0
Tuesday 28 Aug 2012 10:44

ایران پر ممکنہ حملہ

ایران پر ممکنہ حملہ
تحریر: نواز خان میرانی 

جب سے آدمیت و انسانیت پتھر اور دھات کے دور سے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کیوجہ سے، جو کرہ ارض کے مختلف علاقوں میں مبعوث کئے گئے تھے، ان کی صدیوں کی محنتوں مشقتوں اور تبلیغ کی بدولت نکلنے میں کامیاب ہوئی ہے اور ظلمات اور تاریکیوں سے علم و آگہی کی روشنیوں میں قدم رکھا ہے۔ ایک عالمی طاقت، ایڑی چوٹی کا زور لگا کر انسانوں کو دوبارہ ان غاروں اور جہالت و خود غرضی کی وادیوں میں دھکیلنے میں عملاً مصروف ہے، اپنے اور بڑوں کی عاقبت خراب کرنے کیلئے، جاپان کے شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی پر دنیا کا پہلا ایٹم بم گرا کر اس کی ابتدا کر دی۔
 
اس کی سنگدل سفاکی، دوہرے معیار اور قول و فعل میں تضاد کا اندازہ اس سے لگائیے کہ یہ ملک معصوم بچوں پہ بھی کھلونے بم گراتا ہے، تاکہ بچے کھیلنے کیلئے کھلونے اٹھائیں اور خاک و خون میں مل جائیں۔ شادیوں اور باراتوں پر ڈرون بم، عبادگاہوں اور کھلے میدانوں میں نماز جمعہ اور عید پڑھنے والوں پر ڈرون بم، مدرسوں میں تلاوت کرنیوالوں، والدین کے اکلوتے سہاروں پر ڈرون بم، راتوں کو سوئے ہوئے خاندانوں پہ ڈرون بم، امن پیدا کرنے کا مضحکہ خیز منصوبہ ہے۔
 
کاش کہ یہ ملک اسلحے کی بجائے کوئی انڈسٹری لگاتا اور چین اور جاپان کی تقلید کرکے دنیا میں نام کماتا، مگر وہ مہلک سے مہلک اسلحہ بناتا، پھر اس کے تجربے انسانوں پر کرتا ہے اور مسلمان ملک اسکا ٹارگٹ اسلئے ہیں کہ وہ متمول اور امیر اور قدرتی وسائل سے مالامال ہیں۔ یہ ان کے شہروں اور شہریوں کو تخت و تاراج بلکہ نیست و نابود کرنے کے بعد دوبارہ تعمیر کرتا ہے اور اپنے اسلحے کو بیچنے کیلئے سارا سال منڈیاں اور مارکیٹ ڈھونڈتا ہے۔
 
اسے کسی بھی ملک پر بغیر کسی معقول و مستند وجہ کے چڑھ دوڑنے میں کوئی امر مانع نہیں ہوتا۔ جیسے ویت نام میں وہ بدنام ہوا، وہ تو ظرف کی ان بلندیوں پر ہے کہ وہ دگرگوں معیشت اور ڈوبتی ہوئی اور تباہ حال اقتصادیات کے باوجود بھی ادھار لیکر متحارب ملکوں کی مدد کرتا اور ان کی اسلحہ کی رسد میں یہ کمی کمین، کمی نہیں آنے دیتا۔ اگر آج دنیا میں امن تاراج اور ناپید ہوگیا تو اسکا ذمہ دار محض یہی ملک ہے۔ جن ملکوں میں اسکی دسترس نہیں، خواہ وہ گنتی کے چند ملک ہیں، مگر وہ کئی دہائیوں سے امن کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 

ہمارے ہمسائے سے اس کی اسلئے گاڑھی چھنتی ہے کہ جنگی جنون اور اسلحے سے پیار میں دونوں میں قدر مشترک ہے۔ ان کو یہ فکر سونے نہیں دیتا کہ طالبان کے ہاتھ میں ہمارے ایٹمی ہتھیار نہ آ جائیں اور وہ بم نہ چلا دیں، حالانکہ دنیا کو یہ خدشہ ہے کہ دنیا پہ پہلا ایٹم بم گرانے والا دنیا کو ختم کرنیکا سبب نہ بن جائے اور اس کی ابتدا وہ ایران سے چھیڑ چھاڑ کر کے کریگا کیونکہ ہمارے ہاں ایک جانور ہری بھری اور لہلہاتی فصل اور کھیتوں میں گھس کر بلاوجہ اسے تباہ کر دیتا ہے۔
 
اسی ذہنیت اور ظرف کا مالک زندہ و تابندہ شہروں کو بلاوجہ نیست و نابود کر دیتا ہے۔ وہ یہ حرکت اپنے لے پالک اسرائیل سے کروا سکتا ہے۔ جس نے عراق کی چھ سال کی بم بنانے والی محنت پر 16 بم گرا کر ایک منٹ سے کم عرصے میں تباہ کر دیا تھا۔ امریکہ میں صدارتی الیکشن میں تین ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے۔ اگر اوبامہ نے بھی جمہوریت بہترین نظام ہے کا نعرہ لگا دیا تو اسامہ والا ڈرامہ، کہیں اور بھی کرسکتا ہے۔ وہ ایران بھی ہو سکتا ہے۔
 
اس وقت وہ تذبذب کا شکار اس لئے ہے کہ اسرائیل براہ راست ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی زد میں ہے۔ اسکے علاوہ اسرائیل شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے حصار میں ہے، جو ماضی قریب میں لبنان میں اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا کر پسپائی کی خجالت میں کامیابی سے مبتلا کرچکا ہے اور اب تو حزب اللہ مکمل طور پر مسلح اور چالیس ہزار راکٹوں سے لیس ہے۔
 
ایران کے حاکم اللہ تعالٰی کی حاکمیت پر یقین و ایمان رکھتے ہیں۔ وہ اپنے بیانات سے ہر ممکن طریقے سے امریکہ کو زچ کرنے اور اکسانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ادھر اسلئے سکوت چھایا ہے کہ ایرانی حاکم عراق، افغانستان یا پاکستان کے حاکموں سے بالکل مختلف ہیں۔ لہذا ان حالات میں اکیلا تجزبہ کرکے کیسے حتمی فیصلہ دے سکتا ہوں کہ ایران پر حملہ ہوگا یا نہیں۔ میں بھی اس پر اکتفا کرتا ہوں کہ ایران پر ممکنہ حملہ ہوسکتا ہے، مگر وہ قائم و دائم رہیگا اور احمدی نژاد اتحادیوں کیساتھ اگلا الیکشن بھی لڑیں گے اور جیتنے کے جتن بھی کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 190622
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب