0
Saturday 23 Nov 2013 20:41

پاکستان کو دہشتگردوں کیخلاف اپنی رٹ طاقت کے بل بوتے پر قائم کرنی چاہیئے، پروفیسر ڈاکٹر مطاہر احمد

پاکستان کو دہشتگردوں کیخلاف اپنی رٹ طاقت کے بل بوتے پر قائم کرنی چاہیئے، پروفیسر ڈاکٹر مطاہر احمد
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے چیئرمین ہیں۔ آپ 1995ء میں بحیثیت لیکچرر جامعہ کراچی سے وابستہ ہوئے تھے۔ اس سے قبل آپ 1988ء سے لیکر 1995ء تک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز میں تدریسی و تحقیقی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ آپ بین الاقوامی تعلقات سے متعلق موضوع  پر کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور مشرق وسطیٰ سمیت عالمی ایشوز پر آپ گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد کے ساتھ حکومت طالبان مذاکرات، مشرق وسطیٰ کے حالات، قضیہ شام اور اسکے حوالے سے امریکا اور اسکے اتحادی عرب و مغربی ممالک کا کردار، حزب اللہ لبنان کی خطے میں مقبولیت کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں ایک ملاقات کی۔ اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: اسلام و پاکستانی آئین کے باغی طالبان سے مذاکرات کیا ریاست کی شکست کے مترادف نہیں ہیں جبکہ پاکستان ایک ایٹمی ملک بھی ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد: جی بالکل آپ نے صحیح کہا کہ پاکستان کی اس وقت جو سیاسی و جمہوری قیادت ہے اس نے طالبان کے حوالے سے انتہائی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس جو ہوئی اس میں بھی انہوں طالبان کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ اسٹیک ہولڈر کا لفظ استعمال کیا، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں رکھتی۔ حکومت ڈائیلاگ کی بات کرتی ہے مگر ایک ایسی قوت سے کرتی ہے جو پاکستانی ریاست پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں، پاکستانی نظام کو کافرانہ نظام کہتے ہیں، طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جو آئین و جمہوریت ہے وہ غیر اسلامی، کافرانہ ہے۔ طالبان کے مطابق انکا اسلام جب تک نہیں آئے گا، اس وقت تک پاکستان میں اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ پھر دوسری جانب طالبان 40 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو قتل کر چکے ہیں، پانچ چھ ہزار مسلح افواج کے جوانوں کو بھی وہ شہید کر چکے ہیں، تو ایسی صورتحال میں یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ان قوتوں سے جو نہ ڈائیلاگ پر یقین رکھتی ہیں، نہ ریاست پر یقین رکھتی ہیں، ان سے ڈائیلاگ کن حوالوں سے ہونگے، اس کے خدوخال کیا ہونگے، ان کا ایجنڈا کیا ہو گا، ڈائیلاگ کن کے ساتھ ہونگے۔ کیا مذاکرات ان عناصر کے ساتھ ہونگے جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، جو پاکستان میں معصوم و بےگناہ عوام پر بمباری کر رہے ہیں، جو مساجد و امام بارگاہوں پر دھماکے کر رہے ہیں، پاکستان میں غیر مسلموں کو یہ کہہ کر مار رہے ہیں کہ ہماری جنگ عیسائیوں کے ساتھ ہے۔ تو یہ وہ دہشت گرد عناصر ہیں جن کا انسانیت پر یقین نہ ہو، انسانیت کا تصور جن کے پاس نہ ہو، سمجھ سے باہر ہے کہ ان سے آپ مذاکرات کی بات کرتے ہیں، پتہ نہیں کس طرح ان سے مزاکرات ہونگے۔ بہت افسوس ناک پہلو یہ ہے اتنا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتی ہیں ہماری سیاسی جماعتیں کہ طالبان کے دفاتر پاکستان میں کھولے جائیں، ان سے ڈائیلاگ شروع کیا جائے جبکہ یہ سیاسی جماعتیں انکی مذمت میں ایک لفظ نہیں بولتیں۔ پاکستان جو کہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے، اس کی افواج دنیا کے چوتھے پانچویں نمبر پر آتی ہیں، اگر اس کے بعد بھی دہشت گردوں کے سامنے جھکیں گے تو کیا پیغام دیں گے پاکستانی عوام کو، دنیا کو، مسلم امہ کو۔ اس بات کو پاکستان کے ارباب اختیار کو سمجھنا ہو گا۔

اسلام ٹائمز: طالبان سے نمٹنے کا کیا حل پیش کرتے ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر مطاہر احمد: دیکھیں اس مسئلے کا بہت ہی معمولی حل ہے، مذاکرات کرکے آپ نے دیکھ لیا، اس سے پہلے بھی چار پانچ بار طالبان سے مذاکرات کئے مگر اس کا کچھ حاصل حصول نہیں ہوا۔ دیکھیں جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتا ہے ریاست اس کو طاقت کے ذریعے کچلتی ہے، قابو میں کرتی ہے۔ پاکستان کو اپنی رٹ قائم کرنی ہے اور وہ رٹ طاقت کے بل بوتے پر قائم ہوتی ہے۔ دہشت گردوں کو پاکستان میں کہیں سپورٹ نہیں ہے، عام شہری بھی ان قوتوں کے خلاف ہیں۔ لہٰذا یہ ریاست کی سلامتی کا معاملہ ہے، جب تک طاقت کا استعمال نہیں ہوگا اس وقت تک یہ معاملہ حل نہیں ہو سکتا۔

اسلام ٹائمز: مشرق وسطیٰ کی طرف آتے ہیں جہاں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ امریکا ایک طرف تو جمہوریت کو کچل دیتا ہے اور دوسری طرف آمروں اور عوام پر قابض بادشاہتوں کی حمایت کرتا ہے، ایک طرف دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ بھی چھیڑ رکھی ہے دوسری جانب دنیا بھر سے دہشت گردوں کو شام میں عوامی حمایت یافتہ بشار حکومت کے خلاف جمع کر رکھا ہے اور انہیں بشار حکومت کے خلاف استعمال کر رہا ہے، شام میں دہشت گردوں کو اسلحہ و تربیت دے رہا ہے، مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی تفرقہ ایجاد کر رہا ہے، امریکا کے اس منافقانہ رویئے کے حوالے سے کیا کہیں گے؟
پروفیسر ڈاکٹر مطاہر احمد: بالکل صحیح کہا آپ نے۔ دیکھیں بین الاقوامی تعلقات مفادات کے تابع ہوتے ہیں، دوسری بات یہ کہ دہرا معیار ہوتا ہے، ریاستیں اپنے مفاد میں جو چیز صحیح سمجھتی ہیں، اخلاقیات کو وہ پس پشت ڈال کر اپنے مفادات کو حل کرتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے طویل مدتی اور مختصر مدتی مفادات بھی ہیں، اسکے وہاں پر اپنے اتحادی بھی ہیں، سعودی عرب امریکا کا سب سے بڑا اتحادی ہے، بحرین سمیت گلف کی ریاستیں اس کی بڑی اتحادی ہیں، تو یہ وہ تمام امریکی اتحادی ریاستیں ہیں جہاں آپ کو بادشاہتیں نظر آئیں گی، امریکا ان ریاستوں کی مدد سے وہاں اٹھنے والی تمام جمہوری قوتوں نہ صرف یہ کہ کچلتا ہے بلکہ اس کی مدد سے ایک اسٹیٹس کی پالیسی وہاں رکھتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جہاں جہاں امریکی مفادات کو جن جن قوتوں نے چیلنج کیا، امریکا نے تمام کو اسرائیل اور اتحادیوں کی مدد سے ان قوتوں کو برباد کر دیا۔ مگر پھر ہم نے وہاں حزب اللہ لبنان کو دیکھا کہ جب 2006ء میں حزب اللہ نے device کیا اسرائیل پر، اور ماضی میں جو تین عرب اسرائیل جنگیں ہوئیں، ہم نے دیکھا کہ ان عرب اسرائیل جنگوں میں وہ نتائج نہیں آئے جو ایک چھوٹی سی لبنانی گوریلا تنظیم نے اسرائیل کے خلاف 33 روزہ جنگ میں حاصل کئے۔ اسرائیل کا جو ناقابل شکست ہونے کا ایک تصور تھا اس تصور کو حزب اللہ لبنان نے 2006ء کی اسرائیل کے ساتھ جنگ میں توڑ دیا۔ 

حزب اللہ نے دنیا کو ثابت کرکے دکھایا کہ اگر آپ کے پاس حقیقی آئیڈیالوجی ہے، آپکے پاس حقیقی قیادت ہے اور اپنے آپ کو صحیح سمت میں سمجھتے ہیں تو ایسی صورت میں اسرائیل اور اس جیسی قوتیں اپنا جو بھی امیج بنا کر رکھیں، ان کو آپ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور یہ کام حزب اللہ لبنان نے کر دکھایا۔ تو یہ چیز بھی امریکا کو پسند نہیں آئی لیکن دوسری جانب پوری مسلم دنیا میں خصوصاَ مشرق وسطیٰ میں عوامی تائید حزب اللہ کے ساتھ تھی۔ اس وقت کوئی تفریق نہیں تھی شیعہ سنی کی بلکہ سب کے سب ایک بات پر متفق تھے کہ امریکی مفادات کا خطے سے خاتمہ کیا جائے، اسرائیل کو نیست و نابود کیا جائے۔ اس کے بعد اچانک عرب دنیا میں شیعہ سنی اختلافات کو جنم دینے کیلئے سازشیں شروع کر دی گئیں اور اس کے پیچھے وہی قوتیں تھی جو نہیں چاہتی تھی کہ حقیقی عوامی تحریکیں آگے بڑھیں اور وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں تو بھرپور کوشش کی کہ شیعہ سنی تقسیم مشرق وسطیٰ میں کرائی جائے۔ تو یہ امریکا اور مغربی ممالک کا مسلمانوں میں تفرقہ پھیلانے کا ایک پرانا طریقہ کار ہے۔ 

بحرین کی صورت حال آپ کے سامنے ہے، بحرین میں وہاں کی عوام اپنے حقوق کی بازیابی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن وہاں امریکا کے اتحادی خاص طور پر سعودی عرب، جس طرح سے وہاں جمہوری تحریک کو کچل رہا ہے۔ شام کے معاملے میں آپ دیکھئے، شام کا مسئلہ یہ ہے کہ شام وہ واحد ملک ہے مشرق وسطیٰ میں جو اسرائیل کے بارے میں بالکل واضح پالیسی رکھتا ہے، وہ ایک ترقی پسند ملک بھی ہے، وہاں شام میں بھی سعودی عرب سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس وقت شام میں بشار حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی، اس میں القاعدہ کو بھی استعمال کیا گیا، افسوس ناک بات یہ ہے کہ امریکا اور اسکے اتحادی مغربی و عرب ممالک القاعدہ امداد و حمایت بھی کر رہے ہیں، سعودی عرب سے بھی فنڈز  آ رہے ہیں اور عجیب بات ہے کہ جب شام پر امریکی حملے کی بات ہوئی تو سعودی عرب نے امریکی حکومت کو براہ راست یہ بات کہی کہ شام پر حملے میں جتنا بھی خرچہ آئے گا وہ سعودی حکمران دینے کیلئے تیار ہیں لیکن دوسری جانب روس اور چین کے دباﺅ کی وجہ سے امریکا اور اسکے اتحادی مجبور ہوئے اور شام پر حملہ نہیں کر سکے۔ 

اس ہی کا ایک نتیجہ آپ نے دیکھا کہ سعودی عرب نے غصے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کو لینے سے انکار کر دیا اور دوسرا یہ کہ امریکا اتنا پیچھے ہٹا کہ ایران سے بھی اپنے تعلقات قائم کرنے کی بات کی ہے، امریکی صدر اوباما نے ایرانی صدر ڈاکٹر روحانی کو ٹیلیفون بھی کیا، یہ بات بھی سعودی عرب کو پسند نہیں آئی اور اس کے بعد آپ نے سعودی عرب کا ردعمل دیکھا کہ جو میں سمجھتا ہوں کہ انتہائی غیر منطقی ہے کہ اگر آپ کو سلامتی کونسل میں غیر مستقل نشست دی جا رہی ہے اور بہانہ یہ بنایا جا رہا ہے چونکہ اقوام متحدہ شام میں بشار حکومت کو ہٹانے کیلئے کچھ نہیں کر سکی، اس لئے ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔ تو محسوس یہ ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جو تبدیلی چاہنے والی قوتیں ہیں وہ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور وہ عناصر جو اس تبدیلی کو کچلتے ہیں انکے پیچھے آپ کو ایسی قوتیں نظر آتی ہیں جو بظاہر تو جمہوریت کا لبادہ اوڑھے ہوتی ہیں لیکن دراصل ان کا طرزعمل غیر جمہوری ہوتا ہے، مشرق وسطیٰ میں بارہا یہ دیکھ رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بھی اب تبدیلی آ رہی ہے، کچھ وقت یقینا لگے گا لیکن بیداری کا عمل ہمارے سامنے ہے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں ایک نیا مشرق وسطیٰ سامنے آنے والا ہے۔

اسلام ٹائمز: ابھی آپ نے حزب اللہ لبنان کے ہاتھوں اسرائیل کی شکست کی وجہ حزب اللہ کی آئیڈیالوجی قرار دی، تو کیا عرب ریاستیں بھی حزب اللہ کی آئیڈیالوجی کو اپنا کر امریکا اور اسرائیل کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ نہیں کر سکتیں؟
پروفیسر ڈاکٹر مطاہر احمد: بالکل کر سکتی ہیں۔ دیکھیں حزب اللہ کا سب سے بڑا credit تو یہ ہے کہ حزب اللہ عام آدمی کی آواز ہے۔ حزب اللہ کے پیچھے جو نظریہ ہے وہ ایک عام آدمی کا نظریہ ہے اور اس کی قیادت عام آدمی سے آ رہی ہے۔ وہ اپنے اندر قیادت تلاش کرتے ہیں، وہ یہ بات صرف کہتے نہیں ہیں بلکہ اپنے عمل سے بھی ثابت کرتے ہیں تبھی اسرائیل کی طاقت کا حزب اللہ لبنان کے جوانوں نے 33 روز تک مقابلہ کیا جبکہ حزب اللہ کی سپورٹ کی بات کریں تو انہیں صرف لوگوں کی اخلاقی حمایت حاصل تھی لیکن اپنی بہتر حکمت عملی اور نظریاتی عزم کی بنیاد پر انہوں نے اسرائیل کو جنگ میں شکست دی جبکہ ماضی میں تین عرب اسرائیل جنگیں ہو چکی ہیں، ان کے نتائج دیکھیں اور 2006ء کے اسرائیل و حزب اللہ جنگ کے نتائج دیکھیں تو آپ کو صورتحال بہت واضح نظر آئے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کی جو تنظیمیں ہوتی ہیں جو عوام کے اندر سے ابھار لے کر اٹھتی ہیں، جن کا نظریہ بالکل واضح ہوتا ہے، عزم و حوصلہ کے ساتھ ان کی قیادت آگے بڑھتی ہے، تو یقینا یہی وہ قوتیں ہیں جو آپ کو مستقبل کی نوید دے رہی ہوتی ہیں۔ حزب اللہ جیسی تنظیمیں اپنی خودمختاری پر کوئی سودے بازی نہیں کرتیں، جو بات بھی کرتی ہیں وہ بالکل میرٹ کی بنیاد پر کرتی ہیں۔ ایسی تنظیمیں اگر آپ کے بھی بنتی ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک بہتر مستقبل ہمیں آگے نظر آتا ہے۔ اس وقت خطے میں جو عوامی قوتیں کہلاتی ہیں حزب اللہ لبنان ان کی نمائندگی کر رہی ہے اور یہ جو عرب ریاستیں اور بادشاہتیں ہیں، خاندانوں کی حکومتیں ہیں، جن کے پاس نہ عوام کی تائید و حمایت ہے، ان کے پاس صرف اور صرف پیسہ اور طاقت ہے جن کی بنیاد پر وہ اپنی عوام کو کچلتی ہیں۔ جب جمہوری و عوامی قوتیں سامنے آئیں گی تو ان قوتوں کی پسپائی ہو گی۔ یہی وہ وجہ ہے کہ یہ عرب ریاستیں اور بادشاہتیں حزب اللہ لبنان سے خوف زدہ ہیں اور حزب اللہ سے دشمنی میں وہ اس حد تک آگے چلی جاتی ہیں کہ یہ عرب ریاستیں ایسی قوتوں سے بھی تعلقات قائم کر لیتی ہیں جو حزب اللہ کی دشمن ہیں، میرا اشارہ اسرائیل اور امریکا کی طرف ہے۔ 
شام کا معاملہ ہمارے سامنے آیا ہے کہ جب شام نے دہشت گرد قوتوں کو پیچھے ہٹایا اور مغرب نے اس کے خلاف stand لیا تو یہی عرب ریاستیں بھی کھڑی ہو گئیں امریکا کے پیچھے شام کے خلاف۔ بہرحال خطے میں تبدیلی کی خواہاں جو جمہوری قوتیں ہیں، جو عوام کی بات جو بات کر رہی ہیں ان خلاف بھی یہ عرب ریاستیں نظر آتی ہیں۔

اسلام ٹائمز: امریکا کا دعویٰ تھا کہ وہ دو ہفتے کے اندر شام کی بشارالاسد حکومت کو گرا دے گا، مگر دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اسے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کی نظر میں شام میں امریکی پسپائی کی وجہ ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر مطاہر احمد: دیکھیں سب سے بڑی جو وجہ ہے وہ شام کی بشارالاسد حکومت کے پیچھے روس اور چین کا ہونا ہے۔ اس وجہ سے شام مخالف قوتیں شام کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنا چاہ رہے تو مگر انہیں ناکامی ہوئی۔ اس کے علاقہ بشار حکومت کے اتحادی لبنان میں موجود ہیں، ایران اس کا اتحادی ہے۔ بہرحال شام کو سفارتی سطح پر تنہا نہیں کیا جا سکا۔ دوسری وجہ خود شام کی مسلح افواج ہیں جو بڑے جدید اسلحہ سے بھی لیس ہے اور اس کی باقاعدہ تربیت بھی ہوئی وی ہے، یہ تربیت اس زمانے سے ہوئی ہے جب سوویت یونین موجود تھا۔ تیسرے وجہ یہ ہے کہ شام کی عوام میں یہ بھی ادراک ہے کہ اگر بشار الاسد کی حکومت کا اگر خاتمہ ہوتا ہے تو اسکے بعد جو قوتیں شام میں برسر اقتدار آئیں گی وہ شام کو اسی طرف لے کر جائیں گی کہ جیسی صورتحال میں عراق و افغانستان میں نظر آتی ہے۔ عوامی تائید و حمایت بھی بشارالاسد کی حکومت کو حاصل ہے۔ تو یہ تین بڑی وجوہات ہیں جس کی بناء پر بشارالاسد کی حکومت شام میں قائم ہے۔ اس طرح شام کے معاملے میں امریکا کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ مجبور ہوا کہ اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرے۔

اسلام ٹائمز: کیا وجہ بنی کہ امریکا کے سب سے بڑے اتحادی برطانیہ سمیت مغربی ممالک نے شام پر حملے کے معاملے پر اسکا ساتھ نہیں دیا؟
پروفیسر ڈاکٹر مطاہر احمد: بہت مختصر اور واضح وجہ ہے کہ 11/9 کے بعد مغربی ممالک کسی نئے محاذ پر نہیں جانا چاہتے جبکہ ابھی بھی افغانستان کا معاملہ ختم نہیں ہوا ہے، پھر عوامی سطح پر بھی بہت زیادہ اس کی مخالفت کی گئی۔ دوسری بات یہ کہ مغربی ممالک کا پورا ویلفیئر کا نظام تہہ و بالا ہو گا ہے، جنگوں میں خرچ ہونے والے وسائل کی وجہ سے مغرب کی اقتصادیات کو شدید ترین نقصان پہنچا ہے، اب وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کچھ وقت ملے اور وہ دوبارہ اپنے نظام کو بہتر بنائیں اور عوام میں پھر سے مقبول ہوں۔ خود امریکا دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا شام کے مسئلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا۔
خبر کا کوڈ : 323857
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب