0
Sunday 24 Nov 2013 20:10

عالمی طاقتوں نے ایران کے یورینیم افزودہ کرنیکے حق کو تسلیم کرلیا ہے، ڈاکٹر حسن روحانی

عالمی طاقتوں نے ایران کے یورینیم افزودہ کرنیکے حق کو تسلیم کرلیا ہے، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے آج ریڈیو اور ٹیلیویژن پر ایرانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور انکے علاوہ جرمنی نے جنیوا معاہدے میں صراحت کے ساتھ اسلامی جمہوری ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم کرلیا ہے۔ ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ جمہوری اسلامی ایران ذاتی طور پر یورینیم افزودہ کرنے کا حق رکھتا ہے اور یہ حق این پی ٹی کا معاہدہ سائن کرنے والے تمام ممالک کو حاصل ہے، تاہم عالمی طاقتوں کی طرف سے اس حق کو تسلیم کرنے کی ایک سیاسی اہمیت ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے وضاحت کی کہ نطنز، فردو، اراک اور اصفہان کے علاوہ بندر عباس کی ایٹمی تاسیسات کی فعالیت جاری رہے گی۔

ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں عالمی طاقتوں کو یقین ہوگیا ہے کہ جمہوری اسلامی ایران پر دباو ڈالنے کے لئے لگائی گئی پابندیاں بے اثر ثابت ہوئی ہیں اور صرف ملت ایران ساتھ احترام پر مبنی رویہ سے ہی اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے مزید کہا کہ تدبیر و امید کے فلسفے پر مبنی انکی حکومت جمہوری اسلامی ایران اور وہ ممالک جو ایران کی ملت بزرگ کے ساتھ دوستانہ روابط قائم کرنا چاہتے ہیں، کے لئے اعتماد کی فضا قائم کرے گی۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ آج کے بعد بلافاصلہ ایٹمی معاملات کو مکمل طور پر حل کرنے کے لئے جامعہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور ان مذاکرات میں کامیابی کی صورت میں جمہوری اسلامی پر لگائی گئی اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ کی تمام پابندیاں بتدریج ختم ہونا شروع ہو جائیں گئی۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے وضاحت کی کہ اس معاہدہ کے مطابق آئندہ مذاکرات کے نتیجے میں تمام پابندیاں قدم بہ قدم ختم کر دی جائیں گی۔ اسلامی جمہوری ایران اور امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی پر مبنی چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں پانچ روز کے مسلسل مذاکرات کے بعد اتوار کی صبح ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس ابتدائی معاہدے کے نتیجے میں گذشتہ دس سال سے اسلامی جمہوری ایران کے ایٹمی پروگرام اور غرب کے درمیان پائے جانے والے خدشات کو مکمل طور پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔

دیگر ذرائع کے مطابق امریکہ نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کا حق تسلیم کرلیا اور یورینیم افزودگی کی اجازت دے دی ہے، جنیوا میں معاہدہ طے پاگیا ہے۔ سوئٹرز لینڈر کے شہر جنیوا میں پانچ روز سے جاری مذاکرات رنگ لائے۔ امریکہ، برطانیہ، چین، جرمنی، فرانس اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایٹمی تنازعے پر کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر معاہدہ طے پاگیا۔ ایران کا پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کا حق تسلیم کرلیا گیا۔ ایران آئندہ چھ ماہ میں جوہری سرگرمیوں کو محدود کر دے گا، یورینیم افزودگی پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، سینٹری فیوجز بڑھانے کی اجازت ہوگی نہ جدید سینٹری فیوجز استعمال کئے جائیں گے۔ 
اس کے بدلے امریکہ اور مغربی ممالک ایران کو آئندہ چھ ماہ کے دوران معیشت کی بحالی کے لیے سات ارب ڈالر دیں گے۔ کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ معاہدے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ ایران کچھ اقتصادی پابندیاں نرم ہوجانے پر ایٹمی پرگروام محدود کر دے گا، معاہدے سے دنیا مزید محفوظ ہوجائے گی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مطابق اقتصادی پابندیاں ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر لے کر آئیں، عالمی برادری کا مقصد ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنا ہے۔ ایران کا کہنا تھا کہ معاہدے سے دنیا میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جوہری معاہدہ مسائل کے حل کی چابی ہے۔
خبر کا کوڈ : 324219
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب