0
Tuesday 12 Nov 2013 18:50
فوجیوں کو شہید ماننے سے انکار قرآن و سنّت کے منافی ہ

سنی اتحاد کونسل کے مفتیوں نے طالبان کا مناظرے کا چیلنج قبول کر لیا

سنی اتحاد کونسل کے مفتیوں نے طالبان کا مناظرے کا چیلنج قبول کر لیا
اسلام ٹائمز۔ سنی اتحاد کونسل کے تیس مفتیانِ کرام نے اعلان کیا ہے کہ ہم طالبان ترجمان کی طرف سے دیئے گئے مناظرے کے چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور طالبان کی طرف سے شرعی معاملات پر بات چیت کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ مفتیانِ اہلسنّت جہاد، خروج، تکسیر اور شہادت جیسے شرعی امور پر ہر وقت طالبان کے ساتھ مناظرے اور گفتگو کے لیے تیار ہیں۔ طالبان بات چیت کی شرائط، تفصیلات، مقام اور تاریخ طے کرنے کے لیے اپنی طرف سے افراد نامزد کریں۔ ہم ان افراد کے ساتھ مکالمے اور مناظرے کے لیے میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔ اس مقصد کیلئے سنی اتحاد کونسل علماء بورڈ کے چیئرمین شیخ الحدیث علامہ محمد شریف رضوی کی سربراہی میں مفتیانِ اہلسنّت کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ دریں اثناء سنی اتحاد کونسل کے مفتیانِ کرام نے کہا ہے کہ منور حسن کا ارضِ وطن کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کرنے والے فوجیوں کو شہید ماننے سے انکار قرآن و سنّت کے منافی ہے۔ منور حسن کا بیان شریعت اور شہادت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے کیونکہ شہید کو شہید نہ ماننا بدترین گناہ اور جرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی سرکوبی کی جنگ میں جانیں دینے والے فوجیوں کے شہید ہونے میں کوئی ابہام نہیں۔ منور حسن توہینِ شہادت اور پاک فوج کو متنازعہ بنانے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ منور حسن کا گمراہ کن بیان غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حدود اﷲ اور شعائرِ اسلام سے بغاوت سے باز آ جائیں۔ منور حسن ہٹ دھرمی اور ضد چھوڑ کر اپنا بیان واپس لے کر توبہ کریں تاکہ ملک و قوم کو انتشار سے بچایا جا سکے کیونکہ اس وقت قوم کو نفاق نہیں اتفاق کی ضرورت ہے۔ امریکہ کے اسلام اور پاکستان دشمن ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں لیکن امریکہ کی دشمنی میں پاک وطن کے حقیقی شہداء کے خلاف ہرزہ سرائی ناقابل برداشت ہے۔ پاک فوج امریکہ نہیں پاکستان کی جنگ لڑ رہی ہے اور پاک فوج کا ہر شہید قوم کا ہیرو ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے علماء و مشائخ منور حسن کے بیان پر نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور پاک فوج کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ بیان جاری کرنے والے مفتیانِ کرام نے علامہ محمد شریف رضوی، مفتی محمد اکبر رضوی، علامہ حامد سرفراز، مفتی محمد فاروق القادری، مفتی محمد سعید رضوی، مفتی محمد شعیب منیر، مفتی محمد یونس رضوی، مفتی محمد اظہر سعید، علامہ ریاض الدین پیرزادہ، مفتی غلام مرتضیٰ مہروی، علامہ اشرف علی، مفتی فیاض الحسن صابری، مفتی محمد اقبال نقشبندی، مفتی شہزاد قادری، مفتی غلام نبی فخری، پیر مختار احمد صدیقی، مفتی غلام محمد چشتی، علامہ فیصل عزیزی، علامہ اشرف گورمانی، مفتی محمد عرفان، مفتی لیاقت علی رضوی، مفتی محمد عابد رضا قادری، مفتی قاری حمید الرحمن، محمد رمضان جامی، علامہ باغ علی رضوی اور دیگر شامل ہیں۔
خبر کا کوڈ : 320337
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب