0
Friday 31 May 2013 20:09

امام خمینی کی قیادت میں آنے والا انقلاب شیعہ نہیں بلکہ اسلامی انقلاب تھا، مولانا فیصل عزیزی

امام خمینی کی قیادت میں آنے والا انقلاب شیعہ نہیں بلکہ اسلامی انقلاب تھا، مولانا فیصل عزیزی
مولانا فیصل عزیزی بندگی کا تعلق کراچی سے ہے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی آپ دینی تعلیم کے حوالے سے رجحان رکھتے تھے جس کا سبب آپ کے نانا کا سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ جمالیہ سے وابستہ ہونا اور آپ کے والد کا شروع سے مذہبی رجحان ہونا تھا۔ 1985ء میں زمانہ طالب علمی میں ہی آپ نے ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک منہاج القرآن سے وابستہ ہو کر مذہبی سرگرمیوں اور دینی تعلیم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ 1991ء سے آپ نماز جمعہ کی امامت کر رہے ہیں۔ تین سال قبل آپ نے تحریک منہاج القران سے علیحدگی کے بعد سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔ آجکل آپ سنی اتحاد کونسل میں مرکزی جماعت کی حیثیت رکنے والی مرکزی جمعیت علمائے پاکستان کراچی کے صدر بھی ہیں اور سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم پر فعال ہیں۔ اسلام ٹائمز نے مولانا فیصل عزیزی بندگی کے ساتھ مختلف مختلف موضوعات کے حوالے سے ایک نشست کی جس میں الیکشن کے بعد ملکی صورتحال، نئی آنے والی مسلم لیگ نواز کی حکومت، طالبان سے مزاکرات، پاک ایران گیس پائپ لائن، شام کی صورتحال اور امام خمینی (رہ) کی شخصیت وغیرہ شامل ہیں۔ اس موقع پر آپ سے کیا گیا خصوصی انٹرویو اسلام ٹائمز کے قارئین کیلئے پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: عام انتخابات کے بعد ملکی حالات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، انتخابات کے بعد قوم کی جو اجتماعی سوچ اور صورتحال سامنے آئی ہے وہ بہت زیادہ افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ اس وقت کوئی ایک بھی سیاسی جماعت وفاق کی علامت کے طور پر سامنے نہیں آئی آ سکی ہے۔ اس وقت مختلف سیاسی جماعتیں قومیت، لسانیت اور صوبائیت کی عکاسی کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں قوم پرستی کا رجحان عام ہوتا نظر آ رہا ہے اس کی واضح مثال حالیہ ہونے والے عام انتخابات ہیں۔ قوم پرستی کی بنیاد پر بننے والی حکومتیں غیر فطری ہوا کرتی ہیں۔ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر انتہائی ضروری تھا کہ کوئی جماعت وفاق کی علامت بن کر پورے ملک سے نمائندگی حاصل کرتی۔ لیکن جو جماعت جہاں سے نمائندگی حاصل کر پائی ہے اب دعا یہ کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ ان سے وہ کام لے لیں کہ جو پاکستان اور عوام کے مفاد میں بہترین ہو۔

اسلام ٹائمز: مسلم لیگ (ن) پر مختلف سیاسی و مذہبی حلقوں کی جانب سے طالبان اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے روابط کے الزامات ہیں۔ آپ کیا کہیں گے اس حوالے سے؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: دیکھیں مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف کا تعلق عقائد کے حوالے سے پہلے اہلسنت بریلوی مکتب فکر سے تھا، یہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے عقیدتمند تھے، اتفاق مسجد کے اندر وہ جمعہ بھی پڑaھاتے تھے۔ لیکن جب یہ سعودی عرب گئے، وہاں ملک بدر بھی ہوئے، اسکے بعد سعودی حکومت اور وہاں کے اثرات کو انہوں نے قبول کیا یہاں تک کہ ان کے عقائد میں تبدیلی آئی۔ سعودی عرب سے آنے کے بعد ان کے اندر طالبانی رجحانات نواز شریف کے اندر واضح ہونا شروع ہوئے۔ اس طرح خود طالبان بھی نواز شریف کے لئے نرم گوشہ رکھے ہیں جیسا کہ وہ طالبان کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ مزاکرات کرینگے گے تو ثالث نواز شریف ہونگے۔ اب دوبارہ طالبان سے مزاکرات کی باتیں چل رہی ہیں۔ ملک دشمن طالبان ہتھیار پھینکنے پر راضی نہیں ہیں، طالبان جو تعلیمی اداروں، اسکولوں میں بچوں کو بموں سے اڑا رہے ہوں، مساجد و امام بارگاہوں پر حملے کر رہے ہیں، محفل میلاد اور عزاداری پر حملے کر رہی ہیں، سید الشہداء حضرت امام حسین (ع) کے عاشورا اور چہلم کے جلوسوں پر حملے کر رہے ہیں، سرکاری و نجی اداروں پر حملے کر رہے ہوں، فورسز پر حملے کر رہے ہوں، اہلکاروں کو قتل کر رہے ہوں۔ ایسے ملک دشمن عناصر ہتھیار پھینکے بغیر مزاکرات کرنا چاہتے ہوں اور نواز شریف کو ثالث بنانا چاہتے ہوں۔ تو ایسے میں تو نواز شریف کو تو فوری طور پر اس بات کی تردید کرتے ہوئے یہ کہنا چاہئیے تھا کہ ہمارا ملک دشمن طالبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر ریکارڈ پر ہے کہ ان کے اپنے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ طالبان سے کہتے رہے کہ آپ پنجاب کے اندر ایسا نہ کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اب بھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب کی سوا تمام صوبے متاثر ہوتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور انکے سربراہ نواز شریف کے پاس صرف ایک چوائس ہے، وہ یا تو پاکستان اور اسلام کی حمایت کریں یا پھر ملک دشمن طالبان کی۔ دونوں کو ایک ساتھ لے کر نہیں چلا جا سکتا۔

اسلام ٹائمز: آج کل پھر سے طالبان سے مزاکرات کی باتیں چل رہی ہیں، آپ نے بھی اس کا ذکر کیا۔ کیا طالبان سے مزاکرات ہونے چاہئیں؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: طالبان پاکستانی آئین کو نہیں مانتے، پاکستانی کسی قانون تسلیم نہیں کرتے، وہ جمہوریت کو نہیں مانتے، وہ ملک بھر میں بم دھماکے اور حملے کر رہے ہیں، ہتھیار پھینکنے پر راضی نہیں ہیں۔ اس صورتحال میں بھی اگر ان سے کوئی مزاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ بھی پاکستان اور عوام کے مفاد میں کچھ اصول و قواعد بناکر ہونے چاہئیے۔ مثلاَ طالبان سب سے پہلے اپنی ملک بھر میں جاری دہشت گردانہ کارروائیوں کو ختم کرکے ہتھیار پھینکیں، وہ پاکستانی آئین کو تسلیم کریں، پاکستان کے قانون کو تسلیم کریں۔ اگر طالبان یہ سب اصول و قواعد تسلیم نہیں کرتے یعنی پاکستانی آئین و قانون کو تسلیم نہیں کرتے، دہشت گردی بند نہیں کرتے، تو آپ کس قانون و اصول کے تحت ان سے مزاکرات کرینگے۔ اگر طالبان یہ سب تسلیم کرکے ہتھیار پھینک دیتے ہیں تو پھر ان سے ایسے مزاکرات کئے جائیں کہ جس میں پاکستان، عوام، اسلام کی فلاح و بہبود ہو، نہ کہ صرف دہشت گردی سے بچنے کیلئے مزاکرات کے ذریعے وقتی سہارا لے لیں۔

اسلام ٹائمز: عوام اور میڈیا میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکہ ایماء پر سعودی عرب کی مداخلت کے چرچے عام ہیں۔ آپ کی نظر میں یہ بات کہاں تک درست ہے؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: یہ حقیقت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا پر روشن ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ سے نام نہاد جہادی تنظیموں و گروہوں کو ہر حوالے سے سپورٹ کرتی چلی آ رہی ہے۔ سعودیوں نے اسلام دشمن عناصر جو توحید کے نام پر رسالت (ص) کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ان کو فروغ دیا۔ طالبان، القاعدہ اور دیگر نام نہاد جہادیوں کی پشت پناہی سعودی عرب کرتی رہی ہے۔ آج بھی پاکستان میں جتنے بھی مدارس اور نام نہاد دینی ادارے طالبان، القاعدہ ذہنیت کے ہیں، جہاد کے نام پر دہشت گردی کرنے والے عناصر پیدا کرنے والے جتنے بھی مدارس ہیں انہیں فنڈنگ سعودی عرب کرتا ہے۔ سعودی عرب کا یہ کردار پاکستان میں وہابیت، نجدیت کو پھیلانے اور اس کا پرچار کرنے کیلئے ہے، پاکستان میں عبدلوہاب نجدی کے نظریات کو زبردستی دہشت گردی کے ذریعے مسلط کرنے کیلئے ہے۔ پاکستان کے اندر دہشت گردی اور فرقہ واریت پھیلانے کی سازشیں سب اس کا تسلسل ہے۔ پاکستان میں اس زیادہ بڑی اور بھیانک مداخلت کیا ہو گی۔ لہٰذا سعودی عرب کو چاہئیے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے پرہیز کرے، ملک کے اندر دہشت گردی اور فرقہ واریت کو ہوا نہ دے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ پاکستانی عوام کے دلوں میں مکہ معظمہ و مدینہ منورہ و دیگر مقدس مقامات ہونے کی وجہ سے جو رہی سہی عقیدت رکھتا ہے وہ بھی کھو بیٹھے۔

اسلام ٹائمز: سابقہ حکومت نے آخری ایام میں پاک ایران گیس پائپ لائن اور پاک چین گوادر پورٹ معاہدے کئے۔ کیا ان معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے نئی حکومت کو انہیں بروقت مکمل کرنا چاہئیے؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: دونوں معاہدے پاکستان کے مفاد میں ہیں، انہیں نہ صرف جاری رکھنا چاہئیے بلکہ بر وقت پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہئیے۔ گوادر پورٹ کے فنکشنل ہونا اور ایران سے گیس اور بجلی جیسی سہولیات لینا پاکستان اور عوام کے بہترین مفاد میں ہے۔ اللہ کرے کہ ایسا نہ ہو مگر مسلم لیگ (ن) کی نئی بننے والی حکومت سے ان معاہدوں کی پاسداری خصوصاَ پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے کی تکمیل کی امید کم ہے۔ ایران سے گیس لینے کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اور امریکا کی ناراضگی مول لینا۔ کیونکہ یہ دونوں ممالک پاک ایران تعلقات نہیں چاہتے ہیں۔ اب ایک جانب سعودی عرب اور امریکا کو بھی راضی رکھنا ہے دوسری جانب ایران سے سے گیس لینے میں پاکستان اور عوام کا مفاد ہے۔ اگر نہیں لیتے تو اسے سعودی اور امریکی رضامندی مل جائے گی۔ اب یہ نئی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان اور عوام کے مفاد میں معاہدوں کی پاسداری کرے یا سعودی اور امریکی رضا مندی کو ترجیح دے۔

اسلام ٹائمز: خطے میں اسرائیل مخالف واحد ملک شام کی موجودہ صورتحال پر آپ کیا کہیں گے کہ جہاں اسرائیل بھی حملے کر رہا ہے اور امریکی سرپرستی میں یورپی اور عرب ممالک بھی انتہاء پسند باغیوں کو اسلحہ اور مالی معاونت کرکے وہاں جہاد کے نام پر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: شام میں امریکی اور یورپی مداخلت کی وجہ اسرائیل کا تحفظ ہے اور انتہاء پسند باغیوں کو عرب ممالک کی جانب سے حمایت کی وجہ امریکی رضامندی کا حصول ہے جس کیلئے وہ شام میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں۔ جلیل القدر اصحاب رسول (ص) کے مزارات کو مسمار کر رے ہیں، بے حرمتی کر رہے ہیں۔ جو کچھ شام جہاد کے نام پر ہو رہا ہے اسے کسی بھی طرح جہاد نہیں کہہ سکتے ہیں۔ شام میں صحابہ کرام (رض) مزارات کو شہید کرنے والے باغی عناصر دراصل خوارج ہیں۔ جو بھی ان باغیوں، ان خوارج سے نبرد آزما ہوگا وہ اسلام کی قوت ہوگی، وہ اسلام کا حقیقی نمائندہ ہوگا۔

اسلام ٹائمز: شام میں صحابی رسول (ص) حضرت حجر بن عدی (رض) کے مزار کو شہید کرنا، انکے جسد اطہر کو قبر سے نکال کر بے حرمتی کرنا اور اردن میں حضرت جعفر طیار (رض) کے مزار کو نذر آتش کیا گیا، آپ کی نظر میں ان سب کے پیچھے کونسی فکر ہے؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: سب سے پہلے تو میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ حال ہی میں انتہاء پسند باغیوں کے ہاتھوں دہشت گردانہ کارروائی میں صحابی رسول (ص)، صحابی علی (ع) حضرت حجر بن عدی (رض) کے مزار کو مسمار کیا گیا، ان کی جسد مبارک کو قبر سے نکال کر بے حرمتی کی، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اگر مسلمان ممالک، مسلمانان عالم نے ان مسائل کو کنٹرول نہیں کیا، امریکا کے کہنے پر چلتے رہے تو آج اصحاب رسول (ص)کے مزارات کو شہید کیا جا رہا ہے تو خاک بدہن من آنے والے وقت میں باغیوں اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم گنبد خضراء کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ دیکھیں ان سب واقعات کے پیچھے وہی نجدی وہابی سوچ ہے جس نے ماضی میں جنت البقیع کو شہید کیا، سیدہ کائنات جناب فاطمہ زہراء (ص) کے روضہ مبارک کو شہید کیا، امام حسن مجتبیٰ (ع) کے روضہ کو شہید کیا، اذواج مطہرات (رض) کی قبور کو شہید کیا، حضرت عثمان غنی کی قبر کو بھی اسی ناپاک فکر کے حامل وہابیوں نجدیوں نے تاراج کیا۔ ان تمام ناپاک کوششوں کے پیچھے شیطانی فکر یہ تھی کہ کسی طرح گنبد خضراء تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ تو جہاں ان کا بس چلتا ہے یہ دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ پاکستان میں بزرگان دین، اولیاء اللہ کے مزارات پر ہونے والے حملے بھی اسی سلسلے کا تسلسل ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان تمام افکار کے پیچھے اسلام دشمن امریکا کا ہاتھ ہے؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ ان تمام سازشوں کے پیچھے امریکی فکر ہے۔ دلوں سے احترام رسول (ص) نکالنے کا کام اب سے نہیں بلکہ شروع سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ آج اس کی سرپرستی امریکا کر رہا ہے۔ آج بھی آپ ہیلری کلنٹن کی تقریر انٹرنیٹ پر بے شمار ویب سائٹس ہر دیکھ سکتے ہیں، سن سکتے ہیں کہ جس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ ہم نے دنیا بھر میں وہابیت کو سپورٹ کیا، انہیں فنڈنگ کی، ہم نے وہابیت کی ترجمان طالبان بنائی تھی۔ اس کے بعد تو کسی کیلئے بھی شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے۔ یہ امریکا یہ تھا کہ جس نے روس کے خلاف افغانستان میں طالبان بنائی، انہیں سپورٹ کیا، ڈالر دئیے، تربیت دی، اسلحہ دیا، ان کے دفاتر امریکا سمیت یورپی و عرب ممالک میں کھولے، سفارتی تعلقات قائم کئے۔ طالبان سے کام لینے کے بعد خود افغانستان سمیت خطے میں آ کر بیٹھ گیا۔ آج ظلم کوئی بھی کہیں بھی کرے، آپ اس کے پیچھے جائیں گے تو امریکا کا ہاتھ ملے گا۔

اسلام ٹائمز: 4 جون کو انقلاب اسلامی ایران کے رہبر امام خمینی (رح) کی برسی نزدیک ہے۔ امام خمینی (رح) کی اسلامی انقلاب کی تحریک کے حوالے سے کیا کہنا چاہئیں گے؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: یہ جو تحریک تھی، یہ جو موقع تھا کہ ایک بوریہ نشین درویش وقت کے طاقتور ظالم و جابر بادشاہ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اس درویش کے پاس کوئی ساز و سامان نہیں تھا، کوئی لشکر و سپاہ نہیں ہے۔ لیکن جب وہ تن تنہا استعمار کے غلام بادشاہ کے خلاف خلوص سے جہاد کرتا ہے تو ساری قوم اس کے پیچھے لبیک کہتی ہوئی جمع ہو جاتی ہے۔ ایران میں خمینی صاحب کی تحریک دراصل عالمی استعمار و سامراج اور شراب کے نشے میں مست رہنے والے بادشاہوں کے خلاف ایک بوریہ نشین درویش کا اعلان جہاد تھا۔ ایران میں آنے والا اسلامی انقلاب فقط اہل تشیع مکتب فکر کا انقلاب نہیں تھا بلکہ تمام عالم اسلام کا انقلاب ہے، اس کی اثر پزیری تمام مسالک و مکاتب کیلئے ہے۔ خمینی صاحب کا ایک جملہ یاک فرمان جومیں بارہا مساجد میں خطبوں اور تقاریر میں بیان کر چکا ہوں کہ اتحاد امت کی ایک عظیم مثال انہوں نے پیش کی کہ اہلسنت اپنی مستند روایات کے مطابق جشن عید میلاد النبی (ص) بارہ ربیع الاول کو مناتے ہیں، اہل تشیع سترہ ربیع الاول کو مناتے ہیں تو خمینی صاحب نے اتحاد امت اور وحدت اسلامی کیلئے بارہ تا سترہ ربیع الاول ہفتہ وحدت مسلمین بمناسبت ولادت باسعادت حضور اکرم (ص) منانے کا اعلان کیا۔ لہٰذا ایران میں آنے والے انقلاب کو میں شیعہ انقلاب نہیں سمجھتا بلکہ وہاں آنے والا اسلامی انقلاب اتحاد امت کا انقلاب ہے۔

اسلام ٹائمز: امام خمینی (رح) کی شخصیت کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: خمینی صاحب کی شخصیت کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے تدریس کو بھی جاری رکھا، اجتہاد کو بھی جاری رکھا، انہوں نے منبر و مکتب کو سنبھالا، انہوں نے اسلامی انقلاب کی سربراہی کی، دن رات ایک کردیا۔ انہوں نے صرف افکار کا سہارا نہیں لیا بلکہ اپنے کردار کو پیش کیا، خود ہر معاملے میں آگے آگے رہے۔ بذات خود میں خمینی صاحب کی انتہائی سادہ زندگی سے بے حد متاثر ہوں۔ میں نے انہیں ویڈیوز میں ایک سادہ اور معمولی سے چٹائی پر زمین پر بیٹھے دیکھا ہے، انہیں ایک سادہ اور چھوٹے سے کمرے میں امور مملکت چلاتے دیکھا ہے۔ آج بھی ویڈیوز موجود ہیں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح وہ معمولی سے کمرے میں بیٹھ کر عالمی شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ یعنی آپ کے تصور میں نہیں آ سکتا کہ ایک عظیم انقلاب کا بانی، ایک عظیم قوم کا رہبر ہے جو اس سادہ لباس میں ایک چٹائی پر معمولی سے کمرے میں قیام پزیر ہے۔

اسلام ٹائمز: جمہوری اسلامی ایران کی اتحاد امت اور وحدت مسلمین کے حوالے سے کوششوں کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
مولانا فیصل عزیزی بندگی: میں کیا تمام عالم اسلام ایران کی اتحاد و وحدت مسلمین کیلئے کی جانے والی مسلسل اور انتھک کوششوں کا معترف ہے۔ ایران اس وقت وہ واحد اسلامی ملک ہے جو سرکاری سطح پر عالم اسلام میں اتحاد و وحدت کیلئے عملی کوششیں کر رہا ہے۔ جب بھی اسلام پر مشکل وقت آیا ایران نے سب سے پہلے آواز بلند کی، مسئلہ فلسطین پر ایران کی کوششیں کسی تعریف کی محتاج نہیں ہیں۔ ماضی میں جب گستاخ رسول سلمان رشدی توہین رسالت (ص) کی تو اس کے خلاف تمام اسلامی ممالک میں صرف ایک ایران تھا کہ جہاں خمینی صاحب نے سلمان رشدی ملعون کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا اور امریکا سمیت تمام دنیا کی مخالفت مول لی مگر اپنے اصولی موقف سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے اور وہ فتویٰ آج تک قائم ہے۔ اتحاد و وحدت مسلمین کے سب سے بڑے دشمن امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارنے والا ایران ہی عالم اسلام میں ایک ایسا ملک ہے جو اس کے سامنے آج بھی ڈٹ کر کھڑا ہے۔ اس موقع پر میں پاکستان میں خمینی صاحب کے چاہنے والوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جو پاکستان میں بھی اتحاد و وحدت مسلمین کیلئے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں، یہ ملک بھر میں ہفتہ وحدت بھی بھرپور انداز میں مناتے ہیں، وحدت کانفرنس بھی کرتے ہیں۔ خمینی صاحب کی برسی کا اجتماع ہو، یا تعلیمی اداروں میں یوم حسین (ع)، یوم مصطفیٰ (ص) کی تقاریب ہوں، یوم القدس کی ریلیاں ہوں یا دیگر بہت سے مواقع ہوں، ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ ان تمام موقعوں پرپاکستان میں ہر جگہ تمام مکاتب فکر کے علماء، فضلاء، شخصیات کو جمع کیا جائے۔

جیسا کہ میری اطلاع میں آیا ہے کہ کراچی میں شیعہ تنظیموں کی جانب سے خمینی صاحب کی برسی کے موقع پر اہلسنت عالم دین مفتی اسلم نعیمی صاحب کو بھی دعوت خطاب دی گئی ہے اور وہ خطاب بھی کرینگے، یقینا یہ طرز فکر و عمل خمینی صاحب کے پیغام اتحاد و وحدت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اہل تشیع اپنے گھر سے کوششیں شروع کرتے ہیں، اپنی محافل میں تمام مکاتب فکر کی شخصیات کو مدعو کرتے ہیں۔ میں بذات خود اس بات کا گواہ ہوں کے انقلاب اسلامی کے چاہنے والوں نے پاکستان میں اہلسنت بریلوی مکتب فکر، دیومندی مکتب فکر، اہلحدیث غرض ہر مکتب کی شخصیات کو پروگرامات میں دعوت دی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ ہے اصل روشن خیالی۔ یہ تمام مسالک و مکاتب کیلئے ایک عملی دعوت فکر ہے کہ اگر اہل تشیع اپنی محافل میں تمام مکاتب فکر کی شخصیات کو دعوت دیتے ہیں تو اسی طرح دیگر مکاتب و مسالک کو بھی تمام مکاتب فکر کیلئے دلوں کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں۔ یقینا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انقلاب اسلامی ایران کے اثرات صرف ایران تک ہی نہیں بلکہ اس کے اثرات سے سارا عالم اسلام بہرہ مند ہو رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 269387
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب