1
0
Sunday 28 Jun 2015 19:18

اسلامی تحریک پاکستان اور ایم ڈبلیو ایم اپنے اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں، سید ناصر عباس شیرازی

اسلامی تحریک پاکستان اور ایم ڈبلیو ایم اپنے اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں، سید ناصر عباس شیرازی
سید ناصر عباس شیرازی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات ہیں، سرگودھا سے تعلق ہے، دو بار امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر رہ چکے ہیں۔ سیاسی موضوعات اور مشرق وسطٰی کے حالات پر خاص نگاہ رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے حالیہ الیکشن میں ایم ڈبلیو ایم کو خاطر خواہ نشستیں نہ ملنے، آغا سید راحت الحسینی کے الیکشن فارمولے کی ناکامی، مسلکی سیاست اور ملی حقوق کی بازیابی سے متعلق اہم اور تلخ سوالات پر مشتمل ایک تفصیلی انٹرویو کیا گیا ہے، اسلام ٹائمز کی جانب سے کوشش کی گئی ہے کہ عام افراد کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالوں کو انٹرویو کا حصہ بنایا جائے، اس حوالے سے مخصوص فورم پر اٹھائے گئے سوالات کو بھی انٹرویو میں شامل کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ انٹرویو کا دوسرا حصہ ہے جسے آج پبلش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: کراچی کے ضمنی الیکشن میں آپکی جماعت نے تحریک انصاف کو سپورٹ کیا، بدلے میں آپکو گلگت بلتستان میں بھی کوئی حمایت ملی۔؟
ناصر عباس شیرازی:
کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ وہاں کے رہنماوں نے کیا تھا، یہ فیصلہ کراچی کے پانچوں اضلاع کا متفقہ فیصلہ تھا، اب تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں، اس میں سیاسی شعبے نے اضلاع اور صوبوں کو اختیار دیا ہوا ہے کہ وہ اپنے علاقے کی صورتحال دیکھ کر فیصلہ کریں، اگر کہیں کوئی مشکل ہو تو اضلاع یا صوبے کو اس فیصلے سے متعلق تحفظات سے آگاہ کر دیا جاتا ہے۔ کراچی کے لوکل فیصلے کی ہم نے توثیق کی تھی، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک درست فیصلہ تھا۔ یہ فیصلہ اس سیاسی جماعت کیخلاف تھا، جس کے ہاتھ مکتب اہل بیت کے بیٹوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ فیصلہ دراصل ان کیخلاف اظہار برات تھا۔ کراچی کے فیصلے کا گلگت بلتستان کے الیکشن سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تحریک انصاف کیساتھ ہماری کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں تھی، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے دو سے تین امیدوار ہمارے حق میں دستبردار ہوئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایم ڈبلیو ایم نے جی بی الیکشن کیلئے اپنے کام کا آغاز کب کیا، دوسرا وہ کیا فلاحی و سیاسی اقدامات تھے جنکی بنیاد پر اس الیکشن میں آپ کامیابی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔؟
ناصر عباس شیرازی:
دیکھیں، اس موضوع پر کلیئر ہیں کہ مجلس وحدت مسلمین کبھی خطے میں حاکم جماعت نہیں رہی اور یہ بھی کلیئر ہے کہ پورے پاکستان کے کسی علاقے میں حکومت ہمارے پاس نہیں رہی۔ لٰہذا مجلس وحدت مسلمین کے پاس وہ وسائل اور ساری چیزیں اس خطے کے اندر موجود نہیں تھیں، جس کی بنیاد پر کوئی سیاسی جماعت اپنی انٹری ڈالتی ہے، لیکن ہماری جماعت کے پاس اپنی خدمات کی ایک لسٹ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے سیاسی سفر کو مکمل طور پر دو سال اور کچھ ماہ ہوئے ہیں، جبکہ عملی طور پر الیکشن 2013ء کے الیکشن میں ہم پہلی بار آئے تھے۔ گذشتہ پانچ برسوں میں گلگت بلتستان کے ہر اہم مسئلہ پر ہم وہاں کے عوام کی آواز بنے ہیں، لالوسر کا مسئلہ ہو یا چلاس کا سانحہ، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوں یا گندم سبسڈی کا مسئلہ، آپ کو ایم ڈبلیو ایم کی موجودگی نظر آئیگی، ہم نے عوامی مسائل پر اسٹینڈ لیا اور مظلوموں کی آواز کو میڈیا کے ذریعے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ حتٰی پورے ملک سمیت پارلیمنٹ کے سامنے ایک ہفتہ تک دھرنے دیئے بیٹھے رہے اور احتجاجی کیمپ لگائے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو پیغام دیا کہ آپ کی آواز کو دبنے نہیں دیں گے، اس آواز کو ہم نے دنیا بھر تک پہنچایا۔ انہیں ہم نے احساس تنہائی سے نکالا، ہمارے یہ وہ کام تھے جس کی بنیاد پر ہم گلگت بلتستان میں وارد ہوئے اور وہاں کے عوام نے ہم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، جیسا کہ پہلے کہہ چکا ہوں کہ ووٹوں کے لحاظ سے ہم دوسری بڑی جماعت ہیں۔ یہ ہماری ہی جماعت ہے جس نے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کیلئے آواز اٹھائی، جس کے بعد باقی جماعتیں بھی اس ایشو پر بولی ہیں۔ ہم نے گلگت بلتستان کی آئینی شناخت کیلئے مشترکہ منشور پر دستخط کرائے ہیں، جس میں پاکستان مسلم لیگ قاف، پاکستان عوامی تحریک، سنی اتحاد کونسل، سنی تحریک اور بعض دیگر جماعتیں شامل ہیں۔

جمیعت علماء پاکستان کیساتھ اتحاد ہو یا ڈاکٹر طاہرالقادری کے لانگ مارچ میں شرکت یا عمران خان کیساتھ بیٹھے ہیں، ہر جگہ گلگت بلتستان کے عوام کو یاد کیا ہے اور ان جماعتوں سے ان کے لئے آواز بلند کرائی ہے۔ ہم ان کیلئے پارلیمنٹ میں نمائندگی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، آپ ہمارے ماضی کے مشترکہ جلسوں کی تقاریر اٹھا کر دیکھیں کہ ہم نے کہاں کہاں اور کیسے آواز بلند کی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ طالبانائزیشن اور طالبان سے مذاکرات کے خلاف گلگت میں سب سے پہلا جو بڑا عوامی پروگرام کرایا، جس کے مقابلے میں آج تک کوئی مذہبی و سیاسی جماعت نہیں کرسکی، عوام میں شعور بیدار کیا، اسی طرح بلتستان میں تاریخی پروگرام کرایا، ہم سمجھتے ہیں گلگت بلتستان کے عوام کی صحیح خدمت ہماری جماعت کرسکتی ہے، ہم ان کے مسائل سے خوب آشناء ہیں، ہماری جماعت کی ہی قیادت ایک ماہ سے زائد گلگت بلتستان میں موجود رہی، ہم سے بڑھ کو ان کے مسائل کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے پورے پاکستان میں ملت کے مسائل کے حق کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور انشاءاللہ کرتے رہیں گے۔ شکارپور سے لیکر کوئٹہ اور کراچی سے لیکر گلگت بلتستان تک ہر مشکل کی گھڑی میں اگر کوئی جماعت اپنی ملت کسیاتھ کھڑی رہی ہے تو وہ مجلس وحدت ہے۔ اس وقت بھی ہمارے کئی برادران جیل میں قید ہیں، جنہیں گلت میں فقط مظلوموں کے حق میں ریلی نکالنے پر سیاسی کیسز بنا دیئے گئے، برادر عارف قمبری ابھی بھی جیل میں ہیں۔ ان کیسز کا مقصد فقط ہماری فعالیت کو روکنا تھا۔ ہمارے فلاحی شعبے نے فلاحی میدان میں اپنی توان سے بڑھ کر کام کیا ہے، تقریباً ان دو برسوں میں ہم گلگت بلتستان میں پانچ کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے مکمل کرچکے ہیں، جن میں ایتام، پانی کے مسائل، ڈسپنسری اور اسپتال کے قیام اور مساجد کا قیام شامل ہے۔ حتٰی عطا آباد جھیل کے متاثرین کیلئے رہائشی کالونی تک بنائی ہے۔ اس کے علاوہ کئی پروجیکٹ ہیں جو چل رہے ہیں، اسکردو میں بچوں کا اسپتال بنوا رہے ہیں۔ یہ تمام کام بغیر حکومت میں رہتے ہوئے کئے ہیں، ہم خدمت کو اپنا شعار سمجھتے ہیں اور یہ کام کرتے رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: سیاسی محاذ آرائی میں آپ لوگوں کی توجہ ان معاملات سے کیوں ہٹ گئی، جس کی وجہ سے آپ نے شہرت پائی تھی۔ جیسے دہشتگردی کیخلاف آواز بلند کرنا۔؟
ناصر عباس شیرازی:
وہ مسائل جن پر مجلس وحدت مسلمین نے شہرت حاصل کی اور عوام میں مقبول ہوئی، اس پر ہماری جماعت نے شہرت کی خاطر نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کی رضا اور عوام کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے اپنا شرعی وظفیہ انجام دیا۔ ہماری طرف سے ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ انہی مسائل کو اجاگر کیا جائے اور عوام کے ایشوز سے غافل نہ رہیں، ممکن ہے کہ کہیں سہواً کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو۔ ایک چیز پر غور کریں جب گلگت بلتستان الیکشن کا بھی اعلان کر دیا گیا ہو، بلدیاتی الیکشن بھی سر پر ہوں، اس کے باوجود گذشتہ چند ماہ میں جتنے بھی اہم واقعات ہوئے ہیں، اس میں ایم ڈبلیو ایم صف اول میں رہی ہے۔ اب اگر آپ نے تقابل کرنا ہے تو پھر چارٹ بنائیں اور ان واقعات کی روشنی میں مجلس وحدت کا کردار دیکھیں اور دوسروں سے تقابل کریں۔ سانحہ شکار پر مجلس وحدت کا کردار، اسی طرح دیگر واقعات ہیں۔ شکارپور واقعہ پر پہلی بار تمام جماعتوں نے مجلس وحدت مسلمین کی شٹرڈوان ہڑتال کی کال کی حمایت کی اور پورا سندھ بند ہوگیا، ہم نے تاریخی لانگ مارچ کیا، جس میں تمام جماعتوں نے حمایت کی اور مظلوموں کی آواز کو بلند کیا۔ شہداء کمیٹی بنائی، جس نے شہداء کے خاندانوں کے دکھوں کا مدوا کیا۔ شکار سانحہ کیخلاف احتجاج میں ایم ڈبلیو ایم کی پوری قیادت شامل ہوئی ہے، اس کو عوامی سطح پر لیکر آئی ہے۔ اسی طرح کوئٹہ کے واقعات ہوئے، اس میں مجلس وحدت کا کردار واضح ہے۔ یہ واضح ہونا چاہیئے کہ جس بھی ایشو پر آپ سیٹنڈ لیتے ہیں، اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس طرح اس وقت ہمیں اسراء کا چیلنج درپیش ہے، اکثر اضلاع میں ہمارے دوست جیلوں میں ہیں، کئیوں کے نام شیڈول فور میں ڈال دیئے گئے، اسی طرح بھکر میں اس وقت اسیروں کی رہائی کیلئے معاملات چل رہے ہیں، ہمارے دوست اس ایشو کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ چیزیں بذات خود قیمت ہیں جسے ہم ادا کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: قومی فلاحی امور میں آپکی کارکردگی اسلامی تحریک سے مختلف نظر نہیں آتی۔ کیا یہ آپکی ترجیحات میں نہیں۔؟
ناصر عباس شیرازی:
میں اسلامی تحریک پاکستان کیساتھ تقابل نہیں کرنا چاہوں گا، مجھے نہیں معلوم کہ ان کی فلاحی امور میں کیا خدمات چل رہی ہیں، اس کا جواب تو وہ خود ہی دے سکتے ہیں۔ قوم کی جانب سے ہم سے توقع کی جا رہی ہے کہ کالجز بن رہے ہوں گے، اسکولز کا قیام ہو رہا ہوگا، ادارے بن رہے ہوں گے، فلاحی امور چل رہے ہونگے اور یہ توقعات بےجا نہیں ہیں۔ ہر معاملہ کا تعلق دستیاب وسائل ہیں، ان وسائل میں ہیومن ریسورس، مالی وسائل اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ میں ایک مثال دوں گا کہ اگر اس وقت گھر کے فرنٹ پر آگ لگی ہوئی ہے تو پہلے کام آگ بجھانا ہے، اگر ملت کا مورال ڈاون ہے، دہشتگردی جیسے واقعات ہو رہے ہیں اور انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، تو ہمارا فرض ہے کہ پہلے ان امور سے نمٹیں۔ فلاحی شعبہ کی خدمات گنوا چکا ہوں، جن میں اسپتال، ڈسپنسریاں، مساجد کا قیام، ایتام سے متعلق امور سمیت دیگر امور شامل ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا آپکی ہر ناکامی کے ذمہ دار علامہ ساجد علی نقوِی ہیں؟ کیا خود احتسابی کا بھی کوئی کلچر فروغ دینگے۔؟
ناصر عباس شیرازی:
ہم نہیں سمجھتے ہیں کہ ہم ناکام ہوئے ہیں، کامیابی کے ہمارے معیارات کچھ اور ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ کہ ہم نے چیلنجز کی درست تشخیص کی یا نہیں۔ جواب ہے کی۔ آیا اس تشخیص کے بعد اپنا وظیفہ انجام دیا یا نہیں۔ کیا ہم نے درپیش چیلنجز کو مواقعوں میں بدلنے کی کوشش کی یا نہیں۔ جواب ہے کی۔ ہم نے اپنا وظیفہ ادا کیا ہے، اس لئے ہماری نگاہ میں اپنے وظیفے کی انجام دہی ہے، ہمیں ہماری کوششوں کے نتائج کتنے ملے یا نہیں ملے یہ الگ بحث ہے۔ جہاں تک آپ نے علامہ ساجد نقوی صاحب کی بات کی ہے تو اس پر اتنا کہوں گا کہ وہ ایک جماعت کے سربراہ ہیں، ان کی جماعت کی ایک حکمت عملی ہے اور ان کا مسائل کے حل کے بارے میں تجزیہ و تحلیل کرنے کا اپنا طریقہ کار ہے، جس کا انہیں پورا پورا حق ہے۔ ممکن ہے کہ ان کی حکمت عملی کا بلواسطہ یا بلا واسطہ ہمیں نقصان ہوتا ہو، لیکن انہیں مکمل طور پر حق ہے کہ وہ اپنی جماعت کی پالیسی کے مطابق چلیں اور کام کریں۔ اسی طرح ہمیں بھی حق حاصل ہے۔ آپ کی بات اگر گلگت بلتستان الیکشن کے تناظر میں ہے تو میں اتنا کہوں گا کہ اگر ان کی جماعت ان جگہوں پر جہاں ان کے امیدوار کھڑے نہیں تھے یا دوسروں کے حق میں اپنے امیدواروں کو دستبردار کیا، اگر وہاں پر ہمیں سپورٹ کیا جاتا تو ان کے قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہوتا اور داخلی وحدت بھی پروان چڑھتی۔ اس سب کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کا حق تھا جو انہوں نے استعمال کیا۔ وہ اپنے فیصلوں کا خود کا دفاع کریں گے، اس پر مزید کچھ نہیں کہوں گا۔ گلگت بلتستان الیکشن کے حوالے سے ابھی ہم نے کور کمیٹی کا اجلاس بلایا تھا اور الیکشن سے متعلق تمام امور پر غور کیا ہے اور اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیا ہے، جس پر آپ کو اگلے چند ماہ میں وہاں تبدیلیاں نظر آئیں گی۔
خبر کا کوڈ : 469907
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
شیرازی صاحب آپ علامہ ساجد نقوی صاحب کے پاس گئے تھے اپنی حمایت کرانے کے لئے؟۔۔۔۔ اور پھر بھی آپ کی حمایت نہیں کی؟؟؟ جن کے حق میں تحریک نے اپنے امیدوار دستبردار کرائے ہیں وہ بھی تو آپ کی طرح شیعہ بھی ہیں اور وہاں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔۔۔ اور وہ علامہ ساجد نقوی صاحب کے پاس خود چل کر بھی آئے ہیں۔۔۔ آپ قوم کی خدمت کرنے کے جذبے کے ساتھ ان کو مل لیتے، کیا آپ کا قد چھوٹا ہو جاتا، آپ کا قد بھی بڑھ جاتا ۔۔۔جب آپ وہاں جاتے تو دیکھ لیتے علامہ ساجد نقوی کتنے بڑے ظرف کے مالک ہیں۔ حالانکہ آپ سے جب نیئر صاحب کو بٹھانے کا تقاضا کیا گیا تو آپ نے علامہ راحت حسینی کا کہا نہیں مانا۔۔۔۔ اور علامہ ساجد نقوی کے پاس آپ گئے تک نہیں، تو کیسے وہ آپ کے حق میں فیصلہ دے دیتے۔۔۔۔جہاں پر تحریک کے چار امیدوار کھڑے تھے آپ فقط وہاں پر اپنے امیدوار اگر دستبردار کرا دیتے تو تحریک کی طرف سے فوراً آپ کے حق ٘میں بھی فیصلہ آجاتا۔
منتخب