0
Monday 29 Apr 2013 10:30

حالیہ دھماکوں کے سبب کراچی میں 90 فیصد انتخابی مہم شدید متاثر

حالیہ دھماکوں کے سبب کراچی میں 90 فیصد انتخابی مہم شدید متاثر
کراچی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی دفاتر، کارنر میٹنگز پر ہونے والے دھماکوں اور بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے سبب شہر میں 90 فیصد انتخابی مہم شدید متاثر ہوئی ہے اور شہر میں ہونے والے دھماکوں کے سبب انتخابی سرگرمیاں دیکھنے میں نہیں آ رہی ہیں۔ شہر میں خوف و ہراس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور عوام میں عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ سیاسی قائدین اور عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کئے جائیں تاکہ انتخابی مہم پرامن ماحول میں چلائی جا سکے اور 11 مئی کو عوام بلاخوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ کراچی میں رواں ہفتے کے دوران ایم کیو ایم کے تین دفاتر کے باہر بم دھماکے ہوئے ہیں، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے امیدواروں کی کارنر میٹنگز کو بھی دہشت گردوں نے دھماکوں کا نشانہ بنایا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں ان تین بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم شدید متاثر ہوئی ہے اور ایم کیو ایم اور اے این پی پہلے ہی اپنے انتخابی دفاتر بند کر چکی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی بھی انتخابی سرگرمیاں دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے۔
 
شہر کے مختلف مقامات پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور امیدواروں کے ناموں کے پینا فلیکس اور پمفلٹ تو آویزاں ہیں لیکن ان تینوں جماعتوں کے امیدوار عملی طور پر اپنی انتخابی مہم سکیورٹی خدشات کے سبب چلا نہیں پا رہے ہیں اور شہر میں متواتر دہشت گردی کے واقعات کے سبب خوف و ہراس کی فضاء قائم ہے اور شہر میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات نے شہر پر شدید اثرات مرتب کئے ہیں۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن واسع جلیل کا کہنا ہے کہ جمہوریت پسند اور دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنے والی سیاسی قوتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور شہر میں مسلسل بدامنی کے واقعات ہمیں انتخابات سے دور رکھنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم انتخابات میں ہر صورت حصہ لے گی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانا اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا نگراں حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
 
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری بشیر جان نے کہا کہ مومن آباد میں گذشتہ دو روز قبل دہشت گردی کا واقعہ ہمیں انتخابی مہم سے دور رکھنے کی سازش ہے لیکن ہم جمہوری انداز میں گھر گھر جا کر عوام سے رابطے رکھیں گے اور انتخابات میں ہر صورت حصہ لیں گے۔ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ لیاری کے علاقے کمہار واڑہ میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی کارنر میٹنگ پر حملہ پیپلز پارٹی کے خلاف سازش ہے۔ دہشت گردوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کسی صورت میں جمہوریت دشمن قوتوں کو اقتدار پر قابض نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتخابات میں لازمی طور پر شرکت کرے گی عوام کی طاقت سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شکست دیں گے۔ دوسری جانب عوام کا کہنا ہے کہ کراچی میں مسلسل دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے عوام میں عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ حکومت کراچی کے حالات پر رحم کرے اور امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے مربوط اقدامات کئے جائیں۔ 

واضح رہے کہ شہر میں بدامنی میں اضافے کے سبب انتخابی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ تین بڑی سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اب ان جماعتوں کے امیدوار گھر گھر جا کر عوام سے رابطہ کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا، موبائل میسجز اور پمفلٹ تقسیم کرکے عوام سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے۔ شہر میں بم دھماکوں اور ہلاکتوں کے خلاف تیسری مرتبہ یوم سوگ کے باعث کاروبار بند ہونے کے باعث انتخابی میٹریل شائع کرنے والے پرنٹنگ پریس سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں میں شدید بےچینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ انتخابی میٹریل بروقت نہ ملنے سے ان کی انتخابی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 258947
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب