1
0
Tuesday 11 Jun 2019 16:30

معرکہ یمن، کیا بازی پلٹنے والی ہے؟

معرکہ یمن، کیا بازی پلٹنے والی ہے؟
تحریر: ثاقب اکبر
 
یمن سے ایسی ایسی خبریں آرہی ہیں، جنھوں نے یہ امکان پیدا کر دیا ہے کہ اب بازی پلٹنے والی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے فلسطینیوں کی مزاحمت میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوچکی ہیں۔ وہ فلسطینی جو کبھی کنکریوں اور غلیلوں سے صہیونی جارحین کا مقابلہ کرتے تھے، اب تل ابیب اور دیگر اسرائیلی علاقے ان کے راکٹوں اور میزائلوں کی زد میں آچکے ہیں۔ اسرائیل کے اندر اور اردگرد کی تزویراتی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ پھیلتا ہوا اسرائیل اب سمٹنے کی طرف مائل دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح سوا چار سال پہلے یکطرفہ طور پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے کمزور اور بے وسائل یمن پر ایک جنگ مسلط کی تھی، جس کے نتیجے میں پچاسی ہزار سے زیادہ بچے لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور ہزاروں بے گناہ عورتیں، مرد اور بچے مارے جا چکے ہیں۔ شہروں کے شہر برباد ہوچکے ہیں، لیکن اب چند ہفتوں سے جو تازہ ترین اطلاعات آرہی ہیں، ظاہر کرتی ہیں کہ بازی پلٹنے جا رہی ہے۔
 
اگرچہ سعودی عرب جس طرح سے سوڈان میں عوام کا قتل عام کرنے والی فوج کی حمایت میں داخل ہوا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی اس نے نیابتی جنگوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ البتہ حقیقت یہ ہے کہ مختلف ممالک میں نیابتی جنگوں کا تجربہ اور معرکہ یمن کا تجربہ جوہری طور پر مختلف ہے، کیونکہ یمن میں سعودی عرب کسی گروہ کے ذریعے سے نہیں بلکہ خود سے حملہ آور ہے۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک اس کے اتحادیوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کا ردعمل بھی اسے سرکاری اور ریاستی طور پر برداشت کرنا ہے، کیونکہ یہ رو در رو معرکہ ہے، یہ آمنے سامنے کی جنگ ہے۔ یمنیوں کی جو تباہی ہونا تھی، وہ ہوچکی ہے۔ ان کے ہسپتال بچے ہیں نہ کھیت اور کھلیان۔ ان کی آبادی بلاواسطہ سعودی حملوں کی زد میں ہے۔ یمنی جان چکے ہیں کہ انہیں ذلت کے ساتھ اپنے آپ کو جارحین کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہے یا بھوک اور پیاس سہ کر عزت و وقار کے ساتھ نئی تاریخ رقم کرنا ہے۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ وہ جنگ جو سعودی عرب کے نزدیک دو ہفتے میں ختم ہو جانا تھی، چار سال بعد بالکل نئے فیز میں داخل ہو گئی ہے۔
 
اس معرکے کے سات سو دن مکمل ہوئے تھے کہ یمنیوں نے دنیا کو سعودی عرب پر اپنے میزائل داغ کر ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ہر طرف سے چیخ پکار ہونے لگی کہ یہ میزائل انہیں ایران نے دیئے ہیں، جبکہ ان کا سمندر، فضا اور زمین ہر طرف سے محاصرہ جاری ہے۔ یمنی ترجمانوں نے بار بار کہا ہے کہ کسی کے پاس اس امر کا کوئی ثبوت موجود ہے کہ ہمارے پاس ایرانی ہتھیار ہیں تو وہ پیش کرے۔ گذشتہ برس بھی انصار اللہ کے سرکاری ترجمان محمد عبدالسلام نے یہ واضح کیا کہ دنیا میں کوئی بھی ابھی تک اس امر کا ثبوت فراہم نہیں کرسکا کہ ہمارے پاس ایرانی اسلحہ موجود ہے۔ انصار اللہ یمن کے ایک اور اہم نمائندہ سید صادق الشرفی نے کہا کہ اگر ہمارے پاس ایرانی میزائل ہوتے تو صورت حال کچھ اور ہوتی۔
 
دنیا ابھی ایک سے ایک پیش رفتہ میزائل پر ہی حیران تھی کہ یمنیوں نے چند ماہ پہلے خودکش ڈرون طیاروں کے ذریعے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفانری آرمکو کی تنصیبات پر حملہ کر دیا۔ جس سے ہر طرف آگ بھڑک اٹھی۔ اس آگ کو بجھانے کے لیے کئی روز لگ گئے۔ یاد رہے کہ یمن کی مسلح افواج نے رواں سال کے آغاز میں ہی اسے ڈرون حملوں کا سال قرار دے دیا تھا۔ گوریلا کارروائیوں اور میزائل حملوں تک محدود جنگ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ایک ڈرون حملہ ابو ظہبی کے ایئرپورٹ پر بھی کیا گیا، جس کی انصار اللہ نے بعد ازاں ویڈیو بھی جاری کردی۔ سعودی عرب کا دارالحکومت ریاض اور متحدہ عرب امارات کا مرکز ابو ظہبی اس طرح شدید خدشے سے دوچار ہوگیا۔
 
پہلے خودکش ڈرون حملے سعودی عرب کے اندر بارہ سو کلو میٹر تک گائیڈ کرکے لے جائے جانے والے ڈرونز کے ذریعے کیے گئے۔ یہ بہت کامیاب حملے تھے۔ جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یمنی فوج اور انصار اللہ سعودی عرب کے ایئر ڈیفنس سسٹم میں موجود خلا کو جان چکے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر آرامکو اور اس کی تنصیبات آئندہ دنوں میں مزید نشانہ بنیں تو سعودی عرب کی تیل کی ترسیلات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ یہ وہ نقصان ہوگا جسے سعودی عرب کی اقتصادیات برداشت نہیں کر سکیں گی۔ جنگ کا ایک اور پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ یمنی توپ خانے نے مغربی ساحلی علاقے میں ایک امریکی ڈرون بھی مار گرایا ہے۔ اس سے پہلے نجران کے قریب ایک سعودی جاسوسی ڈرون بھی تباہ کیا جا چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یمنی فوج اب اس قابل ہوگئی ہے کہ اپنے علاقوں میں داخل ہونے والے ڈرونز کو بھی مار گرائے۔ علاوہ ازیں اسے یہ بھی پرواہ نہیں کہ یہ ڈرونز سعودی ہوں یا امریکی۔ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ ابھی تک یمنی اقدام کے جواب میں خود سے کوئی کارروائی نہیں کرسکا۔
 
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں یمن کی زمینی افواج نے جنگ کا دائرہ سعودی عرب کی سرزمین کے اندر تک پہنچا دیا ہے۔ گذشتہ بدھ (عیدالفطر کے روز) یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ السریع نے اعلان کیا کہ یمنی فوجوں نے شمالی محاذ پر صوبہ الجوف میں سعودی عرب کے اندر پیش رفت کی ہے اور اس صوبے کا چالیس کلومیٹر مربع علاقہ سعودی فوجیوں سے خالی کروا لیا ہے۔ اس حملے میں یمنیوں نے الصفحہ والوجف اور الخب والشعف جیسے بڑے قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا نے ایسی بہت سی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی ہیں، جن میں ان قصبوں سے سعودی شہریوں کے فرار کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایک روز بعد یمن کی زمینی فوج نے سعودی علاقوں نجران، جیزان اور عسیر میں بھی پیش قدمی کی ہے۔ انصار اللہ کے عوامی دستوں نے اس پیش قدمی سے صورت حال کو مزید تبدیل کر دیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سرحدی علاقوں سے اتحادی افواج کی پیش رفت کے امکانات ختم ہو رہے ہیں اور جنگ یمن کی سرزمین سے نکل کر سعودی عرب کی سرزمین میں داخل ہو رہی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ یمنی قبائلی افواج کو زمینی اور گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ ہے، جبکہ سعودی عرب کی فوج ایسا کوئی تجربہ نہیں رکھتی۔ دوسری طرف سوڈان سے فوجی بھرتی کا امکان بھی ختم ہو رہا ہے۔ زمینی فوج کے لیے زیادہ تر بھرتی اب تک سعودی عرب کو سوڈان اور نائیجریا ہی سے ملتی رہی ہے۔ جنگ کے اس نئے پھیلائو کو اس پہلو سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ سعودی عرب کے اندر جن قبائل اور مذاہب کے خلاف تشدد جاری ہے اور جن کی بستیوں کو برباد کیا جا چکا ہے، جن کے علماء کو قتل کیا گیا ہے، اگر بڑھتی ہوئی یمنی فوج کے زمینی رابطے ان پسے ہوئے مظلوم سعودیوں سے قائم ہوگئے تو پھر خدا جانے کیا صورتحال پیدا ہوگی۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے لکھا ہے کہ انصار اللہ کے ڈرونز کی کارروائیاں بہت درست اور موثر واقع ہوئی ہیں۔ اسے امریکہ اور علاقے میں اس کے اتحادی بھی تسلیم کرچکے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمنی فوج کی ٹیکنالوجی میں پیشرفت بہت جلد امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے ایک نئے خطرے کا باعث بن جائے گی۔

ان سارے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ علاقے میں فوجی طاقت کا توازن تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ امریکہ کی طرف سے خطے میں بڑے کر و فر سے لائو لشکر کے ساتھ داخل ہونے کے بعد ایران سے مذاکرات کی بھیک کا پس منظر سمجھنے کے لیے اس بدلتی صورتحال کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ممکن یہ صورتحال پوری طرح سے بدوئوں کی سمجھ میں نہ آئے، لیکن امریکہ اور اس کے ادارے اس کی سنگینی کو اچھی طرح سے محسوس کرسکتے ہیں۔ مذکورہ امریکی اخبار کا تبصرہ اسی حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی مالی طاقت سے اپنے فقر کا علاج کرنے والے خود سے غور کر لیں کہ کیا انہیں ڈوبتے جہاز میں سوار رہنا ہے یا پھر بچنے کی کوئی اور تدبیر اختیار کرنا ہے۔ امریکہ کا کیا ہے کہ وہ یہاں سے پَر پرزے سمیٹے گا اور اپنے گھر کی راہ لے گا۔ کمزور قوموں کی تباہی اور بربادی میں جو آج حصے دار بنے ہوئے ہیں، انہیں اپنے طرزعمل پر نظرثانی کرنا چاہیئے کیونکہ قوموں کا حافظہ افراد کے حافظے سے کہیں زیادہ قوی اور گہرا ہوتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 798982
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

محمد صدیق حیدر
Pakistan
میری رائے یہ ھے کہ حق باطل پر غالب آنے والا ھے، محترم ثاقب اکبر صاحب نے زبردست تجزیہ کیا ھے۔ زمینی حقائق اس سے ھرگز مختلف نہیں۔ سعودی شاھی خاندان نے یمن جنگ چھیڑ کر ایسی غلطی کی ھے، جو ان کے لیے ایک عذاب الہیٰ سے کم نہیں، یمنی عوام کی مقاومت کمال درجے کی ھے, اسے شکست دینا محال ھے۔ اب بھی سعودیہ کے لیے بہتر ھے کہ پاکستان اور ایران کی مدد سے یمنیوں سے فوری صلح کرے۔