0
Thursday 25 Oct 2012 16:58

پاک ایران تعلقات میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے امریکہ اور سعودی عرب پیسہ انویسٹ کرتے ہیں، سید ابرار رضوی

پاک ایران تعلقات میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے امریکہ اور سعودی عرب پیسہ انویسٹ کرتے ہیں، سید ابرار رضوی
معروف سیاستدان اور رکن فیڈرل کونسل پاکستان پیپلز پارٹی سید ابرار علی رضوی کا تعلق لاہور سے ہے، آپ بانی پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے درینہ ساتھی ہیں۔ آپ ابتدائی دور میں ہی ان کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہوگئے اور پیپلز پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو تیار کرنے میں پیش پیش رہے۔ آپ نے ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کافی عرصہ کام کیا، اور ان کی رحلت کے بعد دور حاضر کی پی پی قیادت صدر آصف علی زرداری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ آپ ویسے تو بزرگ ہیں، لیکن پیپلز پارٹی آپ کو اپنا ورثہ سمجھتی ہے اور آپ سے مختلف امور پر مشاورت لی جاتی ہے۔ ابرار رضوی نے پاکستان کے مختلف اداروں میں خدمات سرانجام دیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے سید ابرار علی رضوی کے ساتھ سیاسی حوالے سے چند اہم نکات پر گفتگو کی۔ جو آپ قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: آپ کا سیاست میں کیسے آنا ہوا اور کتنے عرصہ سے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں، کیا خاص وجہ تھی کہ آپ نے اس جماعت کا انتخاب کیا۔؟

سید ابرار علی رضوی: سیاست میں لانے والے میرے والد صاحب تھے۔ چھوٹی عمر میں ہی میرے والد صاحب مجھے ہر پروگرام میں ساتھ لے جایا کرتے تھے، جہاں سے میں نے جلسے جلوسوں میں شرکت کی اور بہت کچھ وہاں سے سیکھا۔ میں نے ساری تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ پاکستان بننے کے بعد ایک تنظیم ڈیموکریٹک پارٹی معرض وجود میں آئی تھی، جس پر ایوب خان نے پابندی بھی لگائی تھی، اس تنظیم کا سرگرم کارکن رہا ہوں۔ ذہانت مجھے ورثہ میں ملی تھی، میں بچپن سے ہی علمائے کرام اور تمام سیاستدانوں کی تقاریر سنتا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں ساہیوال چلا گیا۔ میرے جارحانہ انداز نے مجھے پنجاب بار کونسل کا ممبر بنا دیا اور میری یہ بڑی خوش نصیبی تھی۔ میں شروع سے ہی جاگیردارانہ نظام کے خلاف تھا۔ میرے ذہن کے مطابق جاگیردار اور سرمایہ دار لوگ عوام کو کچھ نہیں دیتے، بلکہ عوام سے لیتے ہی ہیں۔ وہ انفرادی محنت کا صلہ تو ضرور دیتے ہیں لیکن اجتماعی فائدہ وڈیروں کو ہی ہوتا ہے۔ اس وقت کے حکمران جاگیردارانہ نظام چاہتے تھے، جو 1947ء سے پہلے تھا، تاکہ سرمایہ دار کی سلامی ہوتی رہے۔

اس وقت ایسے آدمی کی ضرورت تھی جو ببانگ دہل ظالموں، جاگیرداروں سے ٹکرا سکے اور مارشل لاء سے ٹکرا سکے، جو سینہ تان کر جاگیردار کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ اللہ تعالٰی نے ایک فرعون کے مقابلے میں ایک موسٰی کو پیدا کیا۔ اس زمانے کے موسٰی کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود تھا اور وہ چاہتا تھا کہ اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکے۔ اس موسٰی زمان کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ اس کی نظریں عقابی نظریں تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنے زمانے کو پہنچاتے تھے، انہیں پتہ تھا کہ جب میں آواز بلند کروں گا تو سندھ و دیگر علاقوں سے کون کون سے لوگ مجھے سپورٹ کریں گے۔ سندھ میں ایسے لوگ موجود تھے جو ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ زندگی بھر کیا نسل در نسل چل رہے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کو بہت پذیرائی ملی۔

آپ نے دیکھا بھی ہوگا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے حکمرانوں سے اعلان بغاوت کیا تو وہ خود بخود عوام کا محبوب بن گیا۔ وہ زمانہ ایسا تھا کہ عام لوگوں کو یہ حق نہیں تھا کہ سیاست پر کوئی بات چیت کر سکیں۔ جب ذوالفقار علی بھٹو میدان میں آئے تو انہوں نے خاموش طبقے کو بیدار کیا، مظلوموں کو ساتھ ملایا اور پرہجوم اجتماعات کیے۔ ابتدائی زمانے کے تین چار سال کبھی بھی نہیں بھلائے جا سکتے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے چار سال میں انقلاب برپا کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر 1967ء کو انقلاب کی بنیاد رکھی۔ میں بھی اسی سوچ کا حامل شخص تھا، میں ابتدائی دور سے ہی ان کے ساتھ شامل ہوگیا اور پھر ان کی شہادت کے بعد محترمہ کے ساتھ اور اب آصف علی زرداری کے ساتھ، میں نے پیپلز پارٹی کے تمام ادوار دیکھے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جو مزدور کے قوانین بنائے تھے، آج تک وہ ختم نہیں ہوسکے، البتہ روز بروز ان قوانین میں اضافہ ضرور ہو رہا ہے۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو صاحب پانچ سال اور زندہ رہتے تو آج پاکستان کی صورتحال کچھ اور ہی ہوتی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے فوجی آمریت کے خلاف جنگ لڑی اور عوام میں شعور بیدار کیا کہ فوجی ڈکٹیٹر شپ کو سر نہ اٹھانے دیا جائے۔ 

اسلام ٹائمز: روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دہشتگردی سمیت بہت سے مسائل نے عوام کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے، عوام پیپلز پارٹی کی چار سالہ کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتے، آنے والا الیکشن کیسے جیتیں گے۔؟
سید ابرار علی رضوی: میرے خیال میں ان چار سالوں میں جتنا پیپلزپارٹی نے کام کیا ہے، اتنا کسی اور جماعت نے نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی نے ضرورت کی بنیاد پر صوبوں میں ترقیاتی کام کروائے۔ جیسا کہ صوبہ بلوچستان کم آمدنی والا علاقہ ہے، لیکن اس کے باوجود اس علاقے میں بہت کام ہوا۔ صوبہ خیبرپختونخوا کا پہلا نام سرحد تھا جبکہ سرحد تو باؤنڈری کو کہتے ہیں، لہٰذا یہ کوئی نام نہیں ہے۔ پس پیپلزپارٹی نے صوبہ سرحد کو اپنے نام کی شناخت دی۔ اسی طرح آپ شمالی علاقہ جات کو دیکھ لیں، جن کو خود اپنے اوپر حکومت کرنے کا اختیار نہیں تھا، ان کو پیپلزپارٹی نے اختیار دیا اور اس علاقے کو گلگت بلتستان کا نام دیا۔ ہم نے 22 سرکاری اداروں میں تقریباً ساڑھے چھ لاکھ افراد کو ملازمت نہیں بلکہ اس کا شراکت دار بنایا۔ ہم نے حکومت میں ساڑھے چار سال اسی لیے گزار لیے ہیں کہ ہم نے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ اگر ہم پانچ سال پورے کر لیتے ہیں تو ہماری تاریخ کا سب سے پہلا واقعہ ہوگا کہ کسی جمہوری حکومت نے اپنی دانش اور اپنی عقل کے ذریعے اپنی حکومت کا پانچ سالہ دور خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا۔ 

حالانکہ اپنے ہی لوگوں نے زخم دیئے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق 50 لاکھ افراد کو تقریباً 1 ہزار سے زیادہ رقم ہر ماہ ملتی ہے اور جن افراد کو کاروبار کے لیے 1 لاکھ سے 3 لاکھ روپے دیئے گئے ہیں۔ کیا یہ لوگ پیپلزپارٹی کو بھول جائیں گے اور کیا 22 اداروں کے 6 لاکھ افراد پیپلزپارٹی کو بھول جائیں گے، جنہیں ان کے لیے کاروبار میں شریک بنایا۔ سابقہ دور حکومت میں بھی ہم نے بہت سی یونیورسٹیاں بنائیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں کیا کیا۔؟ جنرل پرویز مشرف نے کوئی یونیورسٹی نہیں بنائی، بلکہ موجودہ اداروں کو پرموٹ کرکے اور ان کی شناخت ختم کرکے یونیورسٹی بناد ی، جبکہ ہم نے پورے پاکستان میں یونیورسٹیز کی لائنیں لگا دیں۔ اگر میں اپنی کارکردگی رپورٹ سنانے لگ جاؤں تو بات بہت دور تک چلی جائے گی۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم انشاءاللہ اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر الیکشن جیتیں گے۔

اسلام ٹائمز: پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ تقریباً التواء کا شکار ہے، کیا امریکہ کی خوشنودی کے لئے اس کو التواء کا شکار کیا جا رہا ہے۔؟
سید ابرار علی رضوی: ہم ایران سے اچھے اور خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں، وہ ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ آپ نے دیکھا بھی ہوگا ہماری قیادت تعلقات کے فروغ میں پیش پیش نظر آتی ہے۔ جہاں تک تعلق پاک ایران گیس لائن کا ہے تو ہماری قیادت اس حوالے سے سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے چاہے امریکہ کا پریشر بھی ہے، میں اس سے انکاری نہیں ہوں۔ لیکن پریشر کو فیس کیا جاتا ہے نہ کہ اس سے منصوبوں کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کو امریکہ کی مرضی کے مطابق چلاتے تو ہمارا وجود ختم ہو چکا ہوتا۔ ہم اپنی پالیسز کو خود بہتر سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کے ذمہ داران کی میٹگز بھی ہوچکی ہیں۔ اور ایران نے اس منصوبے کے لئے انویسمینٹ کی بھی آفر کی ہے۔ ہم اس پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ہم ایران کے اس رویہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انشاءاللہ بہت جلد اس حوالے سے آپ کو پیش رفت نظر آئے گی، کیونکہ روز بروز توانائی کے بحران نے ملک کے اندر بہت سے مسائل پیدا کر دئیے ہیں، ان کو حل کرنے کے لئے حکومت سنجیدہ ہے۔

اسلام ٹائمز: صوبہ بلوچستان ہو، گلگت بلتستان، کراچی ہو یا ملک کے دیگر علاقے ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں صرف ایک ہی مکتب کے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس قتل و غارت گری میں کون لوگ ملوث ہیں، حکومت بے بس کیوں ہے۔؟
سید ابرار علی رضوی: میں گلگت بلتستان کا دورہ بھی کرچکا ہوں۔ ضیاء دور میں گلگت کے ایک گاؤں جلالہ آباد پر حملہ کیا گیا۔ جس سے پورے کے پورے علاقے کو ختم کر دیا گیا۔ علاقہ خون سے نہا گیا، لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وہ والے حالات نہیں ہیں اور یہ بات بھی درست ہے کہ اہل تشیع کو بھی ایک مقصدیت کے تحت ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن ایک چیز دیکھنے کی ہے کہ اگر آپ کا دشمن سامنے ہو تو آپ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی طاقت کے مطابق تیاری کرتے ہیں، لیکن ایک دشمن جو گھات لگائے بیٹھا ہو اور چُھپ کر وار کرے تو اس کا کیا کیا جا سکتا ہے۔ 

آپ کے سامنے ملالہ کا کیس ہے۔ جس طرح ملالہ سکول سے واپس گھر آرہی تھی تو راستے میں دہشت گردوں نے گاڑی روک کر پوچھا ملالہ کون ہے تو ملالہ کی شناخت ہونے کے بعد اس کو ٹارگٹ کیا گیا، ایسی حالت میں آپ کیا کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ایک ایک گاڑی کے ساتھ فوج کی گاڑی ہو، یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہم دہشت گردوں کے ساتھ کبھی بھی مصالحت نہیں کریں گے۔ ہم عوام کی مدد سے ہر اس جگہ پر آپریشن بھی کریں گے، جہاں بھی دہشت گرد موجود ہوئے اور پاکستان کو اس دہشتگردی کی لعنت سے پاک کریں گے۔

اسلام ٹائمز: شام کے معاملے سے واضح ہوگیا ہے کہ دنیا میں دو بلاک بنتے دکھائی دے رہے ہیں، کیا پاکستان کا روس کے ساتھ تعلقات کا فروغ امریکہ سے جان چھڑوانے کے لئے ہے۔؟
سید ابرار علی رضوی: زیادہ تر قوتیں یہ نہیں چاہتیں کہ پاکستان مضبوط ہو۔ جیسا کہ بھارت اور کچھ ہمارے ہمسایہ ممالک نہیں چاہتے، اسی طرح کچھ ممالک یہ نہیں چاہتے کہ گوادر پورٹ بنے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ چائنہ نے تو ہمیں سٹیل مل دی، لیکن آپ بتائیں کہ امریکہ نے ہمیں کیا دیا ہے۔؟ میں کوئی جذباتی سیاستدان نہیں ہوں، میری زندگی گزر گئی لیکن اب زندگی کچھ اور سوچتی ہے، کچھ تبدیلی دیکھنا چاہتی ہے۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد حکمرانوں نے ہمیں امریکہ کی گود میں ڈال دیا۔ پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے مقام پر واقع ہے جو گیٹ وے ہے۔ پاکستان سنٹرل ایشیاء اور مڈل ایسٹ کے لیے گیٹ وے ہے۔ امریکہ کی مجبوری یہ ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کبھی ٹوٹے۔ صدر آصف علی زرداری نے رشیاء کا دورہ کیا اور طلبہ کے فورم میں انہوں نے اظہار خیال کیا اور کوشش کی کہ روس کی عوام اور حکومت کے ساتھ اعتماد کی فضاء پیدا ہو۔
 
پاک روس دوستی سے ہمارے بہت سارے مسائل حل ہوں گے، جیسا کہ ہمارے زرعی مسائل اور اسی طرح کے دیگر مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ میں نے جیسے پہلے عرض کیا کہ ہمیں شروع سے ہی امریکہ کی جھولی میں ڈالا دیا گیا اور اب ہم چاہنے کے باوجود بھی اس سے نکل نہیں پا رہے۔ اس کے لئے ہمیں ایک ایسے ملک کی ضرورت ہے جو کہ امریکہ سے ہماری جان چھڑوانے میں مدد کرسکے۔ حقیت تو یہ ہے کہ چین کے علاوہ ہمیں کسی ملک نے کیا دیا۔؟ ہم نے امریکہ کی خوشنودی کے لئے کیا کچھ نہیں کیا، لیکن وہ ڈومور ڈومور کی رٹ چھوڑ ہی نہیں رہا۔
 
دہشت گردی میں ہم نے کتنی قیمتی جانیں دیں، ہم نے اپنی قیادت تک قربان کر دی، لیکن ہمیں اس حد تک فائدہ نہیں ہوا، جس حد تک ہمارا حق بنتا تھا۔ بلکہ یوں کہوں کہ ہمارا ملک غیر مستحکم ہوا ہے۔ رشیاء کے ساتھ تعلقات میں ہمیں فائدہ ہے، اور وہ بھی تعلقات کے فروغ میں دلچسپی لے رہا ہے، بس اعتماد کی فضاء کو بحال ہونے کی ضرورت ہے۔ رشیاء کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرنا کافی حساس ہے۔ انڈیا کو ہمارے تعلقات پر شدید تحفظات ہیں، لیکن وہ وقت دور نہیں کہ ہم امریکہ کی غلامی سے نکل جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: ویسے تو پیپلز پارٹی کی خارجہ پالیسی دیگر حکومتوں سے بہتر دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن ایران کے ساتھ تعلقات اس حد تک خوشگوار اور وسیع نہیں جس حد تک پاکستان کے ہونے چاہیں، اس کی وجہ بتائیں گے۔؟

سید ابرار علی رضوی: دیکھیں پھر وہی بات آجاتی ہے امریکہ اور پاکستان میں امریکہ نواز افراد چاہے وہ امریکہ سے ڈریکٹ یا انڈاریکٹ مثلاً سعودی عرب کے ذریعے ہدایات لیتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ہم ایران کے ساتھ تعلقات کو بڑھائیں۔ اس کے لئے امریکہ اور سعودی عرب پیسہ بھی انوسٹ کرتے ہیں، افراد اور حکومتوں کو بھی خریدتے ہیں۔ تو آپ بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں کہ تعلقات سست روی کا شکار تو ہوں گے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا جائے، اور پاک ایران گیس منصوبہ سمیت مختلف منصوبوں پر کام کرنا تعلقات کے فروغ کا باعث بھی بنیں گے اور یہ واضع ثبوت بھی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 206109
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب