ہو چکا ہے۔میٹنگ جب پون گھنٹے سے بھی تجاوز کر گئی تو امریکی سفیر نے دروازہ کھول کر اندر جانے کی کوشش کی،دروازے کے ساتھ ترکی کے ایک اہم سفارتکار بھی موجود تھے امریکی سفیر جب اندر گھسنے لگے تو ترکی کے سفارتکار نے اسے اندر جانے سے روکنے کی کوشش کی،جس سے امریکی سفیر کا غرور و تکبر اور دنیا کی واحد سپرپاور طاقت ہونے کا گھمنڈ عروج پر پہنچ گیا اس نے ترکی کے سفارتکار کو کالر سے پکڑ کر راستے سے ہٹانے کی کوشش کی۔ترک سفارتکار کا پارہ بھی چڑھ گيا اور اس نے امریکی سفیر کو اٹھاکر دور پھینک دیا۔قطر میں امریکی سفیر کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ امریکی عہدیدار کے ساتھ کوئی اسطرح کا سلوک کر سکتا ہے۔
دوسری طرف امریکی وزير خارجہ ایران مخالف تشہیراتی مہم کے تسلسل میں قطر اور سعودی عرب کے اعلی حکام سے تند و تیز مذاکرات کے بعد ریاض کی خواتین یونیورسٹی میں جا پہنچی۔ہلیری کلنٹن نے یہاں بھی ایران کے خلاف رٹے رٹائے اور تکراری الزامات سے اپنی گفتگو شروع کی۔امریکی وزیر خارجہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر تابڑ توڑ حملے کر رہی تھیں کہ طالبات میں سے ایک طالبہ نے ہلیری کلنٹن کو ٹوکتے ہوئے کہا امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف تو دنیا بھر میں لابنگ کر رہا ہے لیکن امریکہ اور برطانیہ نے اسرائیل کو ایٹمی طاقت بنا کر عظیم گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس پر عالمی ادارے کیوں خاموش ہیں۔سعودی طالبہ نے امریکی وزير خارجہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا اسرائیل علاقے کے لئے واضح خطرہ ہے اور امریکہ اس حوالے سے جوابدہ ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سعودی عرب جس کے اعلی حکام،تکفیری ملاں،سلفی طبقے سب کے سب ایران مخالف ہیں وہاں یونیورسٹی کی طالبات ایران کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کا کھلم کھلا اعلان کریں گی۔امریکی وزير خارجہ یہ تصور کر رہی تھیں کہ جسطرح وہ سعودی شہزادوں کے سامنے ایران پر بے بنیاد الزام لگاتی رہتی ہيں اور وہ جواب میں نہ صرف ردعمل کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہيں سعودی عرب کے طلباء اور نوجوان نسل بھی اپنے حکمرانوں کی طرف امریکہ کی ہر بات پر لبیک کہیں گی۔
سعودی عرب کا معاشرہ سیاسی،مذہبی اور ثقافتی حوالے سے انتہائي گھٹن کا شکار ہے۔اس ملک میں قلم اور بیان کی بھی آزادی نہیں ہے۔میڈیا بھی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ایسے میں سعودی عرب کی ایک خواتین یونیورسٹی میں ہلیری کلنٹن کے بیانات پر ردعمل عرب ممالک میں ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔سعودی طالبات کے اس اقدام کے نتیجے میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب میں ایران مخالف شدید پروپیگنڈے کے باوجود نوجوان نسل میں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام اور غاصب صیہونی حکومت کے خطرناک ایٹمی پروگرام کے بارے میں اس قدر آگاہی اور ردعمل ہے تو ان ممالک میں جہاں حکومتیں کسی حد تک غیر جانبدار اور قلم و بیان کی قدرے آزادی ہے وہاں پر ایران کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کس سطح پر ہو گی۔
مشرق وسطی کے دو ملکوں میں ہونے والے ان دو مختلف واقعات نے عالمی رائے عامہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکی امپریالیسم کا رعب و دبدبہ اب زوال پذیر ہے اور رائے عامہ حقائق سے آگاہ ہو رہی ہے۔اگر عوامی شعور و آگاہی میں اضافہ ہوتا رہا تو امریکی مقبولیت کا گراف ہر آنے والے دن میں کم ہوتا رہے گا۔
عالمی سروے کے اکثر نتائج میں یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ دنیا میں امریکہ سے نفرت اس وقت عروج پر ہے۔بلاشبہ اگر امریکہ نے غاصب صیہونی حکومت کی حمایت اور مظلوموں کی مخالفت کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا اور اپنی دوغلی اور منافقانہ پالیسیوں کو آگے بڑھایا تو امریکہ عالم انسانیت کے لئے ایک نفرت کی علامت میں تبدیل ہوجائیگا۔
خبر کا کوڈ : 20618
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب