0
Wednesday 29 Sep 2010 10:58

عالمی برادری کشمیر میں مظالم رکوانے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے، فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے، وزیرخارجہ کا جنرل اسمبلی سے خطاب

عالمی برادری کشمیر میں مظالم رکوانے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے، فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے، وزیرخارجہ کا جنرل اسمبلی سے خطاب
اسلام ٹائمز- ڈیلی جسارت کے مطابق پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر کشمیر میں اپنے مظالم بند کرنے کیلئے ڈالے تاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس دیرینہ تنازعہ کے حل کی راہ ہموار ہو سکے۔ یہ بات وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہئے اور جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کے پرامن حل کیلئے انکی آواز کو سنا جانا چاہئے۔
وزیرخارجہ نے اپنے تفصیلی خطاب میں پاکستان میں حالیہ بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں اور عالمی تعاون کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی، دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات، ایٹمی معاملات اور سلامتی کونسل میں اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جہاں حالیہ دنوں میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے 100 سے زائد بیگناہ شہریوں کو شہید کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں، جموں و کشمیر کے تنازعہ کو اقوام متحدہ کے تحت شفاف، غیرجانبدارانہ اور آزادانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے استعمال سے حل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے بنیادی مسئلے سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کا خوش اسلوبی سے حل تلاش کرنے کے ذریعے بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے جامع بات چیت پر تیار ہے۔
اس موقع پر انہوں نے فلسطینی عوام کے منصفانہ نصب العین کیلئے پاکستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے 31 مئی کو فریڈم فلوٹیلا پر طاقت کے ننگے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے منتظر ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ اور دیگر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کیلئے پاکستان کا عزم غیرمتزلزل ہے جبکہ ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑنے کیلئے بھی پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد کسی سرحد، مذہب یا نسل کے پابند نہیں ہوتے، اس لئے دہشت گردی کا باعث کسی مذہب، خطے یا عوام کو قرار دینا انتہائی لغو ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان مسلمانوں کو دہشت گردوں کے طور پر پیش کرنے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ اسلام امن، رواداری اور بھائی چارے کا مذہب ہے جبکہ دہشتگردی اسلام کی عظیم اقدار کے قطعی منافی ہے۔
افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری لڑائی کے مضمرات سے پاکستان سے زیادہ کوئی ملک متاثر نہیں ہوا، اس لئے افغانستان میں امن اور استحکام میں ہمارا مستقل مفاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ افغانستان کو درپردہ جنگوں، مداخلت اور محاذ آرائی کے اکھاڑے سے عالمی تعاون اور ترقی کے مرکز میں بدلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں معاشرتی توازن کی بحالی افغانستان کی اپنی ذمہ داری ہے جسے بیرونی طور پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ ہم قومی مفاہمت کی ایسی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جو افغانستان کی اپنی قیادت میں کی جا رہی ہیں۔
ہتھیاروں میں کمی اور ایٹمی عدم پھیلائو کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس عمل کو مساویانہ اور غیرامتیازی بنیادوں پر جاری رہنا چاہئے۔ وزیر خارجہ پاکستان نے زور دیا کہ روایتی ہتھیاروں کا غیر متوازن اضافہ اور جارحانہ ڈاکٹرائنز سے علاقائی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم جنوبی ایشیا میں روایتی اور جوہری ضبط و تحمل اور تنازعات کے پرامن حل کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ عمل مساوات اور جمہوریت کے اصولوں کی روشنی میں انجام پانا چاہئے۔
ڈیلی جنگ کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات کی فکر نہ کرے، بھارتی وزیرخارجہ جب چاہیں ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ملاقات میں کشمیر سمیت تمام معاملات پر بات چیت ہو گی۔ انھوں نے یہ بات نیو یارک میں صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم کرشنا سے ملاقات میں کوئی شر ط عائد نہیں کی۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی حکام سے جلد ملاقات ہو گی جس میں ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر بھی بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کو پاکستان میں کارروائی کا مینڈیٹ نہیں دیا، انکی پاکستانی حدود میں کارروائی پر شدید احتجاج کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ امریکی صدر اوباما کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔
دوسری طرف اے آر وائے نیوز کے مطابق بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ نیویارک میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کا امکان نہیں۔ نیویارک میں بھارتی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو بھارت میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اگر وہ بھارت آئے تو وہاں ان سے ملاقات کا موقع ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو بے اعتمادی ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف پاکستان کارروائی کرے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بڑھے گا۔
خبر کا کوڈ : 38584
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب