0
Monday 11 Mar 2013 14:45

شیعہ جج جسٹس کاظم رضا شمسی کیوجہ سے علامہ غلام رضا نقوی کی اپیل منسوخ

شیعہ جج جسٹس کاظم رضا شمسی کیوجہ سے علامہ غلام رضا نقوی کی اپیل منسوخ
اسلام ٹائمز۔ آج 4 ماہ بعد 7 سال سے سزائے موت کے خلاف علامہ غلام رضا نقوی اور شبر عباس نقوی کی نہ سنی جانے والی اپیل جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس سید کاظم رضا شمسی پر مشتمل بنچ میں سماعت ہونا تھی لیکن جسٹس سید کاظم رضا شمسی کے شیعہ ہونے کی وجہ سے لسٹ منسوخ کر دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مخالف فرقہ کے وکیل نے اعتراض کیا تھا کہ بنچ میں جسٹس کاظم رضا شمسی شامل ہیں جو شیعہ ہیں اس لئے بنچ کو تبدیل کیا جائے۔

وکیل کی جانب سے اس بے مقصد احتجاج پر ملت جعفریہ کے عدالت میں موجود علماء و شہریوں میں تشویش و غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور آل پارٹیز شیعہ فیڈریشن کا ہنگامی اجلاس چیئرمین سید نوبہار شاہ کی زیر صدارت منعقد طلب کیا گیا جس میں علامہ رشید ترابی، علامہ غلام مصطفی انصاری، علامہ حافظ کاظم رضا نقوی، علامہ سید مظہر حسین نقوی، علامہ صبیح حیدر شیرازی، علامہ ناصر مہدی، علامہ وقار حیدر فائزی، علامہ کرامت علی دمشقی، سید ظہیر حیدر زیدی، سید عباس علی شمسی، سید حسنین حیدر زیدی، اشرف مہدی اوپل، سید منتظر مہدی نقوی، انصر عباس ہاشمی، سید مزمل حسین رضوی سمیت دیگر جماعتوں کے نمائندے شریک ہوئے۔

ہنگامی اجلاس میں 17 سال سے جیل میں قید علامہ علامہ رضا نقوی اور سید شبر عباس نقوی کی 7 سال سے ہائیکورٹ میں زیر التوا اپیل کو مختلف حیلے بہانوں سے نہ سننے اور شیعہ جج پر اعتراض پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ عدلیہ میں فرقہ وارانہ تفریق انتہائی خطرناک اور نظام عدل کیلئے تباہ کن ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اہل تشیع نے سنی ججوں کے فیصلوں کو تعصب پر مبنی قرار دیکر ماننے سے انکار کر دیا تو عدلیہ کا کیا بنے گا۔

اجلاس میں چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں کہا کہ عدالتیں پہلے ہی ہمارے ساتھ مذہبی تعصب رکھتی ہیں، ہمارے 4 قیدی 18 سال جیل میں رہے اور اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن ان کی اپیلیں نہیں سنی گئیں، گزشتہ سال سینٹرل جیل کراچی میں سید بشارت زیدی اور سینٹرل جیل سکھر میں قلندر بخش جاگیرانی کو جیل انتظامیہ کی ملی بھگت سے شہید کر دیا گیا جس کا کسی عدالت نے نوٹس نہیں لیا۔

رہنماؤں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو اس حوالے سے خصوصی طور پر نوٹس لینا چاہئے اور وکیل کی جانب سے کئے جانے والے بے مقصد اعتراض کو رد کرتے ہوئے جہاں وکیل کے خلاف کارروائی کی جائے وہاں یہ بات بھی واضح طور پر عدلیہ پر لاگو کی جائے کہ یہاں مذہبی تعصب کو ہوا نہ دی جائے اور ایسا کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ میں مذہبی تعصب پنپ گیا تو معاملات خراب ہو جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 245989
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش