0
Sunday 2 Oct 2011 11:35

پی آئی اے کو 130 ارب کے خسارے کا سامنا، 40 نئے طیارے خریدنے سے چھ ماہ میں حالت بہتر ہو جائے گی، ندیم یوسف زئی

پی آئی اے کو 130 ارب کے خسارے کا سامنا، 40 نئے طیارے خریدنے سے چھ ماہ میں حالت بہتر ہو جائے گی، ندیم یوسف زئی
لاہور:اسلام ٹائمز۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے منیجنگ ڈائریکٹر ندیم یوسف زئی نے کہا ہے کہ پی آئی اے کو 130 ارب سے زائد کے خسارے کا سامنا ہے، جو آئندہ ایک سال میں انتہائی کم کر دیا جائے گا، 40 سے زائد نئے طیارے خریدے جا رہے ہیں اور آئندہ چھ ماہ تک پی آئی اے کی حالت بہت بہتر ہو جائے گی، مختلف روٹس کیلئے مسافر فراہم کرنیوالی کمپنی سے 700 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے جس سے پی آئی اے کو سالانہ 1500 سے 2 ہزار ملین ڈالر کا فائدہ ہو گا۔ 
ندیم یوسف زئی نے کہا کہ پی آئی اے نے حکومت سے بیل آﺅٹ پیکج مانگا ہے اور نہ ہی حکومت نے انکار کیا، صرف بغیر منافع کے قرضے کی درخواست کی تھی، تمام صوبائی حکومتوں سے درخواست کی ہے کہ ایئر پورٹس کے ارد گرد شادی ہالز پر پابندی لگائی جائے کیونکہ ایک پرندہ ٹکرانے سے جہاز کو دو ملین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، حاجیوں کی سہولت کیلئے جدہ میں پہلی مرتبہ حاجی کیمپ بنایا گیا ہے اور مسافروں کو تمام سامان حاجی کیمپ سے پی آئی اے خود ایئر پورٹس تک لے کر جائے گی۔ وہ گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
پی آئی اے کے منیجنگ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ پی آئی اے اس سال 305 پروازوں کے ذریعے 1 لاکھ 20 ہزار افراد کو حج کیلئے سعودی عرب لے جائے گی اور ہماری کوشش ہے کہ تمام افراد کو زیادہ سے زیادہ بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں اور میں نے پی آئی اے کے تمام عملہ کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور جہاں کہیں بھی کوتاہی ثابت ہو گئی ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو خسارے سمیت بہت سی مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود ہم نے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا اور حج آپریشن سے پی آئی اے کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی ہوتا ہے لیکن ہم قومی ذمہ داری سمجھ کر اسے نبھا رہے ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ پہلے سعودی عرب سے واپس آنیوالے حجاج کرام کو اپنا سامان جہاز تک لے جانے کیلئے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس لئے پہلی مرتبہ جدہ میں حاجی کیمپ بنایا گیا ہے جہاں سے حجاج کرام اور ان کے سامان کو پی آئی اے خود جہاز تک پہنچائے گی، تاکہ ان کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور جہازوں میں تمام حجاج کرام کو ویڈیو کے ذریعے انتظامات کے حوالے سے آگاہی بھی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہازوں کے سپیئر پارٹس کیلئے جس کمپنی سے معاہدہ کیا گیا ہے وہ ہمیں ہماری قیمت کے مطابق سپیئر پارٹس فراہم کریگی اور یہ سب کچھ مکمل طور پر میرٹ پر سے معاہدہ ہوا ہے۔ 
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے نے سیلاب متاثرین کیلئے دنیا بھر سے آنیوالے امدادی سامان کا کوئی کرایہ نہیں لیا۔ ندیم یوسف زئی نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر جہازوں کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے اور آئندہ چھ ماہ کے دوران 45 سے زائد نئے جہاز خریدے جائیں گے، جس سے پی آئی اے کے پاس جہازوں کی تعداد 80 کے قریب ہو جائے گی۔ انہوں نے کا کہا 7 جہاز ایسے ہیں جن کی مرمت ہو رہی ہے اور آئندہ ایک ہفتے تک یہ جہاز بھی آپریشن ہو جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 102976
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب